گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر اپارٹمنٹ کی فروخت، خزانے کو 25ارب کا نقصان،عمران خان سمیت کئی اہم شخصیات بھی لٹ گئیں

گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر اپارٹمنٹ کی فروخت، خزانے کو 25ارب کا نقصان،عمران ...
گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر اپارٹمنٹ کی فروخت، خزانے کو 25ارب کا نقصان،عمران خان سمیت کئی اہم شخصیات بھی لٹ گئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک بھر میں عام شہریوں کے ساتھ فراڈ ہونا تو معمول ہے لیکن پہلی مرتبہ ملک کی اہم شخصیات کے ساتھ بھی فراڈ ہو گیا ، شاہراہ دستور پر بننے والے کثیر المنزلہ ہوٹل کی عمارت اپارٹمنٹ بنا کر فروخت کر دی گئی،نیلامی کے دوران عمران خان، سابق چیف جسٹس ناصر الملک ، گورنر سٹیٹ بینک لاہور ہائیکورٹ افتخار حسین چودھری ، سابق نیول چیف آصف سندھیلہ سمیت 240 شخصیات نے گرینڈ حیات عمارت میں اپارٹمنٹس خریدے،ایف آئی اے نے اربوں روپے مالیت کی زمین لیز کرنے کے سکینڈل کی انکوائری مکمل کر کے مقدمہ درج کر لیا۔

نجی اخبار روزنامہ دنیا کی رپورٹ کے  مطابق سی ڈی اے نے سال 2004 میں شاہراہ دستور پر واقع پلاٹ فائیو سٹار ہوٹل کیلئے فروخت کرنے کیلئے اشتہار دیا، شرائط میں 33 سالہ لیز، 120 دنوں میں رقم کی ادائیگی شامل تھی جبکہ صرف 6 منزلوں کی اجازت دی گئی ، لیکن پانچ ماہ بعد نیا اشتہار آگیا، شرائط میں ہوش اڑا دینے والی نرمی کی گئی ، نئی شرائط میں 99 سالہ لیز اور 15 سالہ اقساط میں رقم کی ادائیگی شامل تھی جبکہ منزلوں کی تعداد فلیکسیبل کر دی گئی ، سی ڈی اے نے صرف 15 فیصد ادائیگی پر لیز ڈیڈ پر دستخط کر دیئے جس پر پنجاب بینک سے قرضہ حاصل کر کے دو ٹاور ز تعمیر کئے گئے اور ناقابل فروخت اپارٹمنٹس اہم ملکی شخصیات کو فروخت کر دیئے گئے۔ انتہائی پر کشش پلاٹ ، انتہائی آسان شرائط کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے ہوٹلز چلانے والی کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا لیکن ٹیکسٹائل ملز کے اتحاد کو ہوٹل بنانے کی لیز دے دی گئی، بسم اللہ ٹیکسٹائل ، نیا آگراملز ، پیراگون سٹی اور دبئی کے بلحیسہ گروپ کے اتحاد بی این پی گروپ کو زمین پو نے پانچ ارب روپے میں لیز پر دے دی گئی۔

سال2007 ءمیں وفاقی ترقیاتی ادارے نے بی این پی لمیٹڈ کو فائیو سٹار ہوٹل اور اپارٹمنٹس کیلئے 47 منزلوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ۔سول ایوی ایشن نے کثیرالمنزلہ بلڈنگ پلان پر اعتراض کر دیا تھا۔ سال 2012 ءمیں لیز حاصل کرنے والی بی این پی کمپنی نے ون کانسٹی چیوشن ایونیو اپارٹمنٹس کی بکنگ شروع کر دی۔ جس پر سی ڈی اے نے بی این پی کو اپارٹمنٹس کی بکنگ سے روک دیا لیکن اہم ملکی شخصیات نے سی ڈی اے سے تصدیق کرائے بغیر ناقابل فروخت اپارٹمنٹس خرید لئے ۔ متاثرین میں عمران خان، سابق چیف جسٹس ناصر الملک ، گورنر سٹیٹ بینک لاہور ہائیکورٹ افتخار حسین چودھری ، سابق نیول چیف آصف سندھیلہ سمیت 240 شخصیات نے گرینڈ حیات عمارت میں اپارٹمنٹس خریدے۔ سی ڈی اے نے کام رکوانے کی کوشش کی تو کمپنی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ حکم امتناع کے دوران بی این پی کمپنی نے 23 منزلہ دو ٹاورز بنا لیے۔ تاہم 2016ءمیں حکم امتناع خارج ہونے کے بعد تعمیرات رکوادی گئیں۔

اربوں روپے کے منصوبے میں وفاقی ترقیاتی ادارے کے ساتھ تمام معاملات طے کرنے والا شخص عبدالحفیظ شیخ ہے ، چاروں کمپنیوں کے اتحاد کے معاہدے میں عبدالحفیظ شیخ کو چیف ایگزیکٹو بنایا گیا جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں عمران احمد، شازیہ حفیظ عبدالحمید اور عبدالمجید شیخ شامل ہیں ۔ ایف آئی اے نے اربوں روپے مالیت کی زمین لیز کرنے کے سکینڈل کی انکوائری کی اور مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بی این پی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عبدالحفیظ شیخ کو مرکزی ملزم نامزدکیا گیا جبکہ سی ڈی اے کے اس وقت کے چیئرمین کامران لاشاری ، بورڈ ممبر بریگیڈئر (ر) نصرت ، سابق ممبر کامران قریشی ، شوکت مہمند، معین کا کاخیل بھی ملزم نامزد ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر قومی خزانے کو 25 ارب کا نقصان پہنچا ۔ ملزمان نے جعلی کاغذات پر لیز حاصل کی جبکہ سی ڈی اے ریکارڈ سے اہم دستاویزات غائب کروا دیں۔

مزید :

اسلام آباد -