سٹیل ملزکے ملازمین کو رمضان سے قبل تین مہینوں کی تنخواہیں دی جائیں ، قائمہ کمیٹی

سٹیل ملزکے ملازمین کو رمضان سے قبل تین مہینوں کی تنخواہیں دی جائیں ، قائمہ ...

  

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے پاکستان سٹیل ملزکے ملازمین کو رمضان المبارک سے قبل تین مہینوں کی تنخواہیں ادا کرنے کی سفارش کی ہے کمیٹی نے سٹیل ملز کی نجکاری اور ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے اگلے اجلا س میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ،کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اسد عمر کی زیر صدرات ہوا ۔سیکرٹری نج کاری کمیشن نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز اس وقت نیشنل بینک اور سوئی سدرن کی 100ارب روپے کی مقروض ہے سٹیل ملز پرسوئی سدرن کے واجبات 47 ارب روپے ہیں, جبکہ نیشنل بنک کی 52ارب50کروڑ روپے کی مقروض ہے قرضوں کی ادائیگی کا واحد حل سٹیل ملز کی اراضی کی فروحت ہے ا قرضوں پر سود کی شرح ختم کرنے کیلئے نیشنل بنک انتظامیہ سے بات چیت ہوئی تھی تاہم نیشنل بنک کی انتظامیہ نے کہہ دیا ہے کہ وہ شرح سود ختم نہیں کر سکتے ، 2009 سے پاکستان اسٹیل ملز کو پانچ بیل آوٹ پیکج دئیے گئے پاکستان سٹیل ملز کے چیف فنانشل افسر نے بتایاکہ اگر سٹیل ملز کو چالیس فی صد پیداوار کی سطح پر چلایا جائے 9 ارب روپے کا نقصان ہو گا، گذشتہ دو سال سے حکومت کی جانب سے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کیلئے کسی قسم کی گرانٹ نہیں دی جا رہی س تنخواہوں کی مد میں بھی 20لاکھ روپے کم دئیے جا رہے ہیں جس کو ملز انتظامیہ دیگر ذرائع کے پورا کر رہی ہے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ملز کے دو ملازمین خود کشی کر چکے ہیں انہوں نے کہاکہ چار مہینوں کے بعد ایک ماہ تنخواہ کی ادائیگی کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹیو آفسیر کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا گیا اسد عمر نے کہاکہ اگر سٹیل ملز نہیں چل رہی تو سی ای او کراچی میں کیا کر رہے ہیں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے چاہیے جس پر حکام کی جانب سے اگاہ کیا گیا کہ سی ای او کو اسٹیل ملز کا اضافی چارج دیا گیا ہے سٹیل ملز میں روزانہ 5ہزار کے قریب مزدور آتے ہیں انہوں نے بتایاکہ مزدوروں کے آنے سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے اور مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے جس پر کمیٹی نے صرف ضرورت کے مطابق مزدوروں کو ملز میں لانے کی سفارش کی۔ کمیٹی کے رکن شاہ گل افریدی کے تجویز پیش کی کہ سٹیل ملز کے سابق سی ای او سینٹر عبدلقیوم کو دوبارہ چارج دیا جائے تو ملز کی حالت زار بہتر ہوسکتی ہے جس پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ہم حکومت کو کئی بار یہ التجا کرچکے ہیں کہ اسٹیل ملز کی بہتری کیلئے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز سمیت کسی بھی تجربہ کار شخص کو آگے لایا جائے۔ ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن وسیم مختار نے بتایاکہ اس وقت یوٹیلیٹی اسٹورز میں 3601 ڈیلی ویجز ملازمین کام کر رہے ہیں جبکہ تین ہزار932 ملازمین کنٹریکٹ پر کارپوریشن میں کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایاکہ ان ملازمین کو ریگولیر کرنے کی کوئی پالیسی موجود نہیں اگر حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں سفارشات مل جائیں تو بہتر ہوگاانجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے حکام نے بتایاکہ آٹو پالیسی کی منظوری کے بعدصارفین کو 60دنوں میں گاڑیاں فراہم نہ کرنے والی انڈسٹریز کی جانب سے نقصانات کے ازالے کئے جا رہے ہیں جس پر کمیٹی نے اب تک صارفین کو واپس کی جانے والی رقومات کی تفصیلات طلب کر لی۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

کراچی صفحہ اول -