ہائی کورٹ نے اشیاءخوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے سرکاری اقدامات کی ضلع وار رپورٹ طلب کرلی

ہائی کورٹ نے اشیاءخوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے سرکاری اقدامات کی ...
ہائی کورٹ نے اشیاءخوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے سرکاری اقدامات کی ضلع وار رپورٹ طلب کرلی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ہر ایک ضلع میں اشیاءخوردونوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے کئے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔مسٹر جسٹس محمدفرخ عرفان خان نے یہ حکم جوڈیشل ایکٹوازم کی درخواست پر جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے اقدامات نہیں کررہی ہیں ۔قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے مختلف قانون نافذ العمل ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ۔1977ءکے قانون کے تحت حکومت کو اشیاءکی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے جس کا مقصد شہریوں کو سستے داموں کھانے پینے کی اشیاءبہم پہنچانے کے آئینی حق کا تحفظ کرنا ہے لیکن شہریوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کردیا گیا ہے ،ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان نے عدالت میں پیش ہوکر رپورٹ دی کہ 2012ءاور2013ءکے دوران پرائس کنٹرول پالیسی کی خلاف ورزی پر ایک ہزار آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ جولائی 2014ءسے اپریل 2015ءکے دوران 7ہزار541شہری گراں فروشی پر گرفتار کئے گئے ۔خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے 15روپے فی کلو قیمت میں کمی کی گئی ۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈی سی او کی رپورٹ صرف لاہور میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق ہے ،دیگر اضلاع میں تو صورتحال اس سے بھی بدتر ہے ۔انہوں نے استدعا کی کہ تمام اضلاع سے متعلق رپورٹس طلب کی جائے ۔فاضل جج نے اس استدعا کو معقول قرار دیتے ہوئے منظور کرلیا اور چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ ہر ایک ضلع میں اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کیا جائے ۔

مزید : لاہور