چینی حکومت کا اپنے مسلمان شہریوں پر کڑا وار،مسلم دکانداروں کوحرام اشیاءفروخت کرنے کا حکم دیدیا

چینی حکومت کا اپنے مسلمان شہریوں پر کڑا وار،مسلم دکانداروں کوحرام ...
چینی حکومت کا اپنے مسلمان شہریوں پر کڑا وار،مسلم دکانداروں کوحرام اشیاءفروخت کرنے کا حکم دیدیا

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی صوبے سنکیانگ میں مقامی ویگر مسلمانوں کے خلاف حکام کی طرف سے سخت فیصلے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں اور ایک ایسے ہی تازہ ترین فیصلے میں مقامی دکانداروں اور ریسٹورنٹ مالکان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شراب اور سگریٹ لازمی طور پر فروخت کریں اور ان اشیاءکی واضح اور دلکش انداز میں تشہیر بھی کریں۔

مزیدپڑھیں:نیپال نے بھارت کے منہ پر ایک اور تھپڑ جٹر دیا

امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ نے ریڈیو فری ایشیاءکی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کاروبار بند کرنے اور سخت سزاﺅں کی دھمکی دی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق صوبہ سنکیانگ میں حکومت کے جابرانہ طرز حکمرانی کے خلاف سخت بے چینی پائی جاتی ہے جسے قابو کرنے اور تشدد کے واقعات کی روم تھام کے لئے حکومت کی طرف سے مغربی حصے میں متعدد سخت مہمات متعارف کروائی جاتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے سرکاری ملازمین اور ان کے بچوں کو مساجد میں جانے اور رمضان کے روزے رکھنے سے روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں جبکہ اس صوبہ میں متعدد جگہوں پر خواتین کے سکارف پہننے اور مردوں کے داڑھی رکھنے پر پابندی کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں۔

اخبار کے مطابق جنوبی سنکیانگ کے گاﺅں اکتاش میں کمیونسٹ پارٹی کے اہلکار عادل سلیمان نے ریڈیو فری ایشیاءکو بتایا کہ مقامی دکانداروں نے سال 2012ءمیں شراب اور سگریٹ کی فروخت بند کردی تھی جبکہ مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شراب نوشی اور سگریٹ نوشی سے توبہ کرلی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سنکیانگ کے حکام سگریٹ نوشی اور شراب نوشی نہ کرنے والوں کو مذہبی شدت پسند سمجھتے ہیں اور مذہبی جذبات کے فروغ کو دیکھتے ہوئے نئی پابندیوں کا فیصلہ کیا گیا جس کی وجہ سے علاقے کا استحکام متاثر ہورہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام اس علاقے میں مذہب کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور نئی پابندیاں بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔

مزید : انسانی حقوق