’میں چھٹیاں منانے اس اسلامی ملک گئی تو بازار سے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوالی لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد ہاتھوں پر جلن محسوس ہوئی، دیکھا تو۔۔۔‘ نوجوان مغربی لڑکی کو ہاتھوں پر مہندی لگوانا بہت مہنگا پڑگیا، ایسا نتیجہ نکلا کہ دیکھ کر لڑکیاں کبھی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہ کریں

’میں چھٹیاں منانے اس اسلامی ملک گئی تو بازار سے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوالی ...
’میں چھٹیاں منانے اس اسلامی ملک گئی تو بازار سے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوالی لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد ہاتھوں پر جلن محسوس ہوئی، دیکھا تو۔۔۔‘ نوجوان مغربی لڑکی کو ہاتھوں پر مہندی لگوانا بہت مہنگا پڑگیا، ایسا نتیجہ نکلا کہ دیکھ کر لڑکیاں کبھی ایسا کرنے کی ہمت ہی نہ کریں

  

رباط (نیوز ڈیسک) عوامی اور تفریحی مقامات پر دیگر اشیاءبیچنے والوں کی طرح بعض اوقات مہندی لگانے والے بھی آ جاتے ہیں اور لڑکیاں اور خواتین نتائج کی پرواہ کئے بغیر ان سے مہندی لگوالیتی ہیں۔ اس بداحتیاطی کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے ہیں، جیسا کہ مراکش کی سیر کو جانے والی ایک برطانوی لڑکی کے ساتھ ہوا۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 22 سالہ سوفی اکیس مراکش کے ایک ساحل کی سیر کو گئی ہوئی تھیں ۔ وہاں ایک مہندی لگانے والا ان کے پاس آیا تو انہوں نے کالی مہندی سے اپنے ہاتھوں پر نقش و نگار بنوالئے۔ سوفی کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد ہی ان کی جلد میں جلن محسوس ہونے لگی جو آہستہ آہستہ بڑھتی چلی گئی۔ چند گھنٹوں میں ان کی جلد ایسی بری طرح خراب ہوگئی گویا آگ میں جھلس گئی ہو۔

’اگر مہندی لگاتے وقت اس میں یہ چیز نظر آئے تو ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ۔۔۔‘ حکومت نے انتہائی سخت وارننگ جاری کردی، بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ضرور عمل کریں

سوفی کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے ہاتھ بری طرح سوج گئے اور ان پر بڑے بڑے چھالے بن گئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مہندی سے الرجی کے باعث سوفی کے ہاتھوں کا یہ حال ہوا۔ انہیں دیگر ادویات کے ساتھ آیوڈین محلول میں ہر 10 منٹ بعد ہاتھ دھونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وہ ابھی بھی بے حد تکلیف میں ہیں، تاہم علاج سے انہیں کچھ بہتری محسوس ہورہی ہے۔

سوفی کی والدہ تفریحی دورے پر ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے اس طرح کہیں سے بھی مہندی لگوانے کے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ”پلیز، پلیز باہر جائیں تو ایسی بداحتیاطی سے پرہیز کریں۔ کبھی بھی یہ مت سوچیں کہ شاید اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ چھوٹی سے تفریح کیلئے یہ بہت بڑی قیمت ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -