بجٹ میں تنخواہیں اور الاؤنس بڑھائے جائیں ، مزدوروں نے تحریک چلانے کا اعلا ن کر دیا

بجٹ میں تنخواہیں اور الاؤنس بڑھائے جائیں ، مزدوروں نے تحریک چلانے کا اعلا ن ...

  

لاہور(جاوید اقبال)ملک میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ممتاز مزدور تنظیموں نے مزدوروں کی تنخواہ میں ایک ہزار ماہوار اضافہ مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر کرے مزدوروں کے رسک میڈیسن اور رہائشی الاؤنس میں 100فیصد اضافہ کرے بجٹ میں ایسا نہ ہوا تو ریلوے ، واپڈا، ایل ڈی اے، واسا، صحت اور انٹرنیشنل شکاگو لیبر کنفیڈریشن (پاکستان چیپٹر) بجٹ کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے مزدور سڑکوں پر آئیں گے اور جب تک یہ اضافہ نہیں ہو گا اس وقت تک سڑکوں پر دما دم مست قلندر ہو گا اس امر کا اظہار 16کے قریب مزدور تنظیموں کی مرکزی قیادت نے گزشتہ روز پاکستان کے فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انٹرنیشنل شکاگو لیبر کنفیڈریشن (پاکستان چیپٹر) کے چیئرمین ڈاکٹر اعظم آرائیں نے کہا کہ پنجاب حکومت میں مزدور کی تنخواہ میں ایک ہزار ماہوار اضافہ کیا ہے یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں مہنگائی کے تناسب سے یہ کسی طریقے سے بھی مناسب نہیں ہے مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے لیبر پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہو رہا حکومت نے جو گزشتہ سال مزدور کی تنخواہ 14ہزار روپے ماہوار کی تھی اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا 70فیصد فیکٹریوں میں اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور صرف 6سے 7ہزار ماہوار تنخواہ دی جاتی ہے۔پاکستان ریلوے سی بی اے یونین کے قائد راجہ رضوان ستی ورکرز یونین سی بی اے رہنما افتخار احمد بٹ اور سید حسن ذیشان نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ 45ہزار روپے ماہوار کی جائے ورنہ پورے ملک میں تحریک شروع کریں گے مزدور کی ماہانہ تنخواہ سے مرمت فنڈز کے نام پر 4پرسنٹ ہر ماہ کاٹ لی جاتی ہے جبکہ حالات یہ ہیں کہ درجہ چہارم کے ملازمین کی رہائشی کالونیوں میں گزشتہ 30سال سے تعمیر و مرمت کا کوئی کام نہیں ہوا اگر اس تناسب سے تنخواہ نہ بڑھائی گئی تو پورے ملک میں ریل کا پہیہ جام کر دیں گے ۔حسیب اللہ خان جنرل سیکرٹری لیبر اسمبلی نے کہا کہ مزدور کا استحصال ہو رہا ہے اس حکومت میں سب سے زیادہ مزدور زیر عتاب رہا ہے آئے روز مزدور کو کان سے پکڑ کر مالک جب چاہتا ہے کام سے نکال دیتا ہے اس کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔کے ایل سی پنجاب کے جنرل سیکرٹری محمد عاشق غوث نے کہا کہ پنجاب حکومت نے لیبر ڈے کے موقع پر مزدور کی تنخواہ میں جو ایک ہزار کا موقع کیا ہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے یہ مزدور سے زیادتی ہے حکومت 15ہزار میں گھر کا بجٹ بنا کر دکھائے تو ہم سب ن لیگ میں شامل ہو جائیں گے ۔ہیلتھ الائیڈ سٹاف ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین انتظار نقوی نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں ہم حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مزدو ر کے لئے کام کرے ہیں مزدور کے رسک الاؤنس میڈیکل الاؤنس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو دیئے گئے رسک الاؤنس کے برابر اضافہ کرے گی اگر ایسا نہ ہوا تو پورے پنجاب میں تحریک چلائیں گے آئی سی ایل سی کے سینئر ممبر آصف حسین نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ حکومت کے لئے مسائل پیدا کریں اور سڑکوں پر آئیں مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے مرمت کے نام پر جو تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے بجٹ میں یہ ٹیکس واپس لیا جائے دیگر رہنماؤں آصف حسین، چوہدری یاسین، عثمان اعظم، طاہر ابرار نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2017، 2018ء کے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ 36ہزار ماہوار کی جائے موجودہ تنخواہ میں روٹی پوری نہیں ہوتی تو بچوں کو تعلیم کیسے دلوائیں مہنگائی کے باعث مزدور اپنے بچے سکولوں میں بھجوانے سے قاصر آئی سی ایل سی کے ایڈوائزر رفعت کاظمی اورجنرل سیکرٹری صابرہ عصمت نے کہا کہ آئندہ بجٹ مزدور دوست ہونا چاہئے نہ کہ الفاظ کا گورکھ دھندہ اگر مزدور دشمن بجٹ آیا تو مزدور سر پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکلیں گے ۔واپڈا ہائیڈرو یونین کے رہنما کامران بیگ نے کہا کہ مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر ہونی چاہئے اور کلرکوں اور اسسٹنٹس کے لئے جو سروس سٹرکچر جاری کیا گیا ہے وہ نامناسب ہے انسپکٹرز اور اسسٹنٹس کو کلرکوں کے ماتحت کر دیا گیا ہے بجٹ میں توسیع کی جائے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ایک جج کی تنخواہ 10لاکھ ماہوار اور عام ملازمین کی تنخواہ ایک تولے سونے کے برابر ہے ہم بھی اسی ملک کے باسی ہیں ہماری تنخواہیں ایک تولہ سونا کے برابر نہیں کرنی تو ہائیکورٹ کے نائب قاصد اور ڈرائیور کے برابر مزدور کی تنخواہ کر دی جائے ڈاکٹر ریاض کے علاوہ محمد یاسین چوہدری ، آصف حسین ، ڈاکٹر رفعت کاظمی نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے اور ان کی ڈگریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے انہیں ماہانہ تنخواہ 3سے 5ہزار ماہوار ملتی ہے انہیں حکومت مزدور ہی تصور کر لے ان کی تنخواہیں مزدور کے برابر ہی کر لے کوئی ایسا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے جس سے مزدور متاثر ہوں اور اس کا بجٹ مزدور پر پڑے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -