چمن ، افغان فورسز کی گولہ باری ، 2جوانوں سمیت 11شہید ،50زخمی جوابی کارروائی میں 37ہلاک

چمن ، افغان فورسز کی گولہ باری ، 2جوانوں سمیت 11شہید ،50زخمی جوابی کارروائی ...

  

چمن228کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک228ایجنسیاں228 نیٹ نیوز)افغانستان کی فورسز نے بھارتی ایما پرپاکستان کے سرحدی علاقوں میں مردم شماری کاعمل سبوتاژکرنے کی سازش کرتے ہوئے چمن کے علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایف سی کے دو جوانوں ، تین خواتین اور پانچ بچوں سمیت11 افراد شہید اورچار ایف سی اہلکاروں سمیت 50 سے زائد زخمی ہوگئے، حملہ اس وقت کیاگیا جب کلی لقمان اور کلی جہانگیرمیں مردم شماری ہورہی ہے،پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی تین چوکیاں تباہ ہو گئیں افغان فورسز کے 37اہلکار مارے گئے ۔ اس واقعہ کے بعد پاک افغان سرحد پر باب دوستی ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند کر دیا گیا ۔تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں زیرو پوائنٹ کے ساتھ ملحقہ دیہات کو خالی کرالیا گیا ، سکولوں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا گیا، علاقے میں مردم شماری مؤخر کر دی گئی ہے ۔ افغان سرحدی فورسزنے چمن کے علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کی ۔گھروں پر گولے برسا دیئے ۔ شہیداورزخمیوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیاگیا ۔ سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پانچ بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔ پانچ شدید زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ پولیس نے تصدیق کی کہ زخمیوں میں چارایف سی اہلکار شامل تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسرقلعہ عبداللہ ساجد مہمند نے کہا کہ تمام شہید اور زخمی افراد کا تعلق کلی لقمان، کلی جہانگیر سے ہے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق افغان بارڈر پولیس نے مردم شماری ٹیم کی سکیورٹی پر مامور ایف سی بلوچستان کے اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ 30اپریل سے افغانستان کی سرحدی پولیس کلی لقمان اور کلی جہانگیر کے علاقوں میں پاکستانی سرحد کی جانب جاری مردم شماری کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔ افغان انتظامیہ کو پیشگی اطلاع جبکہ مردم شماری کا عمل یقینی بنانے کے لیے سفارتی اور فوجی سطح پر تعاون اور روابط کے باوجود افغانستان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کلی جہانگیر کے رہائشی اور حملے میں زخمی ہونے والے حاجی ایوب نے بتایا کہ ہم سو رہے تھے کہ اچانک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جس کے فورا بعد ہم گھر سے نکل کر چمن بازار کی جانب روانہ ہوئے۔ کلی لقمان کے رہائشی عبدالمتین کے مطابق افغان فورسز نے یہ حملہ اس وقت کیا جب ایف سی اہلکار علاقے میں آنے والی مردم شماری کی ٹیم کی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔عبدالمتین نے بتایا کہ میرا ایک قریبی رشتے دار بھی حملے کا نشانہ بنا۔ پسپائی کے بعد افغان فورسز نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کردیا اورافغان فوجی چوکیاں خالی کرنے کے بعد واپس فرار ہوگئے ۔ صوبے قندھار کے گورنرکے ترجمان صمیم خپول واک نے الزام عائدکیا ہے کہ پاکستانی مردم شماری ٹیم افغان حدود میں مردم شماری کررہی تھی اورافغان فورسزکے روکنے پرجھڑپ شروع ہوئی جوکئی گھنٹے جاری رہی جس سے دونوں جانب جانی نقصان ہوا۔افغان حکام کے مطابق سرحدی علاقے میں اضافی نفری تعینات کردی ہے۔پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے بعد پاک فوج کے تازہ دم دستے چمن کے سرحدی علاقے میں پہنچ گئے ‘ قافلے میں موبائل ہسپتال بھی شامل جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے پاک ایئر فورس کو بھی الرٹ کردیا گیا پاک فوج کے قافلوں میں موبائل ہسپتال بھی ساتھ ہے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے پاک ایئر فورس کو بھی الرٹ کردیا گیا چمن اور ضلع قلعہ عبداللہ کے تمام تعلیمی اداروں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند جبکہ شہریوں کو گھروں کے چھتوں پر جانے سے منع کردیا گیا ‘ چمن سے کوئٹہ کی جانب آنیوالے تمام ٹریفک کو راستے میں روک دیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ قیصر خان ناصر کی سربراہی میں سرحدی علاقوں کو خالی کیا گیا۔ افغان فورسز کی جانب سے اشتعال انگیز فائرنگ کے بعد پورے چمن کے عوام بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہیں تاہم فورسز نے انہیں گھروں تک محدود کیا گیا اور کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے شہر ی اپنے گھروں میں رہے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشن میجرجنرل ساحرشمشاد مرزا نے افغان ہم منصب سے ہاٹ لائن پررابطہ کرکے پاکستانی دیہاتیوں اورسیکیورٹی فورسز پرفائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم اپنی سرحد کے ساتھ اپناکام جاری رکھیں گے،افغان افواج کو سرحدی حدود کے اندر رکھاجائے اور صورتحال معمول پرلائی جائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے ڈائریکٹرجنرلزملٹری آپریشن(ڈی جی ایم او)کے درمیان ہاٹ لائن پررابطہ ہوا ۔ڈی جی ایم او پاکستان آرمی میجرجنرل ساحرشمشاد مرزا نے پاکستانی دیہاتیوں اور سیکیورٹی فورسز پربلااشتعال فائرنگ کی مذمت کی۔ جس کے نتیجہ میں جانی نقصان ہوا ۔ انہوں نے افغان ہم منصب کو بتایا کہ مذکورہ دیہات سرحد کے دونوں جانب منقسم ہیں لیکن پاکستانی فورسزاورسویلین پاکستانی حدود میں ہیں افغان ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز نے اعتراف کیا کہ بارڈرمذکورہ دیہات کے درمیان ہے اورکھائی میں نہیں ہے جیسا کہ ان کی جانب سے خیال کیاجارہاتھا ۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے افغان ہم منصب سے کہاکہ وہ اپنی افواج کواپنی سرحدی حدود کے اندر رکھیں اور صورتحال کومعمول پرلائیں۔ڈی جی ایم او پاکستان آرمی نے افغان ہم منصب کو آگاہ کیا کہ ہم اپنی سرحد کے ساتھ اپناکام جاری رکھیں گے ۔ہاٹ لائن رابطے کے بعد مقامی کمانڈرز کی سطح پربارڈرفلیگ میٹنگ بھی ہوئی ۔افغان ڈی جی ایم او نے معاملے کاجائزہ لینے اورضروری ہدایات جاری کرنے پراتفاق کیا۔بیان کے مطابق سرحد پر فائرنگ کاتبادلہ رک چکاہے۔وزیراعطم میاں محمد نواز شریف نے چمن بارڈر پر افغان پولیس کی ایف سی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قیمتیں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکام کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایسے کسی بھی واقعے کی ذمہ دار افغان حکومت ہو گئی، وزیراعظم ہاؤس سیجاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چمن بارڈر پر مردم شماری ٹیم کی حفاظت پر مامور ایف سی اہلکاروں پر افغان بارڈر پولیس کی بلا اشتعال فائرنگ خطے میں امن و امان کے قیام کیلئے ہماری کوششوں کے سراسر برعکس ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جاں بحق افراد اور ایف سی اہلکاروں کو اپنے جوارا رحمت جبکہ غمزدہ خاندانوں کو پہاڑ جیسا غم اور صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان حکومت کی سکیورٹی ایجنسیز سے اپنا ملک سنبھلتا نہیں مگر پاکستان کے معصوم شہریوں پر گولہ باری کرکے ایک انتہائی غلط راویت قائم کی گئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے یہ بات آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہی، آئی جی ایف سی نے بلوچستان نے وزیر داخلہ کو چمن واقعے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعہ مردم شماری میں مصروف ہماری سیکیورٹی فورسز پر بلا جواز گولہ باری سے شروع ہوا،وزیرداخلہ نے کہا کہ پاک فوج اور ایف سی کے مثبت اور دلیرانہ ردعمل سے آئندہ سرحد کے اس پار سے ایسی روش کی حوصلہ شکنی ہوگی، فوری اور موثر جواب نے کسی اور کے اشارے پر افغان فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کو بھاری نقصان سے غیر موثر بنا دیا ہے۔حکام نے متاثرہ علاقے میں ن مزید ایمبو لنسیں بھیج کر طبی کیمپ قائم کر دیئے ہیں

افغان فورسز ۔ حملہ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 ایجنسیاں) پاکستان میں افغان ناظم الامور عبدالناصر یوسف کو دفتر خارجہ طلب کر کے چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور احتجاجی مراسلہ افغان ناظم الامور کو تھما یا گیا، افغان فورسز کی جانب سے چمن بارڈر پر مردم شماری کی ٹیم پر افغان فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے افغان ناظم الامور عبدالناصر یوسف کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ا کہا گیا کہ فوری طور پر افغان فورسز فائرنگ کا سلسلہ بند کریں اگر افغان فورسز نے فائرنگ کا سلسلہ بند نہ کیا تو ہم کارروائی کا حق رکھتے ہیں اور دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا بھی جانتے ہیں۔ ، دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینا بھی جانتے دریں اثناء پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے واقعہ پر شدید احتجاج کیا ۔ افغان ناظم الامور کو کہا گیا ہے کہ افغانستان فوری طور پر پاکستانی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ بند کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران چمن باڈر پر افغان فورسز کی جانب سے کی گئی فائرنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے پاکستان نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اپنے اندرونی معاملات کو بہتر کرے اور ان الزامات سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو لوگ امن مخالف ہیں افغان سرحد کی حد بندی حد ہے اور پاکستان اپنے مکمل دفاع سے آگاہ ہے اور افغان حکومت کو اپنی فورسز کو وہاں سے فوری واپس ہٹانا چاہئے ۔ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے دیئے گئے بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے دورے کے لئے پیشگی شرط رکھی اور کہا ہے کہ جب تک پاکستان افغانستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث افراد کو افعانستان کے حوالے نہیں کرتا وہ پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے افغانستان اپنے اندرونی بگڑتے ہوئے حالات بہتر کرے اور پاکستان پر الزام تراشی بند کی جائے ۔ افغان صدر کے اس طرح کے بیانات سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو کہ افغانستان میں امن کے خواں نہیں۔ افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے بعد بارڈر فلیگ میٹنگ اور پاک افغان ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا۔ڈی جی ایم او پاکستان میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے افغان ہم منصب کو بتا دیا کہ اپنے علاقے میں مردم شماری سمیت سب کام کرتے رہیں گے۔ڈی جی ایم او پاکستان، میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستانی علاقوں اور سیکیورٹی فورسز پر بلا اشتعال افغان فائرنگ و گولہ باری کی مذمت کی۔انہوں نے افغان ہم منصب کو باور کرایا کہ کلی لقمان اور کلی جہانگیر سرحد پر منقسم دیہات ہیں، پاکستانی فورسز اور شہری اپنے علاقوں میں کام جاری رکھیں گے۔افغان ڈی جی ایم او نے پاکستانی موقف تسلیم کیا۔افغان ڈی جی ایم او کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور ضروری ہدایات جاری کریں گے۔

افغان ناظم الامور۔ طلبی

مزید :

صفحہ اول -