سلمان خان کیس کے بارے میں وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

سلمان خان کیس کے بارے میں وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں
سلمان خان کیس کے بارے میں وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

  

ممبئی (نیوز ڈیسک) بالی ووڈ سپر سٹار سلمان خان کو آج (بدھ) ایک بھارتی سیشن کورٹ نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 304 کے تحت 5 سال قید کی سزا سنادی۔ کروڑوں مداحوں کے ہیرو اور بالی ووڈ کے بے تاج بادشاہ سلمان خان نے چمکتے دمکتے ستارے سے سزا یافتہ مجرم بننے تک کا افسوسناک سفر کیسے طے کیا، اہم ترین تفصیلات پیش خدمت ہیں۔

٭ حادثہ

28 ستمبر 2002ءکو سلمان خان کی سفید رنگ کی ٹیوٹا لینڈ کروزر باندرہ کے علاقے میں بے قابو ہوکر فٹ پاتھ پر سوئے بے گھر افراد کو روندتی ہوئی امریکن ایکسپریس بیکری میں جاگھسی۔ اس حادثے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 4زخمی ہوئے۔

٭ متاثرین

سلمان کی بے قابو گاڑی سے کچلے جانے والوں میں سے ایک شخص کا نام نصراللہ شریف تھا جو اس حادثے میں جاں بحق ہوگیا۔ چار افراد عبدالشیخ، مسلم شیخ، منو خان اور محمد کلیم حادثے میں زخمی ہوئے۔

مزیدپڑھیں:ہٹ اینڈ رن کیس،سلمان خان مجرم قرار،عدالت نے پانچ سال قید کی سزا سناد ی

٭ استغاثہ کا موقف

سلمان خان پر لگائے گئے الزامات میں کہا گیا کہ وہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کررہے تھے۔ ان کے جائے وقوعہ سے فرار نے ان کے مجرم ہونے کے تاثر کو تقویت دی۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سلمان خان کی گاڑی میں ایسی کوئی خرابی واقع نہ ہوئی تھی جو حادثے کا سبب بنتی۔

٭ صفائی کا موقف

وکلاءصفائی کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ حادثے کے وقت سلمان خان کے ڈرائیور اشوک سنگھ گاڑی چلارہے تھے۔ سلمان کے نشے میں دھت ہونے کے الزامات کو یہ کہہ کر رد کیا گیا کہ غالباً ان کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کرنے والا ہسپتال کا ملازم نشے میں تھا جس نے غلط رپورٹ تیار کی۔ وکلاءنے دلائل میں کیمیکل اینالسٹ کی مہارت پر بھی سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ خون کے نمونوں میں ردوبدل کیا گیا تھا۔

٭ سزا

عدالت نے سلمان خان پر لگائے گئے آٹھوں الزامات کو درست قرار دیا جن میں غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ اور لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کے الزامات بھی شامل تھے۔ عدالت نے سلمان خان کو انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 304 کے تحت 5سال قید کی سزا سنادی۔ اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

٭ کچھ اور مقدمات

سلمان خان کو ایک مقدمے میں 5سال قید کی سزا سنائی گئی ہے لیکن یہ ان کے خلاف واحد مقدمہ نہیں تھا۔ جودھ پور میں ان کے خلاف مزید دو مقدمات زیر التوا ہیں جن میں سے ایک آرمز ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جبکہ دوسرا وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ سلمان خان اور چند دوسرے بالی ووڈ سٹارز پر 1998ءمیں کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے الزام کے تحت یہ مقدمات قائم کئے گئے۔

مزید : تفریح