ٹرمپ اپنا میڈی کیئر بل ایوان نمائندگان سے منظور کرانے میں کامیاب ، سینیٹ میں شدید مزحمت کا امکان

ٹرمپ اپنا میڈی کیئر بل ایوان نمائندگان سے منظور کرانے میں کامیاب ، سینیٹ میں ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی ایوان نمائندگان نے انتہائی جدوجہد کے بعد صدر ٹرمپ کے اس میڈی کیئر بل کو معمولی اکثریت سے منظور کرلیا، جسے قبل ازیں انتظامیہ نے ناکامی کے خوف سے پیش کرکے واپس لے لیا تھا۔ بل کی مخالفت میں جہاں ڈیمو کریٹک ارکان پوری طرح متحد ہیں،وہیں تمام ری پبلکن ارکان بھی حکومتی بل کی حمایت نہیں کر رہے۔ بل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا، جہاں بل کے موجودہ شکل میں منظور ہونے کے امکان بہت کم ہیں۔ سینیٹ کے ڈیمو کریٹک ارکان چند ری پبلکن ارکان کی حمایت سے بل میں ترامیم کرنیکی تیا ر یاں کر رہے ہیں اور اگر انکی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر نیا قانون ایسا منظور ہوگا جس میں حکومتی بل اور ’’اوبامہ کیئر‘‘ دونوں کی اہم شقیں شامل ہوسکیں گی۔ پھر اوبامہ انتظامیہ ’’اوبامہ کیئر‘‘ کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکے گی، ڈیمو کریٹک ارکان اس میں کا میابی کا یہ پہلو نکالیں گے کہ ’’اوبامہ کیئر‘‘ برقرار ہے، صرف اس میں چند ترامیم کی گئی ہیں۔اسوقت ایوان نمائندگان میں ری پبلکن ارکان کی اکثریت ہے جن کے 238 ارکان ہیں جبکہ ڈیمو کریٹک ارکان کی تعداد 193 ہے، لیکن ٹرمپ سرکار صرف چار ارکان کی اکثر یت سے یہ بل منظور کرانے میں کامیاب ہوئی۔ بل کے حق میں 217 اور مخالفت میں 213 ووٹ پڑے جس کا مطلب یہ ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے 20 ارکان نے انحراف کیا، صرف دو مزید ارکان منحرف ہو جاتے تو بل ناکام ہو جاتا۔ ایوان نمائندگان سے منظور شدہ بل ابھی قانون نہیں بنا، کیونکہ ابھی سینیٹ کا مشکل ترین مرحلہ باقی ہے۔ ’’اوبامہ کیئر‘‘ میں ان افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا جو کوئی میڈیکل انشو رنس نہیں خریدتے اور موجودہ بل میں یہ جرمانہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ’’اوبامہ کیئر‘‘ میں میڈیکل انشورنس کمپنیوں اور زیادہ آمدن والے شہر یوں پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جو موجودہ بل میں منسوخ ہوگیا ہے۔ اوبامہ کیئر کم آمدنی والے شہریوں کو پریمیئم کی ادائیگی کیلئے وفاقی امداد فراہم کرتی تھی، جبکہ ٹرمپ کے بل کے مطابق یہ امداد منسوخ کرکے اسکی جگہ پالیسی ہولڈرز کو ٹیکس کریڈٹ ملنا تھا۔سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر مچ میکونل نے ایوان میں بل منظور ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم یہ اشارہ دیا ہے کہ سینیٹ اس میں تبدیلیاں کرسکتی ہے۔ اگر سینیٹ ترامیم کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ حکومت کی مکمل کامیابی ہوگی اور نہ ڈیمو کر یٹک ارکان کی، سینیٹ کی ترامیم کے بعد ’’اوبامہ کیئر‘‘ ترامیم کیساتھ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سینیٹ کے 100ارکان میں سے اس وقت 52 ری پبلکن اور 48 ڈیمو کریٹک ہیں۔ عام حالات میں بل منظور کرانے کیلئے 60 ارکان درکار ہوں گے، لیکن حکومتی پارٹی خصو صی قانون نافذ کرکے محض 50 ارکان سے منظور کرسکتی ہے اور سینیٹ چیئرمین و ملک کے نائب صدر سے ووٹ لے سکتی ہے۔ حکومت کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ سینیٹ کے تمام ری پبلکن ارکان بل کی موجودہ شکل میں حمایت نہیں کریں گے۔ اس طرح ٹرمپ کے میڈی کیئر بل کو مکمل کا نگریس سے منظور کرانے میں بنیادی رکاوٹیں ابھی موجود ہے، جس کا سینیٹ میں سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کامیاب

مزید :

صفحہ اول -