محترم وزیرِ اعظم و وزیر اعلیٰ ، گوجرانوالہ التفا ت کا منتظر

محترم وزیرِ اعظم و وزیر اعلیٰ ، گوجرانوالہ التفا ت کا منتظر
 محترم وزیرِ اعظم و وزیر اعلیٰ ، گوجرانوالہ التفا ت کا منتظر

  

گوجرانوالہ کی شہرت کئی اسباب سے ہے۔یہ برصغیر کے اس خطے میں واقع ہے، جہاں کی زمین نہایت زرخیز اور موسم کاشتکاری کے لئے نہایت موزوں ہے۔ نہری اور زمینی پانی کی دستیابی کی وجہ سے ہر قسم کی کاشتکاری بہت آسان ہے ۔یہاں کی پیدا وار ملک بھر میں ہی نہیں، پورے برصغیر، بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہے اور استعمال کی جاتی ہے۔ خصوصا چاول کی تو دنیا بھر میں مانگ ہے ۔ یہاں کے چاولوں کی خوشبو اور لذت اپنی مثال آپ ہے ۔ شاید اجناس کی لذت کا اثر ہے یا موسموں کا کرشمہ کہ یہاں کے باسی نہایت خوش خوراک ہیں ۔ خوش خوراکی نے انہیں پہلوانی کے طر ف مائل کر دیا ہے اور یہ پہلوانی محض ایک شوق نہیں رہا، بلکہ پروفیشن بن چکا ہے ۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پہلوانوں نے اپنی زمین اور طاقت کا لوہا دنیا بھر سے منوا لیا ہے اوراسی شہر سے تعلق رکھنے والے پہلوان رستمِ زماں بھی قرار پا چکے ہیں ۔یہاں کے باسیوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو صدر پاکستان کے منصب تک جا پہنچے ۔ کئی اعلی بیورو کریٹ ، سفارت کار اور اعلی عدلیہ کے قابلِ فخر ججز کا تعلق بھی اسی شہر سے رہا ہے ۔ فلم او را سٹیج پر اس شہر کے باسیوں کی آج بھی حکومت قائم ہے ۔میں نام لکھنے سے گریز کر رہا ہو ں ، لکھنے بیٹھوں تو کالم نام لکھنے میں ہی تمام ہو جائے ۔ادب و صحافت کے میدان میں بھی اس شہر کے باسیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آج بھی ملک کے نامور ترین افراد میں شامل ہیں ۔

اس شہر کی اصل شناخت اس کی صنعت و تجارت ہے۔ گوجرانوالہ ایک بڑا صنعتی شہر ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے صنعت کار ، کاروباری حلقے اور شہری مل کر تقریبا 40 ارب روپے سالا نہ کا قومی خزانے میں اضافہ کرتے ہیں ۔ ایک چھوٹا سا شہر ہونے کی وجہ سے گوجرانوالہ کو اس کے باسیوں کی طرف سے محض ایک سال کے دیے گئے ٹیکسز صرف کر کے ہی سونے کا بنایا جا سکتا ہے ۔ مگر افسوس صد افسوس ! یہ شہر آج بھی موہنجوداڑوکے ’’ کھنڈرات‘‘ کو شرم دلاتا نظر آتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے دس برس میں اس شہر نے کچھ ترقی کی ہے مگر وہ ترقی لاہور کی نسبت اعشاریہ صفر کے قریب ہے۔اپنی علاقائی و زمینی اہمیت اور اپنے باسیوں کی ہنر مندی کی بدولت جو سہولتیں اس شہر کا حق تھیں یہ اب تک صحت و صفائی کی سہولتوں سے لے کر ترقیاتی کاموں تک ، ہر شعبہ میں اس شہر سے سوتیلا پن برتا گیا۔اس شہر کے موجودہ پارک اس قابل نہیں کہ شریف شہری اپنی فیملیز کے ساتھ وہاں جا سکیں۔اکثر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ ایک ہی بڑا سرکاری اسپتال ہے جو سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی افادیت کھو چکا ہے، لہٰذا لوگ نجی اسپتالوں سے مہنگا علاج کروانے پر مجبور ہیں ۔بڑے سرکاری تعلیمی ادارے بھی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہیں ،لہٰذا نجی تعلیمی ادارے من چاہے اور منہ مانگے اخراجات فیس اور دیگر مدوں میں وصول کر رہے ہیں اور شہری ادا کرنے پر مجبور ہیں ۔ وزیر آباد کے قریب کارڈیالوجی سنٹر ’’ مسلم لیگ (ق)‘‘ کے دور میں بنایا گیا تھا جو سیاست کی نذر ہو چکا ہے ۔ ائیرپورٹ تو خیر اس کے باسیوں کے خواب و خیال کا ہی حصہ ہے۔یہ مسائل تو بہت بڑے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لئے اربوں کھربوں روپے درکار ہیں ۔ میں یہاں چند ایسے مسائل کا ذکر کرنا چاہوں گاجو محترم وزیرِ اعظم اور محترم وزیرِ اعلی کی توجہ سے ہی حل ہو سکتے ہیں ۔ان مسائل کے بارے میں گوجرانوالہ کی ممتاز صنعتی ، تجارتی اور سماجی شخصیت جناب خواجہ شجاع اللہ اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ وہ سرکاری اور نجی تقریبات میں ان مسائل اور ان کا ممکنہ حل متعدد بار پیش کر چکے ہیں۔ ڈیوڑھا پھاٹک سے لیکر شیراں والا باغ پھاٹک تک ٹریفک کا مسئلہ سنگین ترین صورت حال اختیار کر چکا ہے ۔اس ڈیڑ ھ سے دو کلو میٹر فاصلہ کے درمیان چار پھاٹک ہیں ، جو بند ہوں تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں جی ٹی روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر دیتی ہیں ،چونکہ ایسی صورت حال دن میں کئی مرتبہ پیش آتی ہے، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ گوجرانوالہ کا درمیانی حصہ تقریبا سارا دن ہی مفلوج رہتا ہے ۔ان پھاٹکوں پر انڈر پاسز بنا کر ہی اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کیا جاسکتا ہے، جس سے ہر روز لاکھوں افراد کو مستقل اذیت سے نہ صرف نجات دلائی جا سکتی ہے، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کروڑوں روپے کی عوامی بچت بھی کی جا سکتی ہے ۔

کارپارکنگ اس شہر کا ایک نہایت اہم اور سنگین مسئلہ ہے ۔ شہر بھر میں ایک بھی باقاعدہ کار پارکنگ نہیں ہے ۔ پرانے بلدیہ گھر کی عمارت کو مسمار کر کے یہاں پارکنگ پلازہ کی تعمیر شروع کی گئی تھی جو سیاست کی نذر ہوتی نظر آرہی ہے ۔وہاں پر چند دکانیں بنا کر ضلعی انتظامیہ کس کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے؟ شہر میں جتنے بڑے بڑے پلازے اور مارکیٹیں بن چکی ہیں ، ان کی موجودگی میں یہاں چند دکانوں کی اہمیت و ضرورت کیا ہے ؟میں جانتا ہوں کہ یہ مسائل صو بائی حکو مت کے دائرہ کار میں آتے ہیں ، مگر میں نے قصدا اس میں محترم وزیر اعظم کو بھی مخاطب کیا ہے ، چونکہ گوجرانوالہ محترم وزیر اعظم کا ’’ سسرال ‘‘ بھی ہے، لہٰذا وزیر اعظم کو اس شہر کی طرف ایک مرتبہ ضرور توجہ دینی چاہیے ۔ ان چھوٹے چھوٹے مسائل کو شہر کے صنعت کاروں اور تاجروں کے تعاون سے بھی حل کیا جا سکتا ہے ۔ اگر محترم وزیر اعظم یہاں کے صنعت کاروں اور تاجروں پر مشتمل ایک بورڈ بنا دیں تو وہ اس شہر کے ان دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں بھر پور کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ چونکہ خواجہ شجاع اللہ ہی اکثر ان مسائل کا ذکر کرتے ہیں لہٰذا اس بورڈ کی ذمہ داری بھی انہی کو سونپ دینی چاہیے ۔مجھے پورا یقین ہے وہ چند ماہ کے قلیل عرصہ میں ہی شہر کو ان دیرینہ مسائل سے چھٹکارا دلا دیں گے ۔ محترم وزیر اعظم و محترم وزیر اعلی صاحب ! گوجرانوالہ بھی وطن عزیز کا ہی حصہ ہے ، جسے آپ اپنا ’’ قلعہ ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ یہ شہر آپ کی صرف ایک نظرالتفات کا آرزو مند ہے۔

مزید :

کالم -