مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 81

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 81
مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 81

  

اس واقعے کے بعد ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ایک روز مسرت نذیر کو ڈانس کی رہیرسل کے لیے ان کے گھر سے لے کر آنا تھا۔ وہ گلبرگ میں رہتی تھیں۔ ان کے گھر کا فون خراب تھا۔ پروڈکشن کی دوسری کار جو نسبتاً اعلیٰ درجے کی تھی، اس وقت موجود نہیں تھی۔ اس لیے اطلاع دینے کے لیے ’’ہوا محل‘‘ ہی استعمال کی جاسکتی تھی۔

شباب صاحب نے اختر سے کہا کہ یہی گاڑی لے جاؤ۔ وہاں سے مسرت اپنی کار میں آ جائیں گی۔ ہمیں بھی اختر کے ساتھ ہی جانا تھا۔

دفتر سے باہر نکلتے ہی ہم نے اختر سے کہا ’’تم ایک طرف کو ہو جاؤ۔ گاڑی ہم چلائیں گے‘‘َ

اس نے حیران ہوکر ہمیں دیکھا ’’سر آپ جانے دیں۔ کافی دور جانا ہے اور اس وقت ٹریفک بھی ہوگا‘‘۔

ہم نے کہا ’’ہم کھلی سڑکوں سے چلیں گے۔ وحدت روڈ اور نہر والی سڑک بہت کھلی ہوئی ہے۔ گلبرگ تو ہے ہی بہت کھلی جگہ‘‘۔

وہ بے چارہ چپ ہوگیا۔ہم نے بسم اللہ کرکے ہوا محل کو اسٹارٹ کیا بلکہ اختر سے اسٹارٹ کرایا (کیونکہ اسے ہینڈل مار کر اسٹارٹ کیا جاتا تھا) اور گلبرگ کی طرف چل پڑے۔

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 80 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس زمانے میں یہ پندرہ بیس منٹ کا راستہ تھا مگر ہم نے دو گنا وقت لگادیا۔ آخر اناڑی جو تھے۔ بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ سڑکیں سنسان سہی لیکن ٹریفک تو بہر حال تھا اور ہمارے لیے سامنے سے آنے والا ایک تانگا بھی پریشانی کا باعث بن جاتا تھا۔ خدا خدا کرکے کسی طرح گلبرگ میں مسرت نذیر کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔ وہ گھر پر ہی تھیں مگر کتوں کے بھونکنے کے شور سے چوکنا ہوگئی تھیں۔ اندر جاکرانہیں بتایا گیا کہ ریہرسل کے لیے شاہ نور جانا ہے۔

ان کے والد خواجہ نذیر نے پوچھا ’’گاڑی لائے ہو؟‘‘

ہم نے کہا ’’ہاں لائے تو ہیں مگر مسرت کو اپنی ہی کار میں جانا ہوگا‘‘۔

’’وہ کیوں؟ کسی اور کی گاڑی ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا ہم نے کہا ’’گاڑی تو اپنی ہے مگر بس نام کی گاڑی ہے‘‘۔

خواجہ صاحب نے باہر نکل کر ہماری کار کو دیکھا ’’کتنی چھوٹی سی ہے۔ کھلونا لگتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’کیا یہ چلتی بھی ہے‘‘۔

ہم نے فخریہ انداز مین کہا ’’یہ چل کر ہی یہاں تک آئی ہے۔ اسے ریڑھے پر رکھ کر نہیں لایا گیا‘‘۔

’’اسے چلاتا کون ہے؟‘‘ انہوں نے حیران ہوکر پوچھا۔

ہم نے بتایا کہ اس کار کو ہم چلا کر لائے ہیں۔ انہوں نے باری باری ہمیں اور کار کو دیکھا ور دیر تک خدا کی قدرت کو یاد کرتے رہے۔ اتنی دیر میں مسرت نذیر بھی تیار ہوکر باہرنکل آئیں۔ انہوں نے ہلکے پیلے رنگ کی کھلی چھت کی چھوٹی سی کار کو دیکھا تو خوش ہوگئیں ’’ارے، کتنی خوب صورت کار ہے۔ یہ کس کی ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’پروڈکشن کی‘‘۔

’’یہ چلتی ہے؟‘‘ انہوں نے بے یقینی سے پوچھا۔

’’ہم اسے چلا کر ہی لائے ہیں‘‘۔

’’سچی؟ آفاقی صاحب، آپ نے تو کمال کردیا بس میں تو اسی گاڑی میں جاؤں گی‘‘۔

ہم گھبرا گئے، کہا ’’دیکھیں۔ ایک تو یہ گاڑی ایسی ہی ہے۔دوسرے ابھی ہمارا ہاتھ زیادہ صاف نہیں ہوا ہے‘‘۔

وہ ہنسنے لگیں ’’آپ تو ہر وقت ہاتھ صاف کرنے کی فکر میں ہی رہتے ہیں۔ چلئے گاڑی میں بیٹھ کر تو دکھائیے‘‘۔

’’دکھائیے، کیا مطلب؟‘‘ ہم نے کہا۔

وہ بولیں ’’مطلب یہ کہ آپ بیٹھیں گے تو میں بھی بیٹھ جاؤں گی‘‘۔

ہم نے کہا ’’آپ پیچھے بیٹھ جائیں، اختر گاڑی چلائے گا‘‘۔

’’بالکل نہیں۔ گاڑی آپ چلائیں گے‘۔

ہم نے کہا ’’مگر ہم تو اناڑی ہیں۔ بلا وجہ۔۔۔‘‘

انہوں نے دھمکی دی ’’دیکھیں، وقت ضائع نہ کریں۔ اگر آپ ڈرائیو نہیں کریں گے تو میں ریہرسل کے لیے نہیں جاؤں گی‘‘۔

