عدالت کے قطری خط نہ ماننے کا مطلب وزیر اعظم صادق نہیں : عمران خان

عدالت کے قطری خط نہ ماننے کا مطلب وزیر اعظم صادق نہیں : عمران خان

  

نوشہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سیاست میں اس لئے آیا تاکہ پاکستان کو قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے خواب کے مطابق ملک بنا سکوں اور یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ رہے، یہاں سے غربت ختم ہو۔ میرا سیاست میں آنے کا مقصد وزیر اعظم بننا نہیں بلکہ ملک کی عزت میں اضافہ اور غربت ختم کرنا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے میں نے کہا تھا 2ججوں نے نوازشریف کو جھوٹا کہا ، 3ججوں نے نوازشریف کی جانب سے جمع کردہ دستاویزات کو نہیں مانا، عدالت کے قطری خط نہ ماننے کا مطلب وزیراعظم صادق نہیں،صادق اورامین لیڈر کیساتھ پوری قوم کھڑی ہوتی ہے،شریف بتائیں 35سال میں کس کورشوت نہیں دی؟وزیراعظم کے ماتحت جے آئی ٹی بننے جارہی ہے۔میری نواز شریف سے کوئی دشمنی نہیں مگر نواز شریف میرے خواب کے راستے میں کھڑے ہیں، چاہتا ہوں پاکستان وہ ملک بنے جو علامہ اقبالؒ کی سوچ تھی لیکن جب تک نواز شریف جیسے کرپٹ سیاستدان ہیں، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ایوب خان کی حکومت سے اختلاف ہے مگر جب ایوب خان امریکہ گیا تو اس کو بہت عزت ملی لیکن آج نواز شریف کو امریکی صدر سے بات کرنے سے پہلے پانی کا گلاس پینا پڑتا ہے اور پرچیاں لے کر جانا پڑتی ہیں۔نواز شریف کو نیچا دکھانا مقصد نہیں، ہمارا مقصد پاکستانیوں کی اور سبز پاسپورٹ کی باعزت بنانا ہے ، کرپشن نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے، ہم دنیا سے قرضے مانگتے پھرتے ہیں، ہم ایک مقروض قوم ہیں۔ اسحاق ڈار دبئی گئے، آئی ایم ایف سے میٹنگ ہوئی تو کہا گیا ملک میں 40 ارب کے ٹیکس مزید لگاؤ، پاکستان سے ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جسے پورا کرنے کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں۔ نواز شریف کرپٹ نہ ہوتا تو بہت اچھے تعلقات ہوتے۔ ہم نے بچوں کو سڑکوں سے اٹھا کر تعلیم دی، پختونخوا حکومت نے پچھلے 3 سال میں 80 کروڑ درخت لگائے، درخت اگانے سے موسم گرم ہونے سے رکتا ہے، بنجر علاقوں میں درخت لگائے گئے جو علاقوں کو تبدیل کر رہے ہیں۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -