اسلام آباد میں تماشہ لگانے والے 2018ء میں بالکل فارغ ہو جائیں گے : نواز شریف

اسلام آباد میں تماشہ لگانے والے 2018ء میں بالکل فارغ ہو جائیں گے : نواز شریف

  

نیلم(این این آئی)وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ اسلام آباد میں تماشالگانے والے2018ء میں بالکل فارغ ہوجائیں گے، برابھلابولنے کاشوق ہے تو بولیں لیکن منصوبوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں،گالیاں سنی ہیں دی نہیں،اپنی زبان کو گندانہیں کیا،ہم گالی کی سیاست میں الجھ جاتے تو ہمارا آپ جیساحشرہوتا،کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کریں 2018ء میں شیرآئے گا اور بند آنکھوں والے کبوتر کو لے جائے گا،جس نے لوڈشیڈنگ میں مبتلا کیا سب جانتے ہیں اور آج احتجاج بھی وہی کررہے ہیں،پچھلے دورمیں ہرروز نیاسکینڈل آتاتھا،جس کومینڈیٹ ملتا ہے اس کوکام نہیں کرنے دیاجاتادھرنے دیاجاتے ہیں،ایک نیاپاکستان تعمیرہورہاہے،ملک میں انقلاب برپاہورہاہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ روز نیلم جہلم ہائیڈروپاورپراجیکٹ کادورہ کیا اس موقع پروزیراعظم کو پراجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے69 کلومیٹر طویل ٹنل کی تکمیل کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم کوبتایا گیا کہ منصوبے کاپہلا یونٹ فروری 2018ء میں بجلی پیدا کرنا شروع کردیگا ،منصوبے کادوسرا یونٹ مارچ تیسرا اورچوتھا یونٹ اپریل 2018ء میں بجلی کی پیداوار شروع کرے گا۔حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کا92 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے نیلم جہلم پراجیکٹ کی68کلومیٹر طویل ٹنل تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے ٹنل مکمل ہوتے ہی منصوبے کی تکمیل کااہم مرحلہ مکمل ہوجائیگا ۔اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ نیلم جہلم کایہ میرا چوتھا دورہ ہے حکومت سنبھالی تو لوڈشیڈنگ عروج پر تھی بجلی کی شدید قلت تھی قوم کو جس نے لوڈشیڈنگ میں مبتلا کیا سب جانتے ہیں آج احتجاج وہ کررہے ہیں جنہوں نے قوم کو اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر روز الزام تراشی کی جارہی ہے الزام تراشی ان کاشیوہ بن گیا ہے اب لوگ الزام تراشی سے تنگ آچکے ہیں کیونکہ ان کاایجنڈا یہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انقلاب آرہاہے آئیں دیکھیں کیاہورہا ہے اگر آپ بدزبانی سے مجبور ہیں توضرور شوق پوراکریں لیکن قومی منصوبوں میں تو رکاوٹ نہ ڈالیں۔وزیراعظم نے کہا کہ گالیاں نکالنے سے ان کوخود نقصان ہورہا ہے اپنی بند آنکھیں کھولیں یہاں آئیں تو ان کی آنکھیں خود ہی کھل جائیں گی68کلومیٹرسرنگیں پہاڑوں میں بن رہی ہیں یہ آسان کام نہیں روز ایسے کام نہیں ہوتے ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کررہے ہیں پہاڑوں میں ٹنل بناناعجوبہ ہے ایک طرف نیلم اور دوسری طرف جہلم دریا ہے اس منصوبے سے 969میگاواٹ بجلی ملے گی اس منصوبے کا ایسا برا حال تھا کہ لگتا تھا کہ آئندہ بیس برسوں میں بھی مکمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے اس پر توجہ نہ دیتے تو یہ اورلٹکارہتا یہ پاکستان میں روایت ہے بڑھ چڑھ کرہر کوئی باتیں کرتے ہیں کیا پاکستان کی ترقی کسی کو عزیز نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آنے سے پہلے انتخابات میں وعدہ کیاتھا کہ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے پوری کوشش کرینگے اور اپنے دوراقتدار میں لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کرینگے۔2012 ء میں پاکستان کے بارے میں باتیں ہورہی تھیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا کرپشن دہشت گردی، لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پاکستان کہاں تھا اور آج کہاں ہے ان کے دورمیں دہشت گردی اور معیشت کاکیاحشر تھا جو یہ الفاظ بولتے ہیں قوم ان سے خود حساب لے گی یہ کس منہ سے باتیں کرتے ہیں آج ہم نے دہشت گردی کی کمرتوڑ دی ہے، گروتھ ریٹ تین سوساڑھے پانچ تک پہنچ گیا ہے آئندہ برسوں میں سات سے اوپر جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی رہی ساری فلمیں ٹی وی پرچلتی رہیں آج گیس اور بجلی انڈسٹری کو سوفیصد مل رہی ہے کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہے یہ معمولی باتیں نہیں ہم نے کام کیاہے گندی باتوں کاجواب نہیں دیاگالیاں نہیں دیں گالیاں سنی ہیں اوراس کاجواب انکی زبان میں نہیں دیا اپنے کام میں مگن رہے جس کانتیجہ قوم دیکھ رہی ہے یہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جب الیکشن ہوتے ہیں تو بھاگ جاتے ہیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کریں 2018ء میں شیرآئے گا اور بند آنکھوں والے کبوتر کو لے جائے گا۔انہوں نے کہاکہ 2013ء کے انتخابات کے بعد سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومت میں کوئی دخل نہیں دیا ہم نے اچھی روایت ڈالی کہ آنیوالا جانیوالے کو عزت دے ہمارا خیال تھا کہ ہم داسو،نیوکلیئرپلانٹ اوردیگرمنصوبوں کااکٹھے افتتاح کرتے ۔ انہوں نے کہاکہ توانائی منصوبوں کا ہرماہ افتتاح ہوگا تھرمیں بجلی کے کوئلے کے منصوبے لگ رہے ہیں پانی، سولر اور کوئلے سے بجلی بنائی جائے گی ملک میں انقلاب برپا ہورہا ہے اورآئندہ سال کے شروع میں دس ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی یہ اتنی بجلی ہے جو گزشتہ70برسوں میں بنائی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کی وجہ سے بے شمار منصوبے لگ رہے ہیں جب ہم نے عوام سے وعدے کئے تو اس وقت کوئی امکانات نہیں تھے، اللہ نے مدد کی آج منصوبے مکمل ہورہے ہیں منصوبے مکمل ہونے پرہماری حکومت خوش ہے آزاد کشمیر کے صدر نے بھی تعاون کیا اس کافائدہ پاکستان کیساتھ آزادکشمیر کے لوگوں کو بھی پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء سے پہلے جو اقتدار میں تھے انہیں جواب دیناچاہیے صرف ہم ہیں جو پشاور سے اسلام آباد موٹروے بناتے ہیں اسلام آباد سے لاہورتک موٹروے بنائی کیوں دوسروں نے بلوچستان میں سڑکیں نہیں بنائیں آج بلوچستان پنجاب کے ساتھ مل رہا ہے ہم سے پہلے والے پاکستانی نہیں تھے پہلے پیسہ لوگوں کی جیب میں گیا روز ان کے سکینڈل آتے تھے پچھلے دور میں سکینڈلز کی بھرمار تھی ہمارے چار سال میں کوئی سکینڈل نہیں آیا ان سب باتوں پر غور کرناچاہیے جس کو مینڈیٹ ملتا ہے اس کو کام نہیں کرنے دیاجاتا اور اور کاموں میں الجھادیاجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے دے کر قیمتی وقت ضائع کیاگیا سی پیک دس مہینے تاخیر کاشکار ہوا دھرنوں میں منفی سیاست کی گئی انتخابات سے متعلق فیصلہ آیا تو آپ کو منہ کی کھانی پڑی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ملک کو اندھیروں کی طرف لے جاناچاہتے ہیں لیکن ہم روشنی کی طرف ۔ایک نیاپاکستان تعمیرہورہا ہے بھکی کے بعد حویلی بہادر شاہ ،بلوکی ،قادرآباد اور پورٹ قاسم کے منصوبے مکمل ہورہے ہیں پہلی مرتبہ کراچی سے خنجرات، گوادر خنجراب موٹروے بن رہی ہے مظفرآباد سے مانسہرہ موٹروے بن رہی ہے بالاکوٹ سے بابوسرٹاپ سے چلاس تک موٹروے بن رہی ہے خیبرپختونخوا میں ہزارہ موٹروے بن رہی ہے پاکستان میں خوشگواراحساس تیزی سے فروغ پارہاہے، سٹاک مارکیٹ دنیا کی پانچویں بہترین مارکیٹ ہے انڈسٹری ترقی کررہی ہے لوگوں میں اعتماد آرہا ہے کراچی کے حالات بہتر ہورہے ہیں ۔

نوازشریف

مزید :

صفحہ اول -