عورتوں کو بلا سود آسان شرائط پر قر ضے دئیے جائیں

عورتوں کو بلا سود آسان شرائط پر قر ضے دئیے جائیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر ) عورتوں کو بلا سود آسان شرائط پر قر ضے دئیے جائیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔ملک میں عورتوں کی آبادی52 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے ایسے میں اتنی بڑی آبادی کو ملکی امور سے دور رکھ کر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ان خیالات کا اظہار ایف پی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے وومن سپورٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کی چےئر پرسن سیدہ سعیدہ بانو نے ’’خواتین میں کاروبار فروغ دینے کی صلاحیت کی تعمیر ‘‘ کے حوالے سے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروائس چےئرپرسن سیدہ سحر شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ عورتوں کو بلا سود آسان شرائط پر قر ضے دئیے جائیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عورتوں کی مخصوص نشستوں پر کاروباری خواتین کو اپنی صلاحتیں اجاگر کرنے کا موقع دیں۔ پاکستان کی خواتین کسی طرح بھی صلاحتوں میں دوسرے ممالک کی خواتین سے کم نہیں ہیں۔ انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کئے بغیر ملکی معیشت کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔خواتین کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر اقتصادی ترقی ناممکن ہے،دنیا کے اکثر ممالک معاشی نمو کی شرح بڑھانے کی دوڑ میں کمزور طبقات کو نظر انداز کر رہے ہیں جس سے غربت اور محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی غربا کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے عدم مساوات،امتیازی سلوک،قرضہ کی سہولتوں کا فقدان،ملکوں کے مابین تجارت کے بجائے مخالفت پر زور اور ارباب اختیار کی عدم دلچسپی ہے۔ کسی بھی ملک کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایس ایم ایزکی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ اندرونی اور بیرونی مشکلات کے باوجود ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے موثر کردار ادا کیا ہے۔

مزید :

کامرس -