گومل یونیورسٹی کے سابق وی سی اور پی ڈی سے ریکوری کی جائے

گومل یونیورسٹی کے سابق وی سی اور پی ڈی سے ریکوری کی جائے

  

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورورپورٹ) پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی داور کنڈی نے کہا ہے کہ گومل یونیورسٹی انتظامیہ فی الفور سابق وائس چانسلر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سے 5 کروڑ کی ریکوری کرے، ریکوری میں تاخیر شکوک و شبہات بڑھا رہی ہے ،یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پچھلے دور میں جن بدنام اہلکاروں نے گومل یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پہ بدعنوانیاں کیں اوراس عظیم تعلیمی ادارے کو معاشی طور پہ کنگال اور تعلیمی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،ان کے احتساب کا وقت آن پہنچا ہے،داور کنڈی نے مطالبہ کیا کہ قومی احتساب بیورو اور صوبائی احتساب کمشن سمیت خفیہ ادارے اس امر کا کھوج لگائیں کہ گومل یونیورسٹی کے جن اہلکار کے پاس سر چھپانے کیلئے ذاتی گھر تک نہیں تھا، صرف چند سالوں کے اندر اندر وہ اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے،داور کنڈی نے کہا کہگومل یونیورسٹی فارن فیکلٹی گیسٹ ہاؤس اور دیگر تعمیراتی کاموں میں ٹھیکداروں کو پانچ کروڑوں سے زیادہ رقم کی ادائیگی کرنے والے سابق وائس چانسلر فرید اللہ اور اس وقت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر دل نواز سے فوری طور پر 5کروڑ کی ریکوری کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائی جائے بصورت دیگر اس معاملہ کو قومی اسمبلی کے فلور پہ اٹھائیں گے،انہوں نے کہا ستم ظریفی کی انتہا یہ کہ پانچ کروڑ کی بدعنوانی کے ذمہ دار اہکاروں نے مجاز انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر کے خود سری جس باغیانہ رویہ کا مظاہرہ کیا اس کا نوٹس کسی نے نہیں لیا ،انہوں نے کہا صوبائی احتساب کمشن 2005 ؁ء اور 2012 ؁ء کے دورانیہ میں گومل یونیورسٹی میں امپرومنٹ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور بیرون ملک سے آئے طلباء کیلئے گیسٹ ہاؤس کی تعمیر سمیت تمام ترقیاتی کاموں کی از سر نو تحقیقات کرائے کیونکہ بعض کرپٹ اہلکاروں نے اس خطہ کی عظیم درس گاہ کو سیاست کا اکھاڑا بنا کر تعلیمی موحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا انہوں نے کہا گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ 2011 ؁ء میں آڈیٹر جنرل کی آڈٹ ٹیم کی طرف سے بنائے گئے پانچ کروڑ کے آڈٹ پیرے جن کی توثیق صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں صوبائی پبلک اکاونٹ کمیٹی نے کی ریکوری کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف حسب ضابطہ کاروائی کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ ایچ ای ڈی نے پانچ کروڑ کی ریکوری کیلئے کئی بار احکامات جاری کئے لیکن طاقتور مافیا جس نے یونیورسٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کے خوف سے 5کروڑ کی خطیر رقم کی ریکوری کے معاملہ کو التواء میں رکھا گیا۔تاہم انہوں نے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سرور کی جانب سے HED کے احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لئے 5 سینئر افسران پر مشتعمل انکوائری کمیٹی بنانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ایم این اے داور کنڈی نے کہا کہ ایگریکلچر فیکلٹی کو زرعی یونیورسٹی کا درجہ دینا اچھی بات سہی لیکن ہم گومل یونیورسٹی کی قیمت پہ کسی کو زرعی یونیورسٹی بنانے نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ جو عناصر زرعی یونیورسٹی بنوانے کے جوش میں اس خطہ کی قدیم مادر علمی گومل یونیورسٹی کو ختم کرانے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں،انکے مقاصد کی تکمیل نہیں ہونے دیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -