یہ انسان کہاں گئے؟

یہ انسان کہاں گئے؟
یہ انسان کہاں گئے؟

  

تحریر: ذوالفقار علی

اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہر ایک مخلوق اپنی ذات میں اِک شاہکار ہے۔ زمین و آسمان، چاند، ستارے، ہوائیں اور فضائیں، کہکشائیں اور آبنائیں، بحرو بر، چرند و پرند، منظر اور پس منظر دیکھ کر کوئی بھی باشعور اِنسان اپنے خالق کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اِن ساری مخلوقات میں سے اِنسان کو سب سے اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ ہم بظاہر توہر انسان ایک جیسے ہی ہیں وہی دو آنکھیں، دو ہونٹ، دو ٹانگیں، دو ہاتھ، وہی سر، وہی پاؤں لیکن پھر ہم میں فرق کیا ہے؟اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی جستجو مجھے ہمیشہ رہی ہے کیوں کہ میں نے زندگی میں ہمیشہ معاشرے کے اشرف المخلوقات اِنسانوں کی نشاندہی کی ہے۔ کیا یہ لوگ اشرف المخلوقات کہلانے کے حق دار ہیں؟؟ یہ لوگ۔۔۔؟ وہ لوگ۔۔۔؟ ہاں وہی لوگ جو 70 برسوں سے اِس وطنِ عزیز کو لْوٹ رہے ہیں۔ کبھی سیاست کے نام پر، کبھی تجارت کے نام پر، کبھی صحافت کے نام پر، کبھی، شرافت کے نام پر، کبھی معیشت کے نام پر، کبھی معاشرت کے نام پر۔ کبھی اِنسانیت کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پرمیں فکر کہ اس گھڑی میں سوچتا ہوں کہ یہ وہ اشرف المخلوقات نہیں ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید فرقانِ حمید کرتا ہے۔ اور اِس امر کا اعلان ہوتا ہے کہ ’’ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اِن کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی‘‘ اِس آیت مبارکہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حسن صورت کے ساتھ بہترین عقل و فہم اور تدبیر عنائت فرمائی جس سے یہ اِنسان دنیاوی اور اْخروی معاملات کا ادراک کرتا ہے یعنی اچھے بْرے میں تفریق کرتا ہے۔ اْس کی یہ خوبیاں دوسری مخلوقات سے اْسے ممتاز کرتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی میری سوچ کا ایک قدم اور آگے بڑھتی ہوئی مجھے یہ بھی لکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت کا حوالہ بھی دیئے دیتاہوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں۔ سو وہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ کیا ایسے اِنسان اشرف المخلوقات ہو سکتے ہیں؟ پھر ذہن میں سوال آتا ہے کہ پھر اشرف المخلوقات کی تعریف کیا ہے۔میرے خیال میں اشرف المخلوقات کہلانے کی حقدار اِس کائنات میں صرف ایک ہستی ہے جن کا نام حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ وہ اِنسانِ کامل، محبوب حضرت باری، خاتم المرسلین، امام الانبیاء، خاتم النبیین، افضل الانبیاء ہیں۔ وہ کائنات کے سب اِنسانوں سے افضل، وہ کائنات کے سب انبیاء سے افضل۔ وہ جن کے دربان فرشتے بنتے ہیں۔ وہی اشرف المخلوقات ہیں۔ پس انہی مقدس نبی کی وجہ سے اْس سے پہلے اور اْس کے بعد کے آنے والے نیکو کاروں، پرہیز گاروں، صالحین، شہداء اور متقیوں کو اْس کے قدموں کے طفیل اشرف المخلوقات کہا جا سکتا ہے۔ ورنہ دوسرے اِنسانوں کو دیکھ کر تو یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اْنہیں اشرف المخلوقات تو دور کی بات ہے اْنہیں اِنسان بھی کہا جا سکے مگر جب میں آج کے انسانوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایسے لگتا ہے کہ کسی نے آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی پروئے کبھی کبھی میرے خوابیدہ شعور کے دروازے پر دستک دے دی ہو تو یقین کیجئے پھر پہروں نیند نہیں آتی۔ راتیں آنکھوں میں کاٹ کر گزارنی پڑتی ہیں اور سوچوں کے منجدھار میں، میں کبھی لاہور کی لاشوں، کبھی پشاور کے جنازوں، کبھی کراچی کے مقتولوں، کبھی کوئٹہ کے محروموں اور مرحوموں کے خون کے چھینٹوں کو اپنے چہرے پر ملنے پر مجبور ہو جاتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ میرے اِس معاشرے میں انسان کہاں رہتے ہیں؟آج انسان کو انسانوں کے ہاتھوں مرتا دیکھ رہا ہوں ، ایسے ایسے واقعات سماعتوں کی نذرہوتے ہیں جن سے دل کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں ۔خدا دار انسانوں سے محبت کرو!انسانوں کی قدر کرو،انسانوں کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرو،اپنے دل سے حسد ، غرور، تکبر ،لالچ ، بھوک کونکال کر صرف اللہ کی بنائی ہوئی عظیم تخلیق کے بنانے کے مقصد کو سمجھو!دعا ہے اللہ اپنی حکمتوں کو سمجھنے کی توفیق دے(آمین )

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -