طالبان کیساتھ امن معاہدہ کیاجائے ، پاکستان اور ایران ، افغانستان میں مداخلت سے باز رہیں : حکمت یار

طالبان کیساتھ امن معاہدہ کیاجائے ، پاکستان اور ایران ، افغانستان میں مداخلت ...

  

واشنگٹن (این این آئی)دو عشروں تک زیر زمین رہنے کے بعدمنظر عام پر آنیوالے سابق افغان قبائلی سردارگلبدین حکمت یارنے مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیاجائے ،میڈیارپورٹس کے مطابق حکمت یار نے یہ بات صدارتی محل میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی، جس میں انہوں نے صدر اشرف غنی کو درپیش ممکنہ پیچیدگیوں کی نشاندہی کی، جنھوں نے گذشتہ سال حکمت یار کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے نتیجے میں ’حزب اسلامی پارٹی‘ حکومت میں شامل ہوئی۔افغان طالبان کے سابق ساتھیوں کو ’’بھائی‘‘ قرار دیتے ہوئے، حکمت یار نے اپنے آپ کو ایک مصالحت کار کہا، جو امن لاسکتا ہے۔ وہ ایک شعلہ بیاں خطیب ہیں، جن کی تقریر کے دوران سننے والوں نے نعرے لگائے۔اْنھوں نے کہا کہ اس سے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کا جواز ختم ہوجائے گا۔غنی اور امریکیوں نے ایک طویل عرصے سے امن کیلئے طالبان شدت پسندوں کیساتھ مذاکرات جاری رکھے ہیں۔ لیکن اس کے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔حکمت یار نے کہا کہ میرے لیے سب سے اہم معاملہ اِس لڑائی کو ختم کرنا اور ملک کو بحران سے نکالنا ہے۔ اْنھوں نے پاکستان اور ایران جیسے ہمسایہ ملکوں سے کہا کہ وہ مداخلت سے باز رہیں۔

حکمت یار

مزید :

صفحہ اول -