اغوا کا مقدمہ خارج کروانے والے ورثا مشکوک، شوہر سمیت 4گرفتار، لڑکی دارالامان منتقل

اغوا کا مقدمہ خارج کروانے والے ورثا مشکوک، شوہر سمیت 4گرفتار، لڑکی دارالامان ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے مشکوک بیانات اور غلط بیانی پر لو میرج کرنے والے شہری کو ساتھیوں سمیت پولیس کے حوالے کردیا جبکہ اس کی مبینہ منکوحہ کو دارلامان بھجوا دیا۔لاہور کے یاسین نے اپنے خلاف اغوا کے مقدمہ کے اخراج کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے مہوش کے ساتھ پسند کی شادی کی ہے لیکن مہوش کے گھر والوں نے اس کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروارکھا ہے ۔فاضل جج نے عدالت میں موجود مہوش سے اس کے ساتھ کھڑی خاتون کے بارے میں استفسار کیا کہ یہ کون ہے ؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ مہوش کی خالہ ہے ،فاضل جج نے مہوش سے پوچھا کہ تمہاری اس خالہ کا کیا نام ہے جس پر مہوش نے کہا کہ اسے ان کا نام معلوم نہیں ۔عدالت نے اس خاتون سے پوچھا کہ مہوش کی ماں کا کیا نام ہے تو وہ بھی نام بتانے میں ناکام رہی جس پر فاضل جج نے عدالت میں موجود متعلقہ تھانہ شادباغ کی پولیس کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ تو سارا معاملہ ہی مشکوک ہے ،اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ کہیں یہ لڑکیوں کو اغواء کرکے ان کی خریدو فروخت کا دھندہ کرنے والا گروہ تو نہیں ہے ۔فاضل جج کے حکم پر پولیس نے یاسین اور مختار سمیت 4افراد کو فوری طور پر گرفتار کرلیا ۔فاضل جج نے آئندہ تاریخ سماعت پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کے ساتھ لڑکی مہوش کو دارالامان بھجوادیا۔

مزید :

صفحہ آخر -