کلموہی سے چیمبر اور چار دیواری تک

کلموہی سے چیمبر اور چار دیواری تک
کلموہی سے چیمبر اور چار دیواری تک

  

ایک عورت کیا ہے ساتھی ، ہمدم ، دوست یا شریک حیات- ایک بہن ،ایک بیٹی اور اگر لکھوں تو سب سے زیادہ باوقار جنتوں کو اپنے پاؤں تلے زیر کر دینے والی ماں- کہیں رب ِ کائنات کی دھرتی پہ عزت و احترام کی بلندیوں پہ براجماں تو کہیں کوکھ سے نبیوں اور ولیوں کو جنم دے کر پروان چڑھانے والی باغباں – عورت جس کے احترام میں رب نے اپنی رضا رکھی ہے -اسے کیوں ایک مرد اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے اور نیچا دکھانے کے درپے ہے- اپنی اسمبلیوں کے حالات دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر قوم کے نمائندوں کا یہ حال ہے تو مرد کے ساتھ ہر دکھ سہتی اور اس کے قدم سے قدم ملا کے چلتی یہ عورت کہاں اماں پائے گی- شاہ فرمان کا شاہی فرمان ہو یا تخت ِ تبدیلی کے دعوےداروں کا نیا روپ، کبھی اپنے جلسوں کی زینت بنا کے دنیا کو اپنےترقی پسند اور روشن خیال ہونے کے ثبوت دیتے ہیں تو کہیں بند ایوانوں میں کلموہی کے القابات- ملکی ایوان جو عوام کی ملکیت ہیں وہاں چہرے کے رنگ کو بنیاد بنا کے خاموش رہنے کی تلقین بھی ایک عورت کو ہی ہوