حرمت رسولؐ قانون میں کسی صورت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ،مولانا محمد قاسم

حرمت رسولؐ قانون میں کسی صورت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ،مولانا محمد قاسم

  

تخت بھائی ( تحصیل رپورٹر)سابق ایم این اے اور جمعیت علمائے اسلام ضلع مردان کے جنرل سیکریٹر ی مولانا محمد قاسم نے کہاکہ مردان یونیورسٹی کو پیر کے دن تک کھول دیا جائے۔295C میں کسی قسم کی تبدیلی منظور نہیں مغربی آقاوءں یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے والے حکمران سن لین جب تک ایک بھی عاشق رسولﷺ پاکستان میں زندہ ہے کوئی بھی حرمتِ رسول قانون میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔انھوں نے کہا کہ مشال گستاخ رسول تھا اس کو شہید کا اعزز دینے والے حبِ رسول کے منکر ہیں۔گستاخی رسولﷺ کے قوانین کو فوری طور پر عملی بنائے جائیں انھوں نے مطالبہ کیا کہ مشال کیس کے ملزمان کو فوری طور پر رہا کیے جائیں۔اور مشال کے نام سے کسی یونیورسٹی یا ادارے کے نام کو منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے تخت بھائی میں اتحاد علمائے کے زیرِ اہتمام احتجاجی ریلی سے خطاب میں کیا ۔جس سے این سی 2 دامنِ کوہ کے جنرل کونسلر میاں محب اللہ،،،متحدہ ایکشن فورم کے صدر قاضی جاوید،یوسی پٹ بابا کے ناظم خانزادہ عرف منے،ناظم شیر زمین،مولانا عطاء اللہ حقانی،ضیاء اللہ جان ہاشمی ،صفدر صافی ،محمد اقبال ،دوست محمد درویش ،جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی نائب آمیر عبد الہادی،انجمن تاجران کے صدر حاجی محمد طارق ،علامہ محمدصدیق،سابق ناظم حاجی فضل خالق،بھادر خان وارث خان حقانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ مشال کے قاتل ہمارے ہیروں اور اسلام کے غازی ہیں ۔اگر مشال یا مشال جیسے لوگ ہمارے سامنے بھی اس طرح گستاحی کریگا تو ہم بھی اس طرح عمل کرینگے جس طرح ان طلباء نے مشال کے ساتھ کیاہے۔انھوں یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو مشال کے کرتوتو کا چھ ماہ پہلے پتہ تھا لیکن وہ خاموش تھے اور قانون حرکت میں نہیں آیا۔تب طلباء نے قانون ہاتھ میں لیا۔جس کے علاوہ کوئی چارہ ان کے پاس نہیں تھا۔انھوں نے الزام لگایا کہ مشال نے حضور ﷺ کو ماں کی گالی دی تھی۔اور فیس بک پر مکمل ریکارڈ موجود ہے۔کوئی فیک آئی ڈی نہیں یہ مشال کا اوریجنل آئی ڈی ہے۔اگر کوئی آیندہ بھی اس قسم کی گستاخی کرے گا تو اس کا یہی حشر ہوگا۔احتجاجی ریلی میں بعض قراردادیں بھی منظور کرائیں۔جن میں پیر کے دن سے یونیورسٹی کھولنے ،مشال کیس کی غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرانے،گستاخی رسولﷺ کے مرتکبین کو فوری پھانسی دینے،295C کو تحفظ دینے،تعلیمی اداروں میں اس قسم کے واقعیات کو روکنے،اور مشال کے نام سے کسی ادارے کو منسوب نہ کرنے کی قراردادیں شامل ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -