کارکن کی جیل میں موت پراسمبلی میں احتجاج جاری رکھیں گے،فیصل سبزواری

کارکن کی جیل میں موت پراسمبلی میں احتجاج جاری رکھیں گے،فیصل سبزواری

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ایم کیو ایم کے رہنما فیصل علی سبزواری نے کہا ہے کہ ہمارے کارکن کی جیل میں موت پر ایوان کی تحقیقاتی کمیٹی نہ بنائی گئی تو ہم پیر کو بھی اجلاس میں احتجاج کریں گے ۔ اب تک ہمارے 7 کارکن ماورائے عدالت جیل میں مار دیئے گئے ہیں ۔ جب سینیٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی بن سکتی ہے تو سندھ اسمبلی میں کیوں نہیں ۔ حکومت نے کمیٹی نہیں بنائی تو ہم خود جیل میں جا کر لوگوں سے ملیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ آج کے احتجاج میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں ہمارے ساتھ کھڑی تھیں ، جس پر ہم ان کے مشکور ہیں ۔ ہم نے ایوان کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا مگر حکومت نے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا ۔ انہوں نے کہاکہ شاید پیپلز پارٹی کے لوگوں کو اس طرح لوگوں کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ لیکن ان خاندانوں سے پوچھا جائے ، جن کے پیارے اس طرح کے واقعات کا شکار ہوتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا کردار اس معاملے پر انتہائی شرم ناک ہے ۔ ہمارا آج بھی مطالبہ ہے کہ ایوان کی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سینیٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی بن سکتی ہے تو سندھ اسمبلی کے ارکان کی کمیٹی کیوں نہیں بن سکتی ۔ ہمیں مجبور کیا تو ہم خود جیل جائیں گے ۔ ہم حکومت کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے کارکن اور شہری لاوارث نہیں ہیں ۔ فیصل علی سبزواری نے کہا کہ کارکن کو جب اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ہمارے کارکنوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور ایوان کی کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات پر حکومت کو کیا پریشانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کارکن کے خون کا حساب لینے کے لیے ہم عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ہمارے کارکن کی موت ہوئی ، صوبائی وزیر جیل خانہ جات جیل میں موجود تھے ۔ کیا انہوں نے اس بات کی تحقیق کی کہ ان کے دورے کے دوران کس طرح مرا ۔ فیصل علی سبزواری نے کہا کہ یہاں پر نقل مافیا ، بوٹی مافیا ، ٹھیکداری کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -