ورکرز ویلفیئر بورڈ پنجاب کا میٹرک ٹیک پر ظلم

ورکرز ویلفیئر بورڈ پنجاب کا میٹرک ٹیک پر ظلم
 ورکرز ویلفیئر بورڈ پنجاب کا میٹرک ٹیک پر ظلم

  



پوری دُنیا میں ٹیکنیکل تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ جدید دُنیا کے تقاضوں پر پوری اتر سکے ۔اب کلریکل آسامیاں آبادی کے لحاظ سے روز بروز کم ہوتی جا رہی ہیں، اسی لئے تعلیم کے نئے نئے شعبوں کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس سے نہ صرف تعلیم کو فروغ حاصل ہو رہا ہے بلکہ ہر شعبے کے لئے ہُنرمند افرادی قوت بھی مل رہی ہے۔ جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں وہاں دفتری کلرک پیدا کرنے کے ساتھ ہُنر مند افرادی قوت تیار کرنے پر بہت وسائل صرف کئے جا رہے ہیں امریکہ، جرمنی، فرانس، چین، برازیل، روس،بھارت، جاپان میں ہُنرمند افرادی قوت کی تیاری پر کل تعلیمی بجٹ کا نصف کے قریب صرف کیا جا رہا ہے اور اِیسے اساتذہ کو تنخواہ،رہائش اور ٹی اے ڈی اے میں دوسرے اساتذہ پر فوقیت حاصل ہے۔ موجودہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ جب وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت تھے تو انہوں نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے سکولوں میں میٹرک ٹیکنیکل کا آغاز کیا تھا، جس میں نویں جماعت سے ہی الیکٹریشن، پلمبر، ویلڈر، کمپیوٹر، بیوٹیشن، ایمبرائیڈری، ٹیلرنگ جیسے کئی مضامین کا آغاز کیا گیا،جس کے لئے ابتدامیں مشکلات سامنے آئیں، لیکن سید خورشید شاہ نے محنت و ہمت سے کام لے کر اس کام کی تکمیل کے لئے اساتذہ ڈھونڈے اور نامساعد حالات کے باوجود کام شروع کرادیا گیا، جس کا بہت اچھا ریسپانس ملا۔ بالخصوص فیکٹری مزدوروں کے لئے جیسے انعام ہو۔ انہوں نے دھڑا دھڑ بچے داخل کرائے۔بچیوں نے ریکارڈ داخلے لئے، کیونکہ والدین کو اپنے بچوں اور بچیوں کا روشن مستقبل یقینی نظر آرہا تھا، اِس طرح میٹرک کے ساتھ میٹرک ٹیک، یعنی میٹرک وِد ٹیکنیکل کا سلسلہ چل پڑا۔

اٹھارویں ترمیم کے ذریعے محنت اور افرادی قوت کی وزارت صوبوں کو مل گئی، جس کی بنا پر ورکرز ویلفیئر فنڈکے ملازمین بھی صوبوں کے حصے میں آگئے۔ سندھ، خیبرپختونخوااور بلوچستان میں منصوبے کو اُس کی افادیت کے پیشِ نظر جاری رکھا گیا، لیکن پنجاب میں مصائب و آلام کا ایسا آغاز ہوا جو اب تک ختم ہونے میں نہیں آ رہا، جونہی ورکرز ویلفیئر فنڈ نے ملازمین پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سپرد کئے تو تبادلوں ،معطلیوں اور تنزلیوں کا سیلاب آگیا، جو بھی آفیسر آتا، آکر میٹرک ٹیک ملازمین کو ہراساں کرنا شروع کر دیتا، کوئی انھیں تخواہ بند کرنے کا کہتا، کوئی منصوبہ ہی ختم کر دینے کی تان اٹھاتا اسی طرح شکوک و شبہات کی فضا میں کام چلتا رہا۔ پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ نے میٹرک ٹیک ملازمین کی تنخواہیں بند کردیں، کئی ماہ تک افلاس کا شکار ہونے کے باوجود کام جاری رکھا گیا، یہاں تک کہ عید پر بھی دفتری بابوؤں کو رحم نہ آیا، جس کے دوران ایک دل خراش واقعہ پیش آیا، گوجرانوالہ سکول میں تعینات ایک ملازم کی بچی بیمار ہو گئی، اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے علاج نہ کرایا جا سکا ، یوں بچی نے ماں باپ کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دیدی اور والدین رونے کے سوا کچھ نہ کر سکے اور اپنی لختِ جگر کو خاموشی سے منوں مٹی تلے دفن کر آئے یہ واقعہ بھی افسران کے علم میں لایا گیا، لیکن بے حس لوگ حرکت میں نہ آئے۔ گویا خاک نشین رزق خاک ہی ہوتے ہیں، اِس لئے رنج محسوس کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسی سنگ دلی مہذب دنیا میں دکھائی جاتی تو انسانی حقوق کی تنظیمیں طوفان لے آتیں ،جس سے حکومتیں لرز جاتیں

لاہورکی سڑکوں پر میٹرک ٹیک کا عملہ احتجاج کرتا رہا۔تپتی دھوپ میں حواکی بیٹیاں اور آدم کے بیٹے چیختے چلاتے رہے، لیکن کہیں شنوائی نہ ہوئی، بلکہ انھیں دھمکایا جاتا رہا ،تنخواہ لے کر ملازمت چھوڑ جانے کا کہا جاتا رہا لیکن کون بے روزگار ہونا پسند کرتا ہے، کچھ ملازم خواتین تو بیوہ بھی تھیں، جن کا کوئی اور آمدنی کا ذریعہ بھی نہیں تھا اس لئے ملازمت جاری رکھنا ان کی مجبوری تھی، وگرنہ بچوں سمیت فاقے کرنا پڑتے، لہٰذا رسو ا ہو کر اور تذلیل کرا کر بھی ملازمت جاری رکھی گئی، جب کبھی تنخواہ ملی تو اس پر ہی صبر شکر کر لیا گیا۔ گزشتہ برس جولائی کے آغاز پر اچانک غیر منصفانہ فیصلہ کیا گیا اور بیک جنبش قلم میٹرک ٹیک ملازمین کی حاضریاں لگانی بند کر دی گئیں اور تنخواہ کے متعلق بھی جواب دے دیا گیا۔ اس سے قبل ہوشیاری یہ کی گئی کہ کچھ ملازمین کی فائلوں سے ایک آدھ سند یا تجربے کا سرٹیفکیٹ غائب کر دیئے گئے اور انہیں ملازمت سے نا اہل کردیا گیا، جس کسی کی اعلیٰ افسران تک رسائی ہو گئی، اس نے اپنا نام اہل لسٹ میں شامل کروا لیا جو صرف میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور کسی قسم کی اپروچ نہیں رکھتے، وہ نا اہل ٹھہرے۔ کئی ماہ تک امید و یاس میں تڑپنے کے بعد کچھ لو گ ہائی کورٹ گئے، جہاں آٹھ ہفتے میں متاثرہ ملازمین کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ کچھ ملازمین کو بلایا بھی گیا،لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق ہی رہا اور متاثرین حسرت و یاس کی تصویر بنے پریشان و سرگرداں ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے بارے میں عام طورپر مثبت آرا ہیں، انہیں لوگ درد مند دل کا مالک تصور کرتے ہیں، لیکن نہ جانے کیوں وہ بھی میٹرک ٹیک پر رحمدلانہ فیصلے سے گریزاں ہیں۔ کیا بیورو کریسی اتنی طاقتور اور منہ زور ہے، جس کے سامنے وزیراعلیٰ بھی بے بس ہیں یا مظلوم اور مجبور لوگوں کی آہوں و سسکیوں سے لاعلم ہیں ؟یا د رہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ دریائے نیل کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو قیامت کے دن مجھ سے باز پُرس ہوگی ۔یہاں تو ڈیڑھ سو سے زائد جیتی جاگتی انسانی زندگیوں کا سوال ہے، جن سے وابستہ دیگر اہلِ خانہ کو بھی شمار کر لیں تو تعداد ہزار سے زائد ہو جاتی ہے۔ پنجاب میں سرکاری ملازمین پر ظلم باعثِ حیرت ہے۔ اب تو نوازش علی جیسا شخص سیکرٹری لیبر ہے، جب وہ گجرات میں ڈی سی او تھے، اس حوالے سے میری ان سے اچھی یادیں ہیں، وہ کسی کے کام آنے کی کوشش کرتے ہیں،کیا انہوں نے بھی اچھے کام کرنے کی اپنی روایت ختم کر دی ہے، اگر ایسا نہیں تو وہ اب تک میٹرک ٹیک پر رحم دلانہ فیصلہ کیوں نہیں کر سکے۔ کب حرکت میں آؤ گے جب لوگ مرنے لگیں گے۔

مزید : کالم