’’خدا کے ذہن کا فن پارۂ عظیم ہوں مَیں‘‘

’’خدا کے ذہن کا فن پارۂ عظیم ہوں مَیں‘‘
 ’’خدا کے ذہن کا فن پارۂ عظیم ہوں مَیں‘‘

  

یہ محض اتفاق ہے کہ جب بانگ درافاؤنڈیشن نے مجھے احمد ندیم قاسمی کی شخصیت اور فن کے حوالے سے ایک تقریب میں گفتگو کی دعوت دی تو اس سے دو تین روزپہلے مجھے ’’ماہِ نو‘‘ کا احمد ندیم قاسمی نمبر صائمہ بٹ کی مہربانی کے باعث دستیاب ہوگیا تھا۔ ’’ماہِ نو‘‘ نے 1948ء میں اپنی اشاعت کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس جریدے کی مجلس ادارت سے پاکستان کے نامور ادیب اور شاعر منسلک رہے۔ اب شبیہ عباس، صائمہ بٹ اور مریم شاہین کی ادارت میں ’’ماہِ نو‘‘ شائع ہو رہا ہے ،حال ہی میں احمد ندیم قاسمی کی بے مثال ادبی شخصیت کے حوالے سے ایک خصوصی نمبر کی اشاعت کے بعد ’’ماہِ نو‘‘ کا ایک انتخاب نمبر بھی شائع کیا گیا ہے جو 1987ء سے لے کر 2015ء تک 28برسوں کی منتخب تحریروں پر مشتمل ہے۔

فی الحال مَیں ذکر کر رہا ہوں احمد ندیم قاسمی کی فکری اور تخلیقی شخصیت کے حوالے سے سیالکوٹ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کا۔ میری اس تقریب میں گزارشات یہ تھیں کہ احمد ندیم قاسمی زندگی آموز ادب کے علمبردار تھے۔ ان کے فن میں بے ساختہ پن اپنے عروج پر تھا۔ اگر کسی شخصیت کا فن بے ساختگی کے جوہر سے محروم ہو تو میرے نزدیک اس میں تخلیقی حسن پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ احمد ندیم قاسمی کے فن کی دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ سماجی بصیرت اور اجتماعی احساس سے جڑا ہوا تھا۔ قاسمی صاحب کا ادب جذبے کے اظہار کا دوسرا نام تھا۔ ان کی شاعری میں فکر اور احساس کا ایک خوبصورت امتزاج تھا۔ احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں کہ بڑے فن ، بڑی شاعری کے لئے فکرواحساس کی یکجائی ضروری ہے۔ قاسمی صاحب کے فن میں علم بھی تھا، فکر بھی تھی اور احساس کی گہرائی بھی ۔ان کی شاعری میں حسن و توازن کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا ایک پیغام بھی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کی سوچ میں عالمگیریت تھی، لیکن انہیں اپنے پاکستانی ہونے پر بے پناہ فخر تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مَیں دنیا بھر میں امن و آشتی کے قیام کا علمبردار ہوں، لیکن اگر مسئلہ میرے وطن پاکستان کے ناموس و تحفظ کا ہو تو پھر مَیں اس کے لئے لڑبھی سکتا ہوں اور اس کی آن پر مربھی سکتا ہوں۔ وہ فرماتے تھے کہ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ کوئی مجھ پر تنگ نظری کا الزام عائد کردے۔ مَیں اس ماں کو ، اپنے وطن کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ جس نے مجھے جنم دیا، جس کی ہواؤں نے میری پرورش کی اور جس کے قدموں میں میری جنت ہے۔

احمد ندیم قاسمی کہا کرتے تھے کہ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ ریاست اور مملکت کے امور کو چلانے والے بدلتے رہتے ہیں۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر ٹوک سکتے ہیں، ان کا محاسبہ کرسکتے ہیں، لیکن مملکت اور ریاست ایک مستقل حقیقت ہے۔ وطن کی سلامتی اور استحکام ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اور ایمان کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کے نزدیک پاکستان ایک نظریاتی مملکت تھی اور ہے۔ ان کا ارشاد تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک تاریخ ساز شاعر اور مفکر کا جواب ہے، جو ایک تاریخ ساز قائد اور ایک تاریخ ساز تحریک کی بدولت قائم ہوا۔مَیں نے ’’ماہِ نو‘‘ کے احمد ندیم قاسمی نمبر ہی میں قاسمی صاحب کی ایک تقریر پڑھی ہے۔ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پہلے نظریۂ پاکستان طے ہوا تھا۔ تحریک پاکستان نے اسی نظریۂ پاکستان سے راہنمائی اور توانائی حاصل کی، پھر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ احمد ندیم قاسمی کو خود بھی تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لینے کا اعزاز حاصل تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح ہر صورت اور ہر حال میں ہمیں مملکت پاکستان کا وفادار رہنا چاہئے، اسی طرح نظریۂ پاکستان سے ہماری وفاداری غیر مشروط اور مستحکم رہنی چاہئے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا کہ نظریۂ پاکستان وہی ہے جو ہم نے قائد اعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ سے سیکھا تھا۔ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ عظیم مسلمان تھے۔ ان کا قرآن پاک کے فرمان اور حضور نبی پاکؐ کے ارشادات پر پختہ اور غیر متزلزل ایمان تھا۔ یہی نظریۂ پاکستان ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مملکت پاکستان اور نظریۂ پاکستان کو ہم سب کی مشترکہ وفاداری نے جنم دیا اور اس کو قائم رکھنے کے بھی ہم مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستان کے شاعر، ادیب اور مصور پاکستان کی تہذیبی اور روحانی اقدار کے محافظ ہیں ۔۔۔ادیب اور مملکت کے رشتے کی وضاحت کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے کہا کہ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قومی اور مملکتی مفادات کو ہر صورت اور ہر حال میں ذاتی مفادات پر فوقیت دی جائے اور اس کی عملی صورت یہ ہونی چاہئے کہ ملک میں استحصال کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی ہر شکل کو بیک جنبش قلم ختم کردیا جائے۔ یہاں کا ہر فرد خود کو خوشحال اور خود کفیل محسوس کرے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر علاقائی اور صوبائی تعصبات کی گنجائش ختم ہو جائے گی اور مملکت کے روشن مستقبل پر سب کا اعتقاد مضبوط ہو جائے گا۔

احمد ندیم قاسمی فرماتے تھے کہ ہمارے حکمرانوں کو مملکت اور حکمران کے فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اور یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ہم اہل قلم کی وفاداری غیر مشروط طور پر صرف اپنی مملکت کے ساتھ ہے۔ ہم حریت فکر اور آزادئ اظہار کے اپنے حق سے کسی حکمران کی خاطر دستبردار نہیں ہوسکتے۔ ادیب اگر سوچنا اور اظہار کرنا چھوڑ دے تو پھر معاشرہ جمود اور انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے جو ہرگز مملکت کے مفاد میں نہیں ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا زندگی بھر یہ نقطۂ نظر رہا کہ ہم ادیب اور شاعر اپنے فن کا اجر کسی سے نہیں مانگتے، ہم صرف اظہار رائے کی آزادی کا حق مانگتے ہیں اور وہ بھی انسانوں کی بھلائی اور اپنی مملکت کے استحکام وترقی کے لئے۔ پاکستان فکر و اظہار کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اور ووٹ کی طاقت کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا اور حق بات کے اظہار سے ملک مضبوط ہوتے ہیں، مگر ہر دور کے حکمران اظہار رائے کی آزادی سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنی ایک تحریر میں حکومت کے لئے ریل گاڑی کھینچنے والے انجن کے الفاظ استعمال کئے تھے۔ انجن میں اگر خرابی آجائے اور یہ خرابی دور کرنا ممکن نہ ہو تو پھر انجن تبدیل کر دینا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ ریل گاڑی کا سفر جاری رہنا ضروری ہے۔ ادیب اور شاعر ہر حال میں اپنے ملک کو سربلند اور باوقار دیکھنا چاہتے ہیں، اگر حکمرانوں کی بھی یہی سوچ او عمل ہو تو پھر انہیں اہل قلم سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ تقریب کے اختتام پر احمد ندیم قاسمی کے منتخب اشعار کی مجھ سے فرمائش کی گئی۔ آپ بھی قاسمی صاحب کا کمال فن دیکھیں:

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیراؐ

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیراؐ

پورے قدسے مَیں کھڑا ہوں تو یہ تیراؐ ہے کرم

مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیراَ ؐ

قطرہ مانگے جو کوئی، تو اسے دریا دے دے

مجھ کو کچھ اور نہ دے، اپنی تمنا دے دے

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اُترے

وہ فصلِ گل جِسے اندیشۂ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے

حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

اگر گِروں تو کچھ اس طرح سربلند گِروں

کہ مار کر، مرادشمن مجھے سلامی دے

وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشتِ انساں پر

کسی بھی شہر میں جاؤں، غریبِ شہر نہیں

یہ فقط میرا تخلص ہی نہیں ہے کہ ندیم

میرا کردار کا کردار ہے اور نام کا نام

دشمن بھی جو چاہے تو مری چھاؤں میں بیٹھے

مَیں ایک گھنا پیڑ سرِراہ گزر ہوں

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اِذنِ کلام

ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

مَیں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں

مرے ہمراہ دریا جا رہا ہے

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو

مَیں تو شامل ہوں محبت کے گنہگاروں میں

مزید :

کالم -