ہم نے کہا ’’دیکھیے، اس میں بہت خطرہ ہے۔ یہ کار بس دیکھنے میں ہی کار لگتی ہے ورنہ اس میں کار والی کوئی بات نہیں ہے۔ یوں سمجھئے کہ دوسری کاروں کو عبرت دلانے کے لیے کمپنی نے اسے بنایا ہے‘‘۔

بولیں ’’ایسی تاریخی کارمیں بیٹھنا بھی ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ چلیے، گاڑی میں بیٹھیے‘‘ یہ کہہ کر وہ کود کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئیں اور بہت خوش ہوئیں۔

ہم بھی کود کر اسٹیئرنگ پر بیٹھ گئے اور ان سے پوچھا ’’آپ کو کس نے بتایا کہ اس کار میں کود کر سوار ہوتے ہیں‘‘۔

کہنے لگیں ’’کسی نے بھی نہیں بتایا۔ اتنی منی سی تو ہے‘‘۔

ہمارے مشیروں نے بھی چھلانگیں لگا کر پچھلی سیٹ سنبھال لی۔

’’چلیں، اسٹارٹ تو کریں‘‘ وہ بے تابی سے بولیں۔ مسرت اس کار کو بچوں کی طرح خوش ہوکر دیکھ رہی تھیں۔

ہم نے اختر کو اشارہ کیا۔ وہ ہینڈل لے کر کار کے سامنے پہنچ گیا اور ہینڈل مارنا شروع کردیا کبھی کبھی کار کا انجن بول پڑتا تھا لیکن اسٹارٹ ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔

مسرت نے کہا ’’اس کے لیے تو بہت ورزش کرنی پڑتی ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’اسی لیے یہ کار خالی پیٹ ہی چلائی جاتی ہے‘‘۔

کار بڑی مشکل سے اسٹارٹ ہوئی اور پھر چل پڑی۔ بے چارہ اختر پیچھے ہی رہ گیا تھا۔

’’ارے ارے، ڈرائیور کو چھوڑے جا رہے ہو‘‘ مسرت نے ہمیں متوجہ کیا۔

’’فکر نہ کریں۔ وہ بھی آجائے گا‘‘۔

اختر بھی کود کر چلتی کار میں سوار ہوگیا۔ کچھ دیر میں ہماری جھجک دور ہوگئی اور ہم نے بڑے اعتماد کے ساتھ کار چلانی شروع کردی۔

موسم بہت خوش گوار تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ڈرائیونگ کا لطف آ رہا تھا۔ پاس گزرتے ہوئے لوگ اگر مسرت نذیر کو پہچان لیتے تو خوش ہوکر نعرے لگانے لگتے۔ مسرت نذیر ہماری ہوٹنگ میں مصروف تھیں ’’آفاقی صاحب۔ آپ تو کمال کے ڈرائیور ہیں۔ اتنی اسپیڈ سے کار چلاتے ہیں۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے ریسنگ کار میں بیٹھی ہوئی ہوں‘‘۔

ہم یہ سن کر خوش ہوگئے۔

کہنے لگیں ’’ارے حد ہوگئی۔ آپ نے ایک سائیکل والے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ویری گڈ، اب اس پیدل والے کو بھی کراس کرلیں۔ کرلیا؟ آپ نے تو کمال کردیا۔ کتنی اسپیڈ سے گاڑی چلاتے ہیں آپ‘‘۔

وحدت روڈ پر درپن صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ وہ اسٹوڈیو کی طرف سے آ رہے تھے۔ یہ تماشا دیکھا تو رک گئے۔ ہم نے بھی ہاتھ ہلا کر سلام کیا مگر دھیان گاڑی کی طرف لگا ہوا تھا اس لیے کار نہیں رکی۔

مسرت نذیر نے کہا ’’آفاقی صاحب، درپن صاحب رک گئے ہیں۔ آپ بھی گاڑی روکئے‘‘۔

ہم نے کہا ’’ہم تو روک رہے ہیں مگر گاڑی نہیں رک رہی‘‘۔

ہمارے مشیروں نے فوراً باہر کود کر گاڑی کو روکا۔ درپن صاحب اپنی کار ریورس کر کے لائے۔ کیونکہ ہمیں ریورس کرنی نہیں آتی تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر وہ خوب ہنسے۔ پھر مسرت نذیر سے کہا ’’مسرت۔ چلو میں تمہیں اسٹوڈیو پہنچا دیتا ہوں‘‘۔

مسرت نے کہا ’’سوری۔ میں اسی گاڑی میں جاؤں گی‘‘۔

’’اچھا تو رب راکھا‘‘ یہ کہہ کر درپن صاحب رخصت ہوگئے

ہم نے مسرت سے کہا ’’آپ ان کے ساتھ چلی جاتیں تو اچھا تھا۔ ہمیں تو دیر لگے لگی‘‘۔

مسکرا کر بولیں ’’مگر کبھی نہ کبھی تو ہم اسٹوڈیو پہنچ ہی جائیں گے‘‘۔

ان کا اندازہ واقعی بالکل درست نکلا۔ کیونکہ کچھ دیر بعد ہم اسٹوڈیو پہنچ ہی گئے۔(جاری ہے)

مختلف معروف شخصیات کے سکینڈلز کی کہانی، قسط نمبر 82 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -