سنی لیون اور پاکستانی سکول ، شکوے بھی آگئے

سنی لیون اور پاکستانی سکول ، شکوے بھی آگئے
سنی لیون اور پاکستانی سکول ، شکوے بھی آگئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ۢنمل نامہ(محمد زبیراعوان)دیہاتی بھی بڑے سادہ طبیعت لوگ ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہوجاتے ہیں اور اسی لحاظ سے پریشان بھی جلدی ہوجاتے ہیں، مقامی اثر و رسوخ یا خوف تنہائی کی وجہ سے کسی خرابی یا مسئلہ کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی کتراتے ہیں۔ اگر کوئی اور اٹھائے تو ہمدردی کی وجہ سے اسے بھی ”نامعلوم“ خدشات کی وجہ سے سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آکسفورڈ انٹرنیشنل کے نام سے میانوالی کی وادی نمل میں موجود سکول میں سابق فحش اداکارہ کے گانے پر معصوم بچیوں سے رقص کرانے کے خلاف راقم نے قلم اٹھائی تو مختلف ذرائع سے بچوں کے ورثاءنے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تقریب پر بھی نالاں تھے مگر معاملے کی نشاندہی پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔ میرے ایک دوست اور ہم نوالہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ سنی لیون کے ماضی سے بخوبی واقف ہیں مگر اس سکول کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے لئے کوئی مناسب ادارہ ہی موجود نہیں، سرکاری اداروں میں ٹیچر بچوں پر توجہ ہی نہیں دیتے۔

ان سے گزارش ہے کہ اگر آپ سنی لیون کے گانے پر اپنے بچوں کے رقص کو اچھا نہیں سمجھتے تو اس کا مطلب فحش اداکارہ سے منسوب گانے پر بچوں کا رقص کم از کم اخلاقی برائی تو ضرور ہے۔ برائی برائی ہوتی ہے آپ یہ کہہ کر اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دے سکتے کہ یہ برائی کم ہے اور اس کی مناسبت سے اس کا فائدہ زیادہ ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اچھائی کی نسبت برائی جلدی پنپتی ہے۔

تقریباً اسی طرح کا موقف نمل یوتھ ایسوسی ایشن کے سابق صدر ظفر اقبال کا بھی تھا اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ سکول میں اچھے کام بھی ہیں لیکن اُن کا ذکر نہیں کیا گیا اور یہ ناانصافی ہے۔ اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عارنہیں کہ صحافت کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ دونوں اطراف کا موقف ہونا چاہیے۔ سکول میں نصابی سرگرمیوں کا ذکر کرنا شاید ضروری نہیں تھا کیونکہ سکول کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں ایک مخصوص خاکہ ابھرتا ہے جس میں ایک ٹیچر اور سامنے بچے موجود ہوتے ہیں البتہ یہ تصور ہر کسی کے ذہن میں مختلف ہوتا ہے کیونکہ کچھ لوگ ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے کا آغاز کرتے ہیں تو کوئی کسی اعلیٰ ادارے سے اپنے تعلیم شروع کرتاہے ۔

جہاں تک معاملات سکول پرنسپل کے ہیں تو اُن سے رابطہ کرنا بھی جان جوکھوں کاکام ہے، کئی بچوں کے ورثاءاور کچھ متعلقہ لوگوں سے سکول پرنسپل کا موبائل نمبر لینے کی کوشش کی گئی لیکن سعی لاحاصل۔۔۔ جواباً سکول کے چوکیدار سے رابطے کی نصیحت ہی ملی۔

سنی لیون اور پاکستانی سکول کی تقریب سے متعلق گذشتہ بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

گزشتہ بلاک کا مقصد کسی کی دل آزاری یا سکول بند کرانا نہیں بلکہ اصلاح تھا اور اس ذہنیت کی نشاندہی کرنا ضروری تھی جس نے ’سنی لیون‘ کو ہمارے سانحہ پشاور کے شہداءکے برابر لاکھڑا کیا۔ خدارا کسی بھی برائی کی نشاندہی ہونے پرنالاں ہونے کی بجائے برے کو برا کہنے کی ہمت کریں اور” یہی ایمان کی کمزوری ترین علامت ہے “۔ یہاں یہ امر بھی واضح کرتے چلیں کہ آپ کا موقف پیش کرنے کیلئے بھی یہ پلیٹ فارم حاضر ہے ۔

مزید : بلاگ