کراچی

کراچی

سندھ کے حوالے سے موضوع بحث موضوعات میں سے تو ایس ایس پی راؤ انوار کی پریس کانفرنس ہے اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کے معتمد ترین دوستوں میں سے ایک سابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار علی مرزا کی جاری میڈیا جنگ ہے۔ ذوالفقار مرزا کی دشمنی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ ذوالفقار مرزا کہہ رہے ہیں مجھے ’’پیغام‘‘ ملا ہے کہ قبر ایک ہے اور آدمی دو ۔آصف علی زرداری کی کوشش ہے میں اس قبر میں جاؤں اور میری کوشش ہو گی کہ آصف علی زرداری جائے‘‘ دیکھئے قبائلی انداز کی یہ دشمنی کہاں جا کر ختم ہوتی ہے؟ اور کس طرح ختم ہوتی ہے۔ ذوالفقار مرزا، ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اور کس کے کہنے پر کر رہے ہیں؟ اس بارے میں ’’میڈیا ٹاک شوز‘‘ میں اتنا کچھ آ چکا ہے کہ اس میں اضافے کی گنجائش کم ہے ذوالفقار مرزا کے حامیوں کی طرف سے بدین تھانہ پر ہنگامہ آرائی کے واقعہ سے لڑائی کی شدت میں عمل اور ردعمل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایس ایس پی راؤ انوار کے تبادلہ کی تازہ خبر یہ ہے کہ ان کو ذوالفقار مرزا کو قابو کرنے کے لئے بدین میں پوسٹ کر دیا گیا ہے۔ادھر ذوالفقار مرزا نے بھی از خود گرفتاری کی پیشکش کی ہے یہ سطور شائع ہو نگی تو گرفتاری کے حوالے سے سارا منظر واضح ہو چکا ہوگا۔ خدا سب کو اس طرح کی دوستی اور دشمنی سے محفوظ رکھے۔

’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اسکا آسماں کیوں ہو‘‘

اب بات کرتے ہیں ایس ایس پی راؤ انوار کی پریس کانفرنس کی، راؤ انوار کی 1992ء اور اس کے بعد ہونے والے آپریشن میں جو شہرت رہی اور ہے۔ وہ اظہر من الشمس ہے۔ اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے جن دو کارکنان کی گرفتاری اور ان کے بھارت میں تربیت لینے کے اعترافی بیانات میڈیا کو سنوائے ہیں اب عدالت میں بھی اپنے اعترافی بیانات پر قائم رہیں گے؟ یا نہیں؟ اس کا انتظار کرنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے راہنماؤں کے مطابق اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہوگا۔

ایس ایس پی راؤ انوار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش کریں گے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر عدالت کا جو فیصلہ آئے گا، وہی حتمی ہوگا۔ ایم کیو ایم کا خود بھی مطالبہ ہے کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پریس کانفرنس کے بجائے عدالت میں ثابت کریں۔ البتہ ایم کیو ایم کو تحریک طالبان سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا اور پابندی کا مطالبہ تو تب ہی پورا ہوگا کہ جب حکومت اس معاملے کو سپریم کورٹ لے کر جائے گی۔ راؤ انوار کے مطالبہ سے تو یہ کام نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی غیر مجاز افسر کو ایسا مطالبہ پریس کانفرنس کے ذریعہ کرنا چاہئے تھا۔ یہ کام وزیر داخلہ کا ہوتا ہے سندھ اسمبلی میں حکومت نے ایم کیو ایم پر حزب اختلاف کی طرف سے متحدہ پر پابندی لگانے کی قرارداد پیش نہیں ہونے دی جس کا مطلب واضح ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری جناب الطاف حسین کے ساتھ کھڑے رہنے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہیں۔ مگر ان دونوں کے بعض ناقدین حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جس طرح جناب الطاف حسین نے فوج کے خلاف اپنے نازیبا تندو تیز بیان پر معافی مانگ لی ہے اسی طرح اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں سیاسی مصلحت کے تحت کسی دوسرے قسم کے فیصلے کرنے میں بھی دیر نہ لگائیں۔ اس بحث سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ آئین پاکستان نے کسی فرد یا کسی جماعت کو غدار قرار دینے کا ایک طریقہ کار طے کر رکھا ہے جس پر عمل کرنا پڑے گا جس کے لئے حکومت کو مذکورہ فرد یا جماعت کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا پڑتا ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے تین جماعتوں پر پابندی لگائی پہلی پابندی اشترکی نظریات کی علمبردار ’’پاکستان کمیونسٹ پارٹی، دوسری جماعت اسلامی پاکستان پر تھی۔ تیسری جماعت تھی نیشنل عوامی پارٹی۔ یوں تو 1958ء کے مارشل لانے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی تو ملک کی پہلی فوجی حکومت کے سربراہ جنرل ایوب خان کی سول حکومت نے 1963ء میں جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے کر اس کی قیادت کو گرفتار کر لیاتھا۔ 1962ء کے دستور کے طریقہ کار کے مطابق جماعت اسلامی نے عدالتوں میں اسے چیلنج کیا اور سپریم کورٹ سے اپنے اوپر لگائے تمام الزامات کو غلط ثابت کرا کے اپنے خلاف پابندی کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دلوایا۔ اور گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دلا کر باعزت رہائی حاصل کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فل بنچ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس کارنیلس کی سربراہی میں جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف اور جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ دیا تھا حکومت کی طرف سے ملک کے نامور قانون دان جناب منظور قادر (مرحوم) نے پیروی کی تھی۔ جبکہ جماعت اسلامی کا دفاع نامور قانون دان اے کے بروہی (مرحوم) نے کیا تھا۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے 1973ء کے دستور میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق نیشنل عوامی پارٹی (نیب) پر پابندی لگا کر کیس کا ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا واضح رہے کہ جماعت اسلامی پر پابندی کے وقت حکومت کو از خود عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے عدالت میں جماعت اسلامی نے چیلنج کیا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی پر بھٹو حکومت نے پابندی لگائی تھی اور نیب کی پوری قیادت کو بھی گرفتار کر کے حیدر آباد جیل میں ان پر غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔خان عبدالولی خان کی گرفتاری کے بعد حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں اپنا قائد مفتی محمود (مرحوم) کوبنایا تھا انہی کی قیادت میں بھٹو حکومت کے خلاف ’’پی این اے‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ بنا تھا۔

حزب اختلاف کے نو جماعتی اتحاد نے 1977ء کا الیکشن لڑا تھا اور بھٹو حکومت کے خلاف دھاندلی کا الزام لگا کر ملک گیر تحریک چلائی تھی۔ بدقسمتی سے بھٹو اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد اعلان میں تاخیر کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء لگ گیا۔

بھٹو حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کا جو کیس سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کو جائز قرار دے کر پابندی کے فیصلے کو بحال رکھا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کے سربراہ سردار شیر باز خان کی سربراہی میں این۔ ڈی۔ پی (نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی) کے نام سے نئی پارٹی وجود میں آئی تھی جس میں بیگم خان عبدالولی خان سمیت پوری نیپ شامل ہو گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نیشنل عوامی پارٹی پر آج بھی پابندی ہے۔ البتہ بغاوت کا مقدمہ جنرل ضیاء الحق نے واپس لے کر ساری قیادت کو رہا کر دیا تھا جو ذوالفقار علی بھٹو نے بنوایا تھا جس کے بعد خان عبدالولی خان سمیت پوری قیادت پر انتخاب میں حصہ لینے پر کسی طرح کی کوئی پابندی بھی نہیں رہی تھی۔ جناب وزیر اعظم میاں نوازشریف اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے الطاف حسین کی طرف سے معافی مانگنے کے عمل کو اچھا قدم قرار دے کر بات ختم ہونے پر جو اتفاق کیا ہے۔اور سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد پیش نہ ہونے سے واضح ہو گیا ہے وہ ایم کیو ایم کے خلاف پابندی لگوانے عدالت میں نہیں جائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1