پنجاب یونیورسٹی نے شیر کے دو بچوں کو گود لے لیا

پنجاب یونیورسٹی نے شیر کے دو بچوں کو گود لے لیا

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی شعبہ زوالوجی نے لاہور چڑیا گھر میں دو ماہ کے شیر کے بچے کرس اورانجیلاکو ایک سال کیلئے گود لے لیا۔ اس سلسلے میں لاہور چڑیا گھر میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر ، ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان، چیئرمین شعبہ زوالوجی پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی، ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی ، ڈائریکٹر لاہور چڑ یا گھر شفقت علی، ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر وائلڈ لائف پنجاب نعیم بھٹی اور طلباؤ طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

گود لئے بچوں کا نام حال ہی میں لاہور چڑیا گھر کا دورہ کرنے اورسٹاف کو جدید تیکنیکس بارے تربیت فراہم کرنے والے برطانوی ماہر کے نام پر رکھا گیا ہے۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہاکہ ہمیں معاشرے میں امن ، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے جانوروں کی کفالت کا ذمہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی رہائش گاہیں ختم ہوتی جارہی ہیں اور ان کی حفاظت کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کئی نایاب نسل کے جانور ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی معاشرے اور مخیر حضرات کو جانوروں کی دیکھ بھال کا احساس دلانے کیلئے انہیں گود لے رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زورد یا کہ لوگوں میں جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا کہ ہمارا مذہب بھی جانوروں کی دیکھ بھال کی ہدایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں سے محبت غصہ اور ذہنی دباؤ کی کیفیات میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی ماحول کی تباہی کا سبب ہے۔ نعیم بھٹی نے کہا کہ جانور قومی و بین الاقوامی سطح پر اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اب انسانوں کو جانوروں سے محبت بارے بڑی پیمانے پر آگاہی ہوچکی ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر ظفر معین ناصرنے بہترین کارکردگی دکھانے والے چڑیا گھر کے ملازمین میں چیک تقسیم کئے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -