سورج کی شعاؤں کو گرفتار کر کے بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ

سورج کی شعاؤں کو گرفتار کر کے بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ
سورج کی شعاؤں کو گرفتار کر کے بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ

  

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

غیر روایتی ذریعے سے توانائی کے حصول کی جانب دوسرا قدم رکھ دیا گیا ہے۔ پہلا قدم جھمپیر میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا ہے۔ اب چولستان کے صحرا میں سورج کی شعاؤں کو گرفتار کرکے ان سے ایک سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اگلے دو برسوں میں مزید 900میگا واٹ بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی جائیگی۔ آج سے تین چار عشرے پہلے پاکستان کے بعض لائق سائنسدانوں نے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا سوچا تھا، ان میں ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عثمانی بھی تھے لیکن اس وقت ہم نے ان کی آواز ہوش پر کان نہ دھرے۔وجہ غالباً یہ تھی کہ بجلی وافر تھی،لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی تھی،بجلی کی ٹرینیں چلانے کے منصوبے بن رہے تھے۔لاہور سے خانیوال تک ریلوے ٹریک پر بجلی کی لائنیں اربوں کی لاگت سے بچھائی گئیں۔اگلے مرحلے میں یہ لائنیں خانیوال سے آگے لے جائی جانی تھیں اورپھر مرحلہ وار یہ سلسلہ کراچی تک دراز ہونا تھا لیکن ہم خانیوال تک لائنیں بچھا کر ہی تھک ہار کر بیٹھ گئے ۔بجلی سے چلنے والے انجن درآمد کئے گئے۔ کچھ عرصے کے لئے ٹرینیں چلائی بھی گئیں۔ہم بجلی کی ٹرینیں چلانے کی طرف کیوں راغب ہوئے ؟ وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ ایندھن (ڈیزل)درآمد ہوتاہے اوربجلی ہم اپنی بناتے ہیں، اس وقت تک بجلی سستی بن رہی تھی اور زیادہ تر پانی سے بنتی تھی، منگلا ڈیم کے بعد تربیلا ڈیم بھی بن چکا تھا ،ایک چھوٹا ڈیم ورسک کے نام سے پشاور کے نواح میں ان دونوں سے بھی پہلے بن چکا تھا، بجلی کی طلب کم تھی، ابھی ہم نے مہنگے درآمدی ایندھن سے بجلی بنانے کاپرتعیش راستہ اختیار نہیں کیا تھا،کہا جا تا تھا کہ ہم سستی بجلی بناتے ہیں،اس لئے بہتر ہے انجن (اورٹرینیں)بھی بجلی سے چلائیں۔چنانچہ یہ راستہ اختیار کیاگیالیکن جلد ہی ان چراغوں میں روشنی نہ رہی۔بجلی بتدریج مہنگی ہونا شروع ہوگئی،آئی پی پیزمہنگی بجلی فروخت کرنے کے لئے میدان میں آگئے۔انہوں نے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان کو فروخت کرنا شروع کر دی اورہوشیاری کے ساتھ ایسے معاملات حکومت کے ساتھ کئے گئے جس میں منافع آئی پی پیز کا اور نقصان حکومت کا، ایسے میں بجلی کی ٹرینیں کون چلاتا؟پہلے بجلی والے انجن کھڑے کھڑے سکریپ ہونا شروع ہوئے پھر بجلی کی تاریں چوری ہونے کا سلسلہ چلا،اوراب خانیوال تک کہیں کہیں تاریں لٹکی نظرآجاتی ہیں جن سے پتہ چلتاہے کہ کبھی اس روٹ پر بجلی کی ٹرین چلا کرتی تھی۔جب مہنگی بجلی کی گنگا میں ہزاروں لوگ ڈبکیاں مار رہے تھے ایسے میں شمسی توانائی کی طرف کس کا دھیان جاتا؟چنانچہ کہا گیا کہ اس کے انسٹرومنٹ بہت مہنگے ہیں۔حالانکہ یہ ون ٹائم انوسٹمنٹ ہے اور لائف ٹائم استفادہ ہے، لیکن اب جب دس پندرہ برسوں میں توانائی کے بحران نے قوم کی چیخیں نکال دی ہیں توہمیں متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کا ہوش آیاہے، اس وقت بجلی مہنگی بھی ہے اور طلب کے مطابق دستیاب بھی نہیں ہے ایسے میں حکومت نے ہواؤں سے بجلی پیدا کرنے کا آغاز کیا ہے تو چولستان میں شمسی توانائی کے منصوبے کاآغاز کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس کام کا بیٹرہ اٹھایا اور اسے پنجاب حکومت نے ا پنے وسائل سے مکمل کرلیا کہ سرمایہ کار اس جانب راغب نہیں ہو رہے تھے ۔سنا ہے اب وہ بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے غور کر رہے ہیں۔

پاکستان پر سورج کی شعائیں اپنی روشنی بارہ مہینے بکھیرتی ہیں،ان شعاؤں کے ذریعے ہم اپنی ضرورت کی بجلی آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں لیکن جب ہماری توجہ اس جانب دلائی جا رہی تھی تو ہم نے یہ آواز نہ سنی۔ بہر حال اب اس کا آغاز ہوا ہے تو آنے والے دنوں میں بہتری کی امید ہے۔ بہاول پور میں جو بجلی شمسی توانائی کے ذریعے پیدا ہوگی وہ تو دو ڈھائی برس میں نیشنل گرڈمیں شامل ہو جائیگی لیکن چھوٹے پیمانے پر نئی بننے والی کالونیوں کو شمسی توانائی سے بجلی مہیا کرنے کا پابند کر دیا جائے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ نئی آبادیوں کو لیسکو وغیرہ کی بجلی پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس شعبے میں تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرکے اپنی ضرورت کی بجلی پیدا کریں گے۔ کئی ملکوں میں حکومت اس شعبے میں قرضوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ لوگوں کو شمسی توانائی کے یونٹ لگانے کے لئے قرضے دیتی ہے اور ان سے فالتو بجلی بھی خرید لیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اس جانب راغب ہو رہے ہیں ، یہ تجربہ یہاں بھی کیا جا سکتاہے۔پنجاب کی حکومت نے بہاولپورمیں100میگاواٹ کا شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا جو پلانٹ لگایا ہے ایسے پلانٹ اگر دوسرے صوبوں یا دوسرے شہروں میں بھی لگادئیے جائیں تو بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو جائے گی۔

سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ یونیورسٹیوں اور صنعتوں میں تعاون بڑھایا جائے جس طرح صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں یہ تعاون باقاعدہ ایک منصوبے کی صورت میں موجود ہے ۔ صنعتوں کے لئے ماہر افراد یونیورسٹیوں کوفراہم کئے جاتے ہیں اور صنعتیں قابل طلباء کو ان کی تعلیم کے لئے وسائل مہیا کرتی ہیں، پاکستان میں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : تجزیہ