افغانستان سے دوٹوک بات کی جائے گولہ باری جاری رہی تو سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے ، بلوچستان کی سیاسی جماعتیں

افغانستان سے دوٹوک بات کی جائے گولہ باری جاری رہی تو سر پر کفن باندھ کر نکلیں ...

  

کوئٹہ(اے این این) بلوچستان کی سیا سی جماعتوں نے افغان فورسز کی جانب سے پاک افغان چمن بارڈر کے قریب آبادی پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح اشتعال انگیز واقعہ سے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں،حکومت افغانستان سے دوٹوک بات کرے، گولہ باری جارہی تو سروں پرکفن باندھ کر باہر نکل آئیں گے،پاکستان افغانستان کیساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات کا خواہشمند رہا،افغان سکیورٹی فورسزنہ جانے کیوں بمباری کررہی ہیں؟۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اپوزیشن لیڈر مولا نا عبدالواسع ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری نصیب اللہ بازئی ،تحریک انصاف کے نوابزادہ ہمایون جوگیزئی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ قبائلی رہنماء سعید آغا اور دیگر نے واقعہ کے بعد رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے پر توجہ دیا ہے اور آج بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے موڈ میں ہے لیکن نہ جانے افغان حکومت اور فورسز کیوں اس طرح کارروائی کر رہے ہیں جس سے دونوں جانب حالات خراب بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات بھی خراب ہوسکیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے خفیہ ایجنسی کے اہلکار بیٹھ کر حالات خراب کر رہے ہیں اور ا س سلسلے میں افغان فورسز کو بھی استعمال کیا جارہا ہے جو کہ نیک شکو ن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت اور افغان فورسز نے اسی طرح برقرار رکھا اور پاکستانی سر زمین کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی جاری رکھی تو کل پاکستان بھی مجبور ہو کر اپنے عوام کے دفاع کیلئے سب کچھ کر سکتے ہیں انہوں نے حکومت وقت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان حکومت کے سامنے اشتعال انگیز کارروائی رکھ کر بھر پور احتجاج کریں بلکہ ایسے پالیسی بنایا جائے کہ کل دوبارہ نا خوشگوار واقعہ رونماء نہیں ہو سکیں انہوں نے کہا کہ ہم متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں شہداء کے درجہ بلندی کیلئے اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -