بھارت میں جنونیّت کے مظاہرے اور کشمیریوں کی بے مثل جدوجہد

بھارت میں جنونیّت کے مظاہرے اور کشمیریوں کی بے مثل جدوجہد

  

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی طلباء و طالبات کے وفد کو زبردستی پاکستان واپس بھجوائے جانے کا معاملہ بھارت اور عالمی برادری کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے گا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اشتعال انگیز بیانات سے کشیدگی بڑھے گی ان طلباء کو نئی دہلی کی این جی او نے دورۂ بھارت کی دعوت دی تھی۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات دُنیا بھر کی توجہ حاصل کر چکے۔ ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری اور خود بھارتی حلقے اِس بات کا اعتراض کرتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔بھارت نے دو بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے، حالانکہ پاکستان نے بار بار اس کی تردید کی ہے۔ پاکستان آرمی دُنیا کی بہترین پروفیشنل فوج ہے وہ کسی فوجی کے ساتھ چاہے وہ دشمن مُلک سے تعلق رکھتا ہو اِس طرح کی حرکت کا کوئی تصور نہیں کر سکتی، لیکن بھارت کے آرمی چیف نہ صرف اِس بنیاد پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،بلکہ دھمکیوں پر بھی اُتر آئے ہیں۔بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج بدلہ لینے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

بھارت نے پاکستان کے ساتھ جو کشیدگی یک طرفہ طور پر پیدا کر رکھی ہے اس کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا ہے۔اِدھر مقبوضہ کشمیر کی حالت یہ ہے کہ بھارتی فوج نے آپریشن تیز کر دیا ہے، ہزاروں اہلکار اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آ گئے، ضلع شوپیاں کے بیس دیہات میں گھر گھر تلاشی کے دوران شہریوں پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ بڈگام سے 12نوجوان گرفتار کر لئے گئے ہیں، قابض فوج کے ظلم و جبر کے خلاف پریشان شہری سڑکوں پر نکل آئے اور فوجیوں پر پتھراؤ کیا۔ سوپور میں طلبا نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایس پی پانی کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں (حریت پسندوں کے لئے انہوں نے یہی لفظ استعمال کیا ہے) کو زندہ پکڑنا ممکن نہیں اُن کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہو سکتا ہے، نہتے کشمیریوں کے خلاف تشدد اور ظلم و ستم کے اِس نئے سلسلے کا آغاز گھر گھر تلاشی سے ہُوا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی اِس صورتِ حال سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نے دو بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کرنے کا مسئلہ کھڑا کر دیا جس کی کوئی بنیاد نہیں، بھارت ایسے واقعات گھڑنے کی کافی پرانی تاریخ رکھتا ہے اور ان کی بنیاد پر کشیدگی پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔اِس وقت کشمیر میں حالات بھارت کے قابو سے باہر ہو گئے ہیں اور ’’را‘‘ کے ایک سابق سربراہ اے ایس دلت نے تسلیم کیا ہے کہ1990ء کی نسبت حالات اب بہت زیادہ خراب ہیں۔ مقبوضہ وادی میں ناامیدی کی فضا ہے کشمیری نوجوان قابو سے باہر ہیں۔ وہ مرنے سے نہیں ڈرتے،کشمیر کا مستقبل اچھا دکھائی نہیں دیتا، انہوں نے اِس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ بھارت کشمیر پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے خوفزدہ کیوں ہے؟انہوں نے اس بھارتی موقف کو بے معنی قرار دیا اور مودی سرکار سے اِس کی وضاحت کرنے کو کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، انہوں نے اپنی قیادت کو مشورہ دیا کہ ہمیں یہاں اور وہاں کے واقعات سے بالا تر ہو کر مذاکرات کرنے ہوں گے۔

بھارت کو مذاکرات کا مشورہ خود اندرونِ مُلک سے وہ حلقے دے ر ہے ہیں جو اعلیٰ سرکاری پوزیشنوں پر متمکن رہ چکے ہیں ، جن میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بھی شامل ہیں، ابھی دو دن پہلے امریکہ نے بھی اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو براہِ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے تو اپنے دورۂ دہلی کے دوران کھل کر مسئلہ کشمیر پر بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے کہا تھا، لیکن بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ ان کی ثالثی کی پیشکش بھی مسترد کر دی۔ بھارتی میڈیا نے ادابِ مہمان نوازی کا خیال رکھے بغیر صدر کی پریس کانفرنس میں اُن سے کرد مسئلے پر بے سروپا سوالات کئے جس کا ترک صدر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ میڈیا کو سیب اور مالٹے کا موازنہ نہیں کرنا چاہئے، کرد مسئلے کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تقابل نہیں ہوسکتا، کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی طور پر مسلمہ تنازعہ ہے، خود بھارت نے یہاں رائے شماری کا وعدہ کیا ہُوا ہے اور یہ مسئلہ عالمی ادارے کے ایجنڈے پر اب تک موجود ہے،لیکن بھارتی حکومت اب اِس حد تک بوکھلا چکی ہے کہ انتہا پسندوں کے مطالبے پر سکولوں کے طلباء کے اِس وفد کو واپس بھجوا دیا گیا جو نئی دہلی کی ایک این جی او کی دعوت پر بھارت گیا تھا،ظاہرہے یہ طلباء تمام مراحل طے کر کے مکمل دستاویزات کے ساتھ، بھارتی حکومت کی پیشگی منظوری سے بھارت گئے تھے اور ان کا مقصد خیر سگالی کا پیغام دینا تھا،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے بھارت میں جنونیوں کے جذبات اِس حد تک مشتعل ہو گئے ہیں کہ وہ سکولوں کے طلباء کا ایک دورہ بھی برداشت نہیں کر سکے اور بھارتی حکومت بھی اِن کے سامنے بے بس ہے اور اُن کے دباؤ پر طلباء کو واپس بھیج دیا گیا اِس ماحول میں خیر سگالی کا جذبہ کہاں سے آئے گا؟

بھارت کا رویہ تو اپنی جگہ قابلِ اعتراض ہے ہی اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے اِس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے،لیکن ایسی کسی بدمزگی سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ اگر کوئی بھی وفد بھارت بھیجا جائے تو پہلے اچھی طرح تسلی کر لی جائے کہ دورے کے دوران اس سے نامناسب برتاؤ نہیں کیا جائے گا اور انہیں بلاوجہ ہراساں نہیں کیا جائے گا، اس سے پہلے بھی بعض وفود کے ساتھ مقامی لوگوں کی بدتمیزی کے واقعات پیش آ چکے ہیں،لیکن اُن دوروں کی نوعیت مختلف تھی، طلباء کا یہ وفد باقاعدہ دہلی کی این جی او کا مہمان تھا،جس نے یہ دورہ سپانسر کیا تھا، بہتر تھا کہ کشیدہ حالات کو مدنظر رکھ کر طلباء کو بھارت بھیجا ہی نہ جاتا، اب جو ہو چکا ہو چکا، لیکن آئندہ احتیاط کی ضرورت ہے، کشیدگی کی اِس فضا میں بھارتی انتہا پسندوں سے کسی بھی حماقت کی امید کی جا سکتی ہے جس مُلک میں گائے لے جاتے ہوئے کسان کو قتل کر دیا جائے اور جہاں فریج میں گوشت کے متعلق یہ جانے بغیر کہ یہ کس جانور کا ہے، گھر والوں کو قتل کر دیا جائے وہاں جنونیوں سے کسی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی، یہ معاملہ عالمی سطح پر ضرور اٹھایا جائے،لیکن خود اندرونِ مُلک حفظِ ماتقدم کے طور پر ضروری اقدامات کر لئے جائیں۔

مزید :

اداریہ -