دوبرس گزرگئے، ہائی سکول سولر انرجی پر منتقل نہ ہو سکے

دوبرس گزرگئے، ہائی سکول سولر انرجی پر منتقل نہ ہو سکے

  

لاہور (جنر ل ر پو رٹر )حکومت پنجاب کے گذشتہ دو سالوں سے سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے دعوے صرف کاغذوں کی حد تک محدود رہ گئے،حکومت نے ایک بار پھر سے بائیس ہزار اسی سکولوں کو سولر پینل پر منتقل کرنے کیلئے نئی فہرست جاری کردی۔ذرائع کے مطابق سولر سسٹم نہ لگنے سے پنجاب کے ہزاروں ہائی سکولوں کو ماہانہ ایک ، ایک لاکھ روپے سے زائد بل آنے لگا۔ سکول سربراہ اپنی جیب سے بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، دوسری جانب محکمہ سکول ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ سولر انرجی پر منتقل کرنے کیلئے سکولوں کی حتمی فہرست جاری کردی ہے،رواں سال کے آخر تک فہرست میں شامل سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کردیا جائے گا۔اس حوالے سے ’’پاکستان‘‘ سے مختلف سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی سکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ تعلیم کے میدان میں ایک انقلابی کارنامہ ثابت ہو گا،سخت گرمی میں لوڈشیڈنگ کے دوران بچوں کا برا حال ہو جاتا ہے ایسے میں وہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ نہیں دے سکتے ۔والدین نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کے اس منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں تاکہ غریبوں کے بچے بھی لوڈشیڈنگ کے دوران بلاتعطل خوشگوار ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کو اہمیت دینے والی قومیں ہی ترقی کی مناز ل طے کرتی ہیں اس لئے حکومت تعلیم کی بہتری کیلئے مزید اقدامات ا ٹھائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -