ججوں نے وزیر اعظم کو جھوٹا نہیں کہا ، دوسیاسی لیڈروں نے قوم سے جھوٹ بولا : سپریم کورٹ

ججوں نے وزیر اعظم کو جھوٹا نہیں کہا ، دوسیاسی لیڈروں نے قوم سے جھوٹ بولا : ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے پاناما لیکس پر وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سے تحقیقات کیلئے اعلان کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے ارکان منتخب کر لیے ہیں۔سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کیا جبکہ جے آئی کیلئے اداروں کی طرف سے دیئے گئے ناموں کے سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے سے قبل میڈیا پر آنے پر بھی فاضل بیچ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ جے آئی ٹی کا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلی جنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہوں گے۔ تحقیقاتی ٹیم کیلئے دو کروڑ روپے کا بجٹ مختص ،جے آئی ٹی میں شامل افسران کورہائشی وسفری سہولیات مہیاکی جائیگی، سیکرٹریٹ جوڈیشل اکیڈمی میں قائم کیا جائے گا، تاہم سپریم جوڈیشل اکیڈمی میں دفتر اور ملازمین کی منظوری چیف جسٹس پاکستان سے لی جائے گی ، جے آئی ٹی مقامی اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرسکے گی ۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو جے آئی ٹی کے ارکان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات بھی دیئے ہیں، اس سلسلے میں سیکرٹری داخلہ تمام انتظامات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے جے آئی ٹی دوماہ کے عرصے میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ فیصلے میں اٹھائے گئے پندرہ سوالوں کے جواب تلاش کرے گی وہ ا س ضمن میں مقامی اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرسکے گی،جے آئی ٹی اپنی ابتدائی تفتیشی رپورٹ 22 مئی کو عدالت عظمیٰ کے خصوصی بنچ کو پیش کرے گی۔سپریم کورٹ میں پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ایک لیڈر اور سیاسی رہنما نے کہا پانچوں ججوں نے نواز شریف کو جھوٹا قرار دیا، جسٹس اعجاز الا حسن اور شیخ عظمت سعید سمیت میں نے کسی کو جھوٹا نہیں کہا ، دونوں نے قوم سے جھوٹ بولا ہے، ہم تحمل اور بردباری سے کام لے رہے ہیں، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، عدلیہ کے ججز سے غلط بات منسوب کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں، زمین پھٹے یا آسمان گرے، عوام سیاستدان کیا کہتے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، جمعہ کو کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الا حسن پر مشتمل پانچ رکنی خصوصی عملدرآمد بنچ نے کی، مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کی جانب سے گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کی فہرست پیش کی اور اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی دونوں عدالت میں موجود ہیں، چیئرمین ایس ای سی پی پیش ہوئے تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں جس پر انہوں نے کہا میں چیئر مین ایس ای سی پی ہوں اور میرا نام ظفر اعجازی ہے، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید کہا آپ کے بھیجے ہوئے ناموں کی تصدیق کرائی، ایسے لگا جیسے ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے، نامزد افسروں کی سیاسی وابستگی کے حوالے سے منفی رپورٹ ملی ہے، انکے سیاسی، معاشی اور سماجی پس منظر درست نہیں، بھیجے گئے نام درست نہیں انکے کردار پر تحفظات تھے، ہمیں افسوس ہے اداروں کے سربراہان نے ہمارے ساتھ غلط کیا ہمیں مس گائیڈ کیا،سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم خصوصی بینچ کی سماعت کے دوران ججز نے جے آئی ٹی میں شمولیت کیلئے اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے افسران کے ناموں کی فہرست میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا نام ہم تک پہنچنے سے پہلے کیسے لیک ہوئے ؟جو نام سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوئے وہ خارج کر دیئے جائیں، افسران کے نام لیک ہونے کے ذمہ داراداروں کے سربراہان ہیں ، جانتے ہیں جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کا فائدہ کس کو ہو گا؟ تمام لوگوں کو بتا دیں عدالت کو سیاسی نہ بنائیں، زمین پھٹے یا آسمان گرے،قانون پر چلیں گے، کون کیا کر رہا ہے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے صبرکا امتحان مت لیں، جے آئی ٹی کے افسران کا چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے عملے کو بھی نہیں پتہ تھا، سپریم کورٹ سے نام لیک نہیں ہوئے، اٹارنی جنرل نے کہا عدالتی کارروائی پر بحث کرنے پر پابندی لگائی جائے اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا دونوں فریقین نے جیتنا شور مچانا ہے مچاتے رہیں ہمیں اس سے غرض نہیں، میڈیا کو کنٹرول کرنا ہمیں آتا ہے لیکن آزادی صحافت بھی ہمیں مقدم ہے، اداروں کو بتائیں زیادہ سمارٹ نہ بنیں، خفیہ معاملات کا خفیہ پن برقرار رہنا چاہیے،اٹارنی جنرل نے کہا یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے، پوری دنیا کی نظریں اس معاملہ پرلگی ہیں ہے، اب یہ معاملہ عالمی پس منظر داخل ہو چکا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا فریڈم آف پریس کے باعث آزادی صحافت کو سامنے رکھتے ہوئے توازن قائم کرنا چاہتے ہیں، دریں اثنا ء میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے کہا ہے اداروں کے سربراہان نے جے آئی ٹی کیلئے نام دئیے ہیں اور ہم اس معاملے پر مکمل طور پر سپریم کورٹ کیساتھ ہیں،ہم اس ضمن میں افواہوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی 60 روز میں کام مکمل کر لے گی۔ مسلم لیگ ن اور وزیراعظم نواز شریف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے چیزوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اس معاملے پر بھی کڑی نگاہ رکھیں گے۔ سپریم کورٹ پرہمیں پورا اور مکمل اعتماد ہے، قوم ڈان لیکس کی رپورٹ منظرعام پرآنے کی منتظر ہے لیکن وزیراعظم نے اس معاملے کی رپورٹ کو دبا رکھا ہے۔ ہمارے خیال میں سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ میں وزیراعظم کے بھائی شہبازشریف کو ذمہ دارقراردیا گیا ہے اسلئے اس رپورٹ کو بھی چھپا کر رکھا گیا یے، ہمارا مطالبہ ہے نواز شریف سچ پرسمجھوتہ نہ کریں،اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے عدلیہ کا احترام کیا ہے، پاکستان میں یہ روایت نہیں کہ اپوزیشن عدالتی فیصلوں کو تسلیم کریں لیکن ہم عدالتی فیصلوں کو کسی بھی حجت کے بغیر قبول کررہے ہیں، پاناما کیس عمران خان کا ذاتی معاملہ نہیں یہ پاکستانی عوام کا مقدمہ ہے، ہم تو پہلے دن سے ہی بتارہے ہیں وزیر اعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور تحقیقات میں شامل ہوجائیں۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -