بھارت، پاکستان، ماضی کی طرف سفر

بھارت، پاکستان، ماضی کی طرف سفر
 بھارت، پاکستان، ماضی کی طرف سفر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

افغانستان میں امریکہ کے حالیہ حملوں یا مداخلت کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں قدرے کمی محسوس کی گئی ہے، لیکن معمول کے تعلقات بحال ہونے کی بجائے، ماضی کی طرف سفر کا آغاز معلوم ہوتا ہے، بلکہ پراکسی وار کشمیر سے بھی آگے جاتی دکھائی دیتی ہے۔ 2014ء میں جب امریکہ نے افغانستان سے فوجیں نکالنے کا عندیہ دیا تھا، بلکہ اعلان کیا تھا تو اتفاق سے راقم الحروف اسلام آباد پنجاب ہاؤس میں مُقیم تھا۔ لاہور سے گئے کچھ صحافی دوست ملنے کے لئے آئے تو گفتگو ایک Formalانٹرویو بن گئی۔ جنوبی ایشیا کی سیاست کے ایک پرانے طالب علم کی حیثیت سے میں نے اس سے اتفاق نہ کیا جو اگلے روزاسلام آباد کے اخبارات میں نمایاں جگہ پاگیا۔ ایک دو دن بعد امریکی سفارت سے وابستہ ایک سفارت کارنے رابطہ کرکے مجھ سے اس کی وجوہات بھی پوچھیں۔۔۔بات اور طرف نکل گئی، اس وقت بھی تجزیہ نگاروں نے تبصرے کئے تھے کہ اس فیصلے کے پاک بھارت تعلقات پر (منفی یا مثبت) کیا اثرات ہوں گے؟ کیونکہ جب تک امریکہ افغانستان میں جنگی سرگرمیوں میں ’’پھنسا‘‘ ہوا تھا، پاک بھارت کشیدگی پس منظر میں چلی گئی تھی، کیونکہ امریکی دباؤ تھا کہ یہ کشیدگی افغانستان میں امریکی ’’ مشن ‘‘ کو متاثر نہ کرے،لیکن پاکستان بھارت، افغانستان کی تکون ایک دوسرے کے تعلقات اور حالات میں دخل اندازی کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔ (اب تک کی تاریخ یہی ہے) علیحدگی کی تحریک ہو یا دہشت گردی کے واقعات ہوں۔

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ افغانستان یا ایسے بھی کہا جاسکتا ہے کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی اپنے اثرات ظاہر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس سے ایک تو دونوں ملکوں کے درمیان بھرپور روائتی جنگ کے امکانات بہت ہی کم ہیں، ویسے بھی یہ بہت مہنگا سودا ہوگا، جس کے لئے دونوں میں سے کوئی بھی ملک فی الحال تیار نہیں۔ 2003ء میں اعتماد سازی کا ماحول ایک بہتر صورت حال بنارہا تھا۔ فائر بندی ، ایک دوسرے کے اندرونی حالات میں عدم مداخلت، علیحدگی پسندوں اور دہشت گردگروہوں کی عدم پیروی، ایٹمی پروگرام پر اطلاعات کا تبادلہ جیسے فیصلوں سے پائیدار امن کی کرن کم از کم نظر آنے لگی تھی۔ اس نقطہ نظر کے مطابق جنوبی ایشیا موجودہ صورت حال سے نکلتا نظر آتا تھا۔ سابقہ سفارت کاروں کی تنظیمیں بن رہی تھیں اور متحرک نظر آرہی تھیں۔ دانشور اور صحافی حضرات کا تبادلہ ، شاعر اور امن کی آشا جیسی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ٹریک ٹوبھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان عوام کا عوام سے رابطہ تھا۔ راقم الحروف بھی جے پور یونیورسٹی کی دعوت پر اس موضوع پر بات کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ سول سوسائٹی( سرحد کے دونوں طرف) سوشل میڈیا،سپورٹس، ایسے محرکات تھے کہ محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ ایسی سرگرمیوں سے جنوبی ایشیا جنگ کے ماحول سے باہر نکل آئے گا اور دونوں ممالک اپنے اپنے وسائل اپنے اپنے عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لئے استعمال کریں گے اور اسلحہ کی خرید ختم نہیں تو کم ضرور ہوجائے گی۔

دوسرا نقطہ نظر یہ ہے یا تھا کہ 9/11کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں نمایاں کمی ایک عارضی کیفیت تھی اور وہ بھی امریکہ کی چھتری کے نیچے، جسے ایک مستقل بنیاد نہیں سمجھا جاسکتا تھا، تاوقتیکہ امریکہ باقاعدہ ایک مصالحت کنندہ کے طور پر اپنا کردار ادا نہیں کرتا، جو وہ کرسکتا ہے، لیکن شاید کشیدگی کا ماحول اس کے اپنے مفادات کے مطابق تھا اور ہے۔ اس کشیدگی میں کمی کی دوائیوں کی طرح ’’شیلف لائف‘‘ تھی جو افغانستان سے امریکہ کی روانگی کے ساتھ ہی ختم ہو جانی تھی۔ دلیل یہ دی جاتی تھی اور اب بھی دی جاتی ہے کہ کشمیر، سیاچن اور امریکہ جیسے ایشوکے ہوتے یہ سوچ لینا مناسب نہیں تھا اور نہ ہے۔اس سوچ کو مزید تقویت ملتی ہے، جب واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان دوریاں بڑھتی نظر آتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے منتخب ٹارگٹ ہیں۔ ڈرون پاکستانی حدود میں تو آتے ہیں، لیکن افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے انہیں نظر نہیں آتے، جو افغانستان میں بلا خوف و خطر رہ رہے ہیں، پھر امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون (معاشی بھی اور عسکری بھی) جو امریکہ چین کے خلاف اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے بطور پالیسی اپنا رہا ہے اور یہ کام پاکستان سے نہیں کروایا جاسکتا۔ خصوصاً امریکہ اور آسٹریلیا کی طرف سے ایٹمی تو انائی مہیا کرنا اور پاکستان میں بجلی کی شدید قلت کے باوجود اس مطالبے کو نظر انداز کرنا اہم ہے۔امریکہ اور بھارت کے درمیان تعاون (ہر سطح پر) روز بروز بڑھتا نظر آتا ہے،جو امریکہ کے نزدیک عالمی سطح پر، خصوصاً اس خطے میں امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔ چین ، روس ، ایران کی قربت بھی امریکہ کے لئے ایک سرکا درد ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کے ہوتے ہوئے ، اس تکون کے ساتھ چلنے کے لئے بڑی احتیاط سے قدم اٹھانا پڑتے ہیں۔ حال ہی میں بھارت کی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گردتنظیموں کا بلوچستان سے ایرانی سرحد پر حملہ اور ان کے سرحدی محافظوں کا مارا جانا مزید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔

ماضی کی طرف سفر، ماضی قریب اور حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات ، کلبھوشن کا پکڑا جانا ، احسان اللہ احسان کے انکشافات، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزی اور معصوم بچوں، بڑوں اور بوڑھوں کی شہادت ہمیں اور جنوبی ایشیا کو اسی ماضی کی طرف لے کر جارہی ہے، جب ہماری افواج مسلسل ایک عرصے تک سرحدوں پر آمنے سامنے رہی ہیں۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوشش اور اس میں ’’اپنوں‘‘ کا ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے حصہ ڈالنا اور پاکستان کی طرف سے کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات، بھارتی فوج کا ظالمانہ رویہ عالمی سطح پر اُجاگر کرنا، ہمیں نوے کی دہائی کی طرف لے جارہا ہے۔اس میں بھارت کے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ،نیز امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی کم ہونا، افغانستان سے بھارت کا بڑے بھائی جیسا تعلق اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی پشت پناہی، ماحول کو مزید خراب کررہی ہے۔حالت جنگ، جنگی جنون اور جنگ میں سب سے پہلے ’’ سچ‘‘ کی موت واقع ہوتی ہے۔ اوڑی پر حملے میں کون ملوث تھا؟کشمیری Freedom Fighter یا خود بھارت نے کشمیر کے مسئلے سے عالمی توجہ ہٹا کر پاکستان پر الزام تراشی کے لئے خود ہی ڈرامہ کیا تھا۔ دونوں طرف الزامات اور جوابی الزامات کی دھول میں ’’سچ‘‘گم ہوگیا ہے۔۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی کے ذمہ دار اور سفارت خانے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں ناکام ہیں، اس کی وجہ تلاش کرنا ہوگی کہ یہ دانستہ ہے یا نادانسہ نا اہلی؟

ہم جو بھی کریں، جو بھی کہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے چھروں والے اسلحہ کا استعمال، مظفروانی اورسوکے لگ بھگ دیگرکشمیری نوجوانوں کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر کو جلا بخشی ہے اور اب بھارت اور مقبوضہ کشمیر سے ان مظالم کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی جارحیت کے خلاف، کشمیر میں مظالم کے خلاف، ڈیم پر ڈیم بنا کر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف، بھارت میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے کے خلاف، زور دار آواز بلند کرنے میں ہچکچاہٹ ناقابل فہمہے ۔ ہمیں اپنے گھر کو ، اپنے گردونواح کو، پڑوسیوں کو دیکھنا ہوگا، معاملات درست کرنا ہوں گے۔ایک طرف سمندر ہے۔ باقی تینوں اطراف معاملات حل طلب ہیں۔پاکستان کو بھارت کی Cold Start Doctrine کے جواب میں جو کرسکتے ہیں، کریں گے، کہنا معنی خیز ہے۔ پھر بھارت بھی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ کیا ہوگا؟ امن پسند سوچ کر بھی کانپ جاتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف امن پسند، حالات اور تعلقات کو معمول پر لانے کے خواہش مند دانشور آگے آئیں اورنکتہ چینی و الزامات کی پرواہ کئے بغیر اپنے لئے، اپنی آنے والی نسلوں کے لئے، عالمی طاقتوں کے مفادات کے پس پشت ڈالتے ہوئے، جنوبی ایشیا،جسے اس وقت خطرے کی علامت سمجھا جارہا ہے، تجارت کے فروغ، امن ، پیار، بھائی چارے، ایک دوسرے کو مشکلات میں مددگار بنانے کی تحریک شروع کریں۔ ہماری جنگ بھوک، افلاس، بے روزگاری ، بیماری، بنیادی ضروریات کے نہ ہونے کے خلاف ہونی چاہئے، نہ کہ سرحد کے دونوں پار عوام کی زندگی سے خوشی اور اطمینان چھین لینے کے لئے۔

مزید : کالم