غداری کیس:مشرف کی پیش کردہ جائیدادوں کی تفصیلات کی دوبارہ تصدیق کا حکم

غداری کیس:مشرف کی پیش کردہ جائیدادوں کی تفصیلات کی دوبارہ تصدیق کا حکم

  

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف کی ملک میں موجود جائیدادوں کی جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں ان کی دوبارہ تصدیق کر کے عدالت میں جمع کرائی جائیں۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے پہلے وکیل فروغ نسیم کو کیس میں پیش ہونے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس میں نئے وکیل نے وکالت نامہ جمع کرا دیا ہے اس لئے آپ کو پیش ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے جبکہ وفاق کی جانب سے پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کیس ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل مکمل ہو چکا ہے اس لئے فیصلہ سنایا جائے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ نائلہ ظفر کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پرویز مشرف کی جائیداد سے متعلق جو تفصیلات جمع کرائی ہیں ان پر کچھ تحفظات ہیں۔ان کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کو تصدیق کیلئے وقت دیتے ہیں۔ اگر ان جائیدادوں کی کسی کے نام منتقلی ہوئی ہے تو وہ کب ہوئی ؟ جسٹس یاور علی کا کہنا تھا کہ تصدیق میں یہ شامل کیا جائے کہ جائیدادیں صرف ان کے نام ہیں یا کچھ جائیدادیں مشترکہ بھی ہیں۔عدالت نے کہا مشرف کے وکلاء کے اعتراضات کو آئندہ سماعت پر دیکھیں گے۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ سے کہا کہ وہ پرویز مشرف کی طرف سے دائر نئی درخواست پر اپنا تحریری جواب جمع کرائیں۔ اکرم شیخ نے مشرف کے وکیل کی طرف سے جمع کرائے گئے وکالت نامے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ وکالت نامہ جھوٹا ہے۔ وکالت نامے کا اوپر والا حصہ اگست 2016 ء میں تصدیق ہوا جبکہ نیچے والے حصے پر دستخط 30 اپریل 2017ء کے ہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم اس معاملے کو رمضان سے پہلے نمٹانا چاہتے ہیں۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی ۔

غداری کیس

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -