ہیلری کلنٹن انتخابات کیوں ہاریں؟

ہیلری کلنٹن انتخابات کیوں ہاریں؟
 ہیلری کلنٹن انتخابات کیوں ہاریں؟

  

29اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے 100دن مکمل ہونے پر امریکی میڈیا میں بھر پور تبصرے کئے گئے۔ بحیثیت مجموعی ٹرمپ کی اب تک کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ درست ہے کہ 100دن کسی بھی حکومت کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم امریکہ جیسے بڑے مُلک میں کسی بھی صدرکے بارے میں 100دن کے بعد ہی حتمی رائے دے دینا قطعی طور پر درست نہیں۔ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے امریکی صدور نے حالات میں تبدیلی کے باعث اپنے شروع کے دورکی پالیسیوں کو بالکل تبدیل کر دیا، اس لئے ابھی یہ بحث قبل از وقت ہے کہ ٹرمپ کے دور میں مزید کیا کیا کچھ دیکھنے میں آئے گا؟۔۔۔تاہم ٹرمپ کی صدارت کے سو دن پورے ہونے کے بعد ہیلری کلنٹن کی جانب سے انتہائی دلچسپ تبصرہ سامنے آیا ہے۔منگل کے روز، یعنی 2مئی کو سی این این کی رپورٹر کرسٹیان امان پور سے گفتگو کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا: ’’اگر انتخابات 27اکتوبر (8نومبر کی بجائے) کو ہوتے تو مَیں اس وقت امریکہ کی صدر ہوتی۔ میں انتخابات جیت رہی تھی کہ 28 اکتوبر کو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جم کومی کی جانب سے پرائیویٹ ای میل اکاؤنٹ کی نئے سرے سے تفتیش کے اعلان اور روسی وکی لیکس کے باعث کئی ووٹرمجھ سے دور ہو گئے‘‘۔اس کے ساتھ ساتھ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ایک عورت ہونے کے باعث بھی ان کی مخالفت کی گئی، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی امریکی انتخابات میں مداخلت بھی ان کی ہار کا باعث بنی۔امریکی سیاست پر چونکہ پورے عالمی میڈیا کی توجہ مرکوز ہوتی ہے،اس لئے ہیلری کلنٹن کے ان دلچسپ دعوؤں کو عالمی میڈیا میں بھرپور کوریج کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے،مگر یہاں پر بنیا دی سوال یہی ہے کہ کیا ہیلری کلنٹن کے ان دعوؤں میں کسی بھی قسم کی صداقت ہے؟

اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہم خود ڈیمو کریٹ پارٹی کی جانب سے کر ائی گئی اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں ، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کیوں کامیاب رہا؟۔۔۔ ڈیمو کریٹ پارٹی کی اس تحقیق کو دی واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار گریگ سارجنٹ نے یکم مئی کو اس عنوان سے شائع کیا ۔۔۔ "Why did Trump Win? New research by Democrats offers a worrisome answer,"۔۔۔خو د ڈیمو کریٹ پارٹی کی اس تحقیق کے مطابق امریکہ کی خراب معاشی صورتِ حال اور ڈیمو کریٹ پارٹی (ہیلری کلنٹن) کی کا رپوریٹ نواز پالیسیوں پر سخت تنقید نے ٹرمپ کی کامیا بی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ڈیمو کریٹ پارٹی کی فرم Priorities نے وسکانسن،مشی گن، فلوریڈا، جیسی ’’سوئنگ ‘‘ ریاستوں میں سروے کروایا ۔ ان ریاستوں میں 2008ء اور2012ء میں بارک اوباما نے کامیابی حاصل کی تھی، مگر 2016ء میں ٹرمپ ان ریاستوں میں کامیاب ٹھہرا۔ ان سرویز میں دو اقسام کے ووٹرز کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا۔۔۔ ایک ایسے ووٹر، جنہوں نے 2012ء میں اوباما کو ووٹ ڈالا تھا،مگر 2016ء میں ان ووٹرز نے ٹرمپ کو ووٹ ڈالا،جبکہ دوسری قسم ایسے ووٹرز کی تھی، جنہوں نے 2012ء میں اوباما کو ووٹ ڈالا، مگر 2016ء میں سرے سے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔ اس سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان ریاستوں کے ایسے علاقوں میں، جہاں کی اکثریت محنت کش اور کم آمدنی والے طبقات پر مشتمل ہے، وہ شدید معاشی پریشانی میں مبتلا ہیں۔50فیصد رائے دہندگان کے مطابق ان کی آمدنیاں ان کے معیارِ زندگی کو برقرار نہیں رکھ پا رہیں، جبکہ31فیصد رائے دہندگان کے مطابق وہ بڑی مشکل سے اپنی آمدنی سے اپنے معیار زندگی کو برقرار رکھ پا رہے ہیں۔80سے 85فیصد ووٹروں کی رائے میں حکومت کی ترجیح سماجی تحفظ، صحت، نئی ملازمتیں مہیا کرنا ہونی چاہئے نہ کہ دُنیا کو امریکی مفادات کے لئے تسخیر کرنا۔۔۔87فیصد ووٹروں کے خیال میں کارپوریٹ سیکٹر کو امریکی حکومتوں کی طرف سے بہت سی ناجائز سہولتیں ملتی ہیں، اِس لئے کا رپوریٹ سیکٹر کے ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے۔ڈیمو کریٹ پارٹی کے اس سروے میں سب سے دلچسپ امر یہ رہا کہ ان ریاستوں میں غریب افراد کی اکثریت ہے، جس نے 2012ء میں اوباما کو ووٹ دیا، اب یہ سمجھتی ہے کہ ڈیمو کریٹ پارٹی کی پالیسیوں سے دولت مندوں اور کارپوریٹ سیکٹر کو ہی فائدہ ہوتا ہے؟ عام امریکیوں کونہیں۔ سروے کے الفاظ میں ری پبلکن پارٹی کی طرح ڈیمو کریٹ پا رٹی بھی99فیصد کے مقابلے میں صرف 1فیصد (دولت مند)کے مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔

دراصل امریکی سیاست کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یورپی سیا سی جماعتوں کے بر عکس امر یکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں (ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن) کبھی کسی بڑی تاریخی جدوجہد سے نہیں گزریں،اگر امریکہ کے دوجماعتی نظام کو خارجی اور داخلی پالیسیوں پر امریکی حکمران طبقات اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی سوچوں کا مظہر خیال کیا جائے تو عملاً اس کی حیثیت محض جزوی اختلافات کے اظہار سے زیادہ نہیں ہو گی، چنانچہ اس نظام میں اتنی وسعت اور تنوع نہیں ہے کہ وہ کلی طور پر سیاسی، معاشی ،آئینی، جنگی یا خارجہ پالیسیوں میں جوہری اور بنیادی تبدیلیوں کا متحمل ہو سکے۔ دونوں جماعتوں (ڈیموکریٹ اور ری پبلکن) کی تشکیل و ارتقاء میں حکمران طبقات،یعنی اسٹبلشمنٹ کے نظام کے خلاف جدوجہد کا عنصر کبھی بھی شامل نہیں رہا۔ یہ درست ہے کہ ڈیمو کریٹ پارٹی انتخابات میں ووٹوں کے حصول کے لئے یہ تا ثر دیتی ہے کہ یہ پارٹی اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں محنت کش ، عام امریکیوں، سیاہ فام آبا دی، عورتوں اور محروم طبقات کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ 1933ء سے1945ء تک ڈیمو کریٹ پارٹی کے امریکی صدر روز ویلٹ نے’’نیو ڈیل‘‘ کے نام سے ایسے اقدامات اٹھا ئے تھے، جن کا مقصد امریکہ میں غریب اور محروم طبقات کو کسی حد تک ریلیف دینا تھا۔ ڈیمو کریٹ پارٹی آج بھی اس’’نیو ڈیل‘‘ پروگرام کاذکر فخرسے کرتی ہے اور اسے عام امریکیوں کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے کہ یہ جما عت عام امریکیوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے،مگر 1970ء کی دہائی میں جب امریکی سرمایہ داری نظام مشکلات کا شکار ہوا تو ڈیمو کریٹ پارٹی نے عام امریکیوں کی جماعت ہونے کا لبادہ اتار کر واضح طور پر دائیں بازو پر مبنی معاشی پالیسیوں کی حمایت شروع کر دی، جواب تک جاری ہے۔ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلری کلنٹن نے اپنی شکست کا انتہائی سطحی تجزیہ پیش کیا ہے ۔امریکی نظام کی خامیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے ہیلری کلنٹن نے اپنی شکست کے لئے ایف بی آئی اور روس کو ذمہ دار قرار دے دیا۔حقیقت یہی ہے کہ رپبلکن پارٹی کی طرح ڈیمو کریٹ پارٹی کے لئے بھی کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات مقدم ہیں۔امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں (ڈیموکریٹ اور ری پبلکن) امریکہ کے استحصالی نظام کی رکھوالی اور کارپوریٹ سیکٹر کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔ ان دونوں کا مفاد اِسی میں ہے کہ وہ اِس نظام کو برقرار رکھیں،جس سے وہ خود اور اِن کے حامی سرمایہ دار مستفید ہو رہے ہیں۔ امریکی نظام میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو استحصالی نظام کے خلاف ایک تاریخی جدوجہد سے تشکیل پذیر ہوئی ہو،اِس لئے اس نظام میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات،استحصالی اور سامراجی پالیسیوں کی بجائے عام امریکیوں کے مفادات کو مدنظر رکھ پائے۔

مزید :

کالم -