’’مائنس الطاف‘‘کے بعد کراچی تمام جماعتوں کیلئے’’اوپن ‘‘ہوگیا

’’مائنس الطاف‘‘کے بعد کراچی تمام جماعتوں کیلئے’’اوپن ‘‘ہوگیا

  

(تجزیہ:کامران چوہان)

گذشتہ چارہفتوں سے کراچی سیاسی جماعتوں کاآنکھ کا تارا بناہوا ہے۔ایک طویل عرصے تک کراچی میں متحدہ کا سکا جما ہوا تھا مگراب بانی متحدہ کے ’’مائنس‘‘ ہونے اور پارٹی کی کئی دھڑوں میں تقسیم نے شہرقائد کے سیاسی پلیٹ فارم کوتمام جماعتوں کیلئے ’’اوپن‘‘کردیا۔اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے کراچی میں پڑاؤ ڈالنا شروع کردیا۔ان میں کچھ ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک عرصے سے کراچی پر توجہ دیناچھوڑدی تھی مگر اب تمام سیاسی جماعتیں بھرپورطاقت کامظاہرہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ کراچی باسی ان کے ساتھ ہیں۔ماضی میں کراچی کی مقبول سیاسی جماعت، جماعت اسلامی بھی کراچی کی سیاست میں ’’کم بیک ‘‘کرنے کیلئے اپنی سیاسی طاقت کامظاہرہ کررہی ہے۔ وہیں گورنرسندھ بھی مسلم لیگ(ن)کے ناراض رہنماؤں کے منانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔سیاسی ماحول کی گرمی کوبھانپتے ہوئے کپتان نے بھی ’’موقع پر چوکے ‘‘کے مصداق تحریک انصاف کی ریلی کا انعقاد کرکے کھلاڑیوں کوکراچی کی پچ پر اکٹھاکرنے کی بھرپورکوشش کی ۔صوبے کی حکمران جماعت بھی خاموش نہیں بیٹھی ہوئی سیاسی درجہ حرارت بڑھتے ہی پیپلزپارٹی نے بھی مزارقائدپردھرنادے کراپنی سیاسی طاقت کامظاہرہ کرڈالا۔مگراس بات سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتاکہ کراچی پراقتدارکی خواہش ’’اردوبولنے والوں‘‘کی حمایت کے بغیرانتہائی مشکل ہے ۔پرانی متحدہ نے مہاجر حقوق کا نعرہ لگا کرسیاست کا آغازکیااور پھرمتحدہ قومی موومنٹ تک پہنچی مگرآج بھی اس کی سیاست’’مہاجرووٹ‘‘پر منحصرہے اور اسی سبب سندھ کے شہری علاقوں میں متحدہ مسلسل کامیاب ہوتی رہی۔آئندہ الیکشن کیلئے سیاسی جماعتوں صفت بندیوں میں مصروف ہیں اورسندھ بالخصوص کراچی کے سیاست میدان پرجوڑتوڑ کی سیاست میں تیزی آچکی ہے۔کراچی کے ’’مہاجرووٹ بینک ‘‘کو تقسیم سے بچانے اور متحدہ کے دودھڑوں اورآفاق گروپ کے ’’ادغام‘‘ کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں ۔اپنے قائد سے منحرف متحدہ پاکستان اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں ۔ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان اور آفاق احمد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ۔سیاسی حلقے اس رابطے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں ۔ماضی میں آفاق احمد کو عشرت العباد سے کئی شکوے رہے ہیں خاص طور پر جب مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین کے والد کا انتقال ہوا تو وہ اس وقت جیل میں تھے اور ان کو اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔تاہم اب آفاق احمد کہتے ہیں کہ وہ مہاجر قوم کے اتحاد کے لیے سب کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں ۔ایم کیو ایم پاکستان ،مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کے انضمام میں سب سے بڑی رکاوٹ’’ قیادت کون کرے گا ‘‘کا سوال ہے ۔فاروق ستار ،مصطفی کمال اور آفاق احمد اگر اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے کوئی بڑا فیصلہ کریں تو پھر ان تینوں جماعتوں کے ایک ہونے کا خواب پورا ہوسکتا ہے بصورت دیگر یہ تینوں جماعتیں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے سیاسی سفر جاری رکھیں گی ۔۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ تینوں جماعتوں کی قیادت کو ’’اشارہ ‘‘دیاجاچکا ہے کہ ان کو جلد یا بدیر ایک ہونا ہی پڑے گا چاہے وہ انضمام کی صورت میں ہو اتحاد کی ۔اس لیے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی سے گریز کیا جائے اور شہر قائد کی بہتری کیلئے محاذآرائی کی سیاست سے پیچھاچھڑایا جائے ۔اسی لئے متحدہ پاکستان ،پاک سرزمین اورمہاجر قومی موومنٹ کی قائدین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی اورسخت موقف بھی سامنے نہیں آیا جبکہ ایک دوسرے کے خلاف ذکرکے دوران لہجوں میں واضح تبدیلی بھی دکھائی دیتی ہے۔جس کے بعد لگتا یہی ہے کہ تینوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان شایدکوئی ’’خاموش مفاہمت‘‘ہوچکی ہے جوآگے چل کرسامنے آئے گی۔اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں 2018کے انتخابات پر ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے شہری آئندہ انتخابات میں کس سیاسی جماعت پراعتماد کا اظہار کریں گے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -