جڑی بوٹیوں سے تیار قدرتی ادویات کی برآمدات کے مواقع بڑھ گئے ‘ فیصل آفریدی

جڑی بوٹیوں سے تیار قدرتی ادویات کی برآمدات کے مواقع بڑھ گئے ‘ فیصل آفریدی

  

لاہور (کامرس رپورٹر)پاک چین جوائنٹ چیمبر کے بانی صدر شاہ فیصل آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں ہربل میڈیسن کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے پاکستان میں جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ قدرتی ادویات کی برآمدات کے مواقع بڑھ گئے ہیں اور اس شعبہ میں پاکستان اور چین کی شراکت داری ہربل میڈیسن انڈسٹری کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ یہ بات پاک انہوں نے نے چیمبر کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پاک چین چیمبر کے صدر مسٹر وانگ زہائی، نائب صدر معظم گھرکی اور ڈاکٹر اقبال قریشی بھی ماجود تھے۔ فیصل آفریدی نے نے بتایا کہ جڑی بوٹیوں سے تیار کی جانے والی ادویات کی عالمی تجارت کا حجم 100 ۔ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کا رجحان قدرتی طریقہ علاج کی جانب بڑھ رہا ہے اور پاکستان قدرتی جڑی بوٹیوں کے ذخائر سے مالا مال ہونے کی بدولت اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ فیصل آفریدی نے کہا کہ چین جڑی بوٹیوں سے علاج میں سب سے قدیم ہے اور 2500 سال کا تجربہ اور مہارت رکھتا ہے ۔چین نے تحقیق کے زریعے قدرتی علاج کو جدید بنا دیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان قدرتی جڑی بوٹیوں سے ذرخیز ہے۔

بالخصوص پاکستان کے ہمالیائی پہاڑوں میں ایسی جڑی بوٹیاں بکثرت پائی جاتی ہیں جو نہائت قیمتی اور نایاب ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان جڑی بوٹیوں کے صیح استعمال سے دنیا بھر کے لوگوں کو قدرتی علاج کے لئے اعلی ادویات میسر آسکتی ہیں اوروطن عزیز خطیر زر مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ اجلاس کے دوران فیصل آفریدی نے مزید بتا یا کہ 2018ء میں ہربل میڈیسن کی عالمی مارکیٹ 107 بلین ڈالر تک متوقع ہے جبکہ 2020ء تک یہ مارکیٹ 115 بلین ڈالر تک بڑھ جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے پاکستان کیلئے اپنی ہربل ادویات کو متعارف کرانے کی وسیع گنجائش بن جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تقریبا 30,000 ہربل ادویات بنانے والی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور اس شعبے کو مزید ترقی دینے کیلئے حکومت کو جدید اور بااختیار ہربل ریسرچ سنٹرز قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکمت کے طبی ماہرین کو مزید علم و ہنر سے آراستہ کیا جا سکے ۔فیصل آفریدی نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور اقتصادی منصوبوں کے بعد اب چین کو پاکستان کے ساتھ مل کر اس شعبے میں بھی شراکت داری پر غور کرنا چاہئے جس سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو سکیں گے۔ پاک چین جوائنٹ چیمبر کے صدر مسٹر وانگ زہائی نے فیصل آفریدی کی تجویز کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی وہ اس سلسلے میں چین اور پاکستان کے صنعتکاروں کو قریب تر لانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتا یا کہ روائتی علاج اور قدرتی ادویات کی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے چین کا صوبہ سیچوان سب سے آگے ہے جہاں 1800 ہسپتال اور 78,000 کلینکس موجود ہیں جہاں روائتی طریقہ کار سے لوگوں کا علاج کیا جا تا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ صوبہ سیچوان 5000 اقسام کی جڑی بوٹیاں اس وقت علاج میں استعمال کر رہا ہے۔ مسٹر وانگ زہائی نے سیچوان کے متعلقہ محکمے کو اس سلسلے میں تعاون کی درخواست بھیجنے کی یقین دہانی کرائی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پہلے مرحلے پر دونوں ممالک کے ہربل تحقیقی مراکز ، تدریسی اداروں ، یونیورسٹیوں ، محققین اور ماہرین کے درمیان روابط قائم کرنے ہوں گے جس سے علم و تجربے کا تبادلہ ہو گاجبکہ اگلے مرحلے میں دونوں ممالک کا مشترکہ ہربل ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیا جائے گا جہاں سے عوام کو اعلی معیار کا قدرتی علاج میسر آ سکے گا۔ چیمبر کے نائب صدر معظم گھرکی نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ اس تمام عمل سے کاروبار کی بیشتر نئی راہیں ہموار ہوں گی او محفوظ ر قدرتی علاج لوگوں کو میسر آ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہربل میڈیسن کی عالمی مارکیٹ میں چین ،امریکہ اور انڈیا نے اعلی معیار کی قدرتی ادویات فراہم کرکے لوگوں کا ان ادویات اور طریقہ علاج پر اعتماد پُختہ کر دیا ہے اور پاکستان بھی اس بڑھتے ہوے رجحان سے فائدہ اُٹھاتے ہوے عالمی منڈی میں اپنی ہربل پراڈکٹس کا لوہا منوا سکتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال قریشی نے اپنے خیالات کے اظہار کے دوران اس سلسلے میں چین اور پاکستان کے درمیان جدید علم اور تازہ ترین معلومات کے تبادلے کو اس منصوبے کی کامیابی کا اہم جُزو قرار دیا۔

مزید :

کامرس -