کرسیاں گننے اور بھرنے کی سیاست

کرسیاں گننے اور بھرنے کی سیاست
 کرسیاں گننے اور بھرنے کی سیاست

  

وطنِ عزیز میں انتخابی موسم ابھی آیا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اس وقت مُلک بھر میں کرسیاں گننے اور بھرنے کا موسم ضرور آ چکا ہے۔جب سے وزیراعظم محمد نواز شریف نے لیہ کے جلسے میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کے اسلام آباد والے جلسے کی تصویروں کو جب زوم کر کے دیکھا تو آدھی کرسیاں خالی پڑی تھیں ، تب سے کرسیوں کو بھرنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اُدھر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے بھی لیہ میں وزیراعظم کے جلسے کی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں جلسے کے عقبی حصے میں ساری کرسیاں خالی نظر آتی ہیں۔ کرسیاں بھرنے اور گننے کا یہ مقابلہ آگے کیا رنگ دکھاتا ہے،یہ تو وقت کے گز رنے کے ساتھ ہی معلوم ہو سکے گا، لیکن ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ ’’پہلے جمہوریت میں بندوں کوگنا جاتا تھا ،اب کرسیوں کو گنا جانے لگا ہے‘‘جتنی زیادہ کرسیاں اُتنی ہی مقبول جمہوریت۔ایک کرسی کا کرایہ کم از کم30روپے ہے، اب جمہوریت جتنی زیادہ مضبوط کرنی مقصود ہو، اتنی ہی زیادہ رقم کی بھی ضرورت ہو گی،اِس لئے اب یہ جھگڑا بھی ختم ہو جانا چاہئے کہ جمہوریت میں کرپشن کیوں بڑھ جاتی ہے؟ جب الیکشن جیتنے کے لئے قدم قدم پر پیسوں کی ضرورت ہو تو کون پاگل ہے جو منتخب ہونے کے بعد پیسہ نہیں بنائے گا۔آخر اُسے پچھلے واجبات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی تو کرنا ہوتی ہے۔

حالات کچھ اِس نہج پر چل نکلے ہیں کہ سیاست کم اور شعبدہ بازی زیادہ آ گئی ہے۔ اب ملین مارچ سے کم کی بات ہی نہیں ہوتی۔چھوٹے چھوٹے جلسوں اور ریلیوں کو بھی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں یہ کون سی راہ پر ہم چل نکلے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب صرف پی ٹی وی ہی سب کچھ تھا، پورے مُلک میں چپے چپے پر ہڑتال کو بھی شام کے خبرنامے میں کھلے بازاروں کے وڈیو کلپس دکھا کر ایسے ناکام قرار دیتا تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ اب بھی معاملہ ٹی وی چینلوں کے ہاتھ میں ہی ہے، وہ چاہیں تو خالی کرسیاں دکھا دیں، نہ چاہیں تو عوام کا سمندر دکھا کر مخالفین کے ہوش اڑا دیں اور حامیوں کو ایسے خوش کر دیں کہ انہیں نیند بھی نہ آئے۔پچھلے کچھ عرصے سے ہماری سیاست میں کچھ ایسے نئے رجحان در آئے ہیں جنہوں نے شائستہ سیاست کا رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کو جس طرح مخاطب کیا جاتا ہے، یہ تو ایک المیہ ہے ہی، لیکن کسی ٹویٹ یا عدالتی ریمارکس کو لے کر جس طرح ایک دوسرے پر گرد اچھالی جاتی ہے، اُس کی نظیر چند برس پہلے کی سیاست میں نہیں ملتی۔ حالات کا بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنی حدود میں میڈیا ٹاک پر پابندی لگا دی ہے،کیونکہ اس ٹاک میں جج صاحبان کی دورانِ سماعت کی گئی باتوں یا سوالات کو لے کر ایک دوسرے کی دُرگت بنائی جاتی تھی۔عدالت خوامخواہ متنازعہ بن جاتی اور اینکرصاحبان کو اپنے شام کے پروگراموں کے لئے چٹ پٹا مواد مل جاتا۔

اب کرسیاں گننے کی سیاست کو لے کر پیپلزپارٹی بھی میدان میں اُتر چکی ہے۔ناصر باغ لاہور میں پنڈال سجا کر جس طرح وزیراعلیٰ شہباز شریف کی پنکھا سیاست کو دہرایا گیا، وہ جیسے کو تیسا کہا جا سکتا ہے،مگر قمر زماں کائرہ نے پنجابی جیسی میٹھی زبان کو اوئے توئے کے سابقوں سے جس طرح استعمال کیا،اُسے مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ٹھیک ہے اُن کے اس انداز سے ٹی وی چینلوں کو دلچسپ خبر مل گئی اور پیپلزپارٹی کے خشک جلسے بھی گیلے ہو گئے،لیکن ہر جملے کے ساتھ ’’کیتا کی جے‘‘ کی گردان کر کے عورتوں جیسی جس لڑائی کا آغاز کیا گیا ہے، وہ سیاست کو مزید گدلا کر سکتی ہے۔اب رفتہ رفتہ یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ پاکستان میں اگر عوام کو متاثر کرنا ہے تو گلی محلے کی زبان بولی جائے، مخالفین کی تضحیک کر کے اُن کے نام بگاڑے جائیں، نیز ایسا لب و لہجہ اختیار کیا جائے جو پنجابی فلم مولا جٹ جیسا کھڑاک پیدا کر سکے۔ بدقسمتی سے یہ لہر اتنی زور دار چلی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان کے بعد اب سیاسی جماعتوں کی سیکنڈ لائن قیادت بھی اس کا شکار ہو چکی ہے۔اسے کسی بھی طرح خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا بظاہر مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں عوام کے حقیقی مسائل سے لاتعلق ہو چکی ہیں، وہ مداری کی طرح عوام کو مختلف شعبدوں اور تماشوں سے اپنی طرف متوجہ رکھنا چاہتی ہیں۔ انہیں اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عوام کس اذیت سے گزر رہے ہیں،انہیں اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں کہ معاشرے کو مذہب، زبان اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے والی قوتیں کس قدر متحرک ہو چکی ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنا اُن کا بنیادی ایجنڈا ہے۔۔۔انہیں تو بس اِس بات سے غرض ہے کہ عوام کو کسی نہ کسی بہانے اپنی طرف متوجہ رکھا جائے۔ وہ کام جو اپنے دور میں نہیں کئے، انہیں اس حکومت کے سر تھوپ کر سیاست کی جائے اور جو حکومت میں ہیں، وہ اپنی باتوں کو دہرا رہے ہیں،جنہیں وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومتِ وقت پر تنقید کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

جمہوریت اور پارلیمینٹ کو سب سے اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ اسے اداروں کی ماں کا درجہ دیا گیا ہے، لیکن یہاں کوئی ایک مسئلہ بھی پارلیمینٹ میں حل نہیں ہوتا۔آج کے وزیراعظم نواز شریف جب اپوزیشن میں تھے تو میمو گیٹ سکینڈل یہ کہہ کر سپریم کورٹ میں لے گئے کہ پارلیمینٹ میں اتنی سکت نہیں کہ اس ایشو پر بات کر سکے۔ آج پاناما سکینڈل سامنے آیا تو بہت کہا گیا کہ اسے پارلیمینٹ میں حل ہونا چاہئے، لیکن پارلیمینٹ کوئی مشترکہ ٹی آو آر تک نہیں بنا سکی، بالآخر یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں چلا گیا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں لائے جا رہے ہیں۔ پارلیمینٹ سے ہٹ کر کوئی مسئلہ اُس وقت سپریم کورٹ میں جانا چاہئے جب کوئی آئینی پیچیدگی آڑے آ جائے اور سپریم کورٹ سے اس کی تشریح کرانا مقصود ہو، مگر آپس کے اختلافات اور چھوٹے موٹے مناقشات کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پارلیمینٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔اس وقت سپریم کورٹ سیاسی مقدمات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔پاناما کیس سے ابھی جان نہیں چھوٹی تھی کہ عمران خان کے خلاف مقدمات شروع ہوگئے ہیں۔ معاملات کو سیاسی دنگل میں تبدیل ہوتا دیکھ کر سپریم کورٹ نے اپنے احاطے میں پریس کانفرنس کرنے پر پابندی لگا دی۔ یہ بہت اچھا اقدام ہے، اس سے کم از کم سپریم کورٹ کا احاطہ سیاسی سرگرمیوں سے بچا رہے گا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری سیاسی بلوغت میں زیادہ سنجیدگی آنی چاہئے۔ہمیں سیاست کے اُن مہذب اصولوں کو اپنانا چاہئے جو دُنیا بھر کی اچھی جمہوری ریاستوں میں رائج ہیں،مگر ہم اس کے برعکس چل رہے ہیں اور واضح طور پر اس حوالے سے ترقی، معکوس کا شکار ہیں۔ ہماری مقبولیت کے پیمانے کرسیاں بن چکی ہیں اور عدم مقبولیت کا معیار خالی کرسیاں ہیں۔ کیا کسی جلسے میں لاکھ دو لاکھ آدمی بھی آ جائیں تو 20کروڑ کے مُلک کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟پہلے تو مقبولیت کے یہ سروے کچھ این جی اوز کرتی تھیں اور ڈنڈی مار کر کسی کو اوپر اور کسی کو نیچے لے جاتی تھیں، اب یہ سروے جلسوں میں کرسیوں کی تعداد اور اُن پر بیٹھنے والے افراد کی گنتی پر مبنی ہوں گے۔آج کل تو باقاعدہ ایسے افراد سامنے آ چکے ہیں، جو پیسے لے کر جلسوں کے لئے بندے سپلائی کرنے کا سوشل میڈیا پر اشتہار دیتے ہیں، پھر تو یہ بڑا آسان ہے کسی کو کرسیوں اور بندوں سمیت جلسے کا ٹھیکہ دیا جائے۔ اس قسم کی سطحی سیاست مُلک کو کیا دے سکتی ہے اور اس قسم کی سوچ رکھنے والے مُلک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟۔۔۔جمہوریت ایسے مضبوط نہیں ہو سکتی، اس کی مضبوطی کے لئے سب سے پہلے عوام کو بے وقوف سمجھنے اور انہیں بے وقوف بنانے کا سلسلہ بند کرنا پڑے گا۔ وگرنہ یہ جمہوریت شاخِ نازک پر بنا ہوا وہ آشیانہ ہے جو آئی ایس پی آر کے ایک ٹویٹ سے لرزنے لگتا ہے۔

مزید :

کالم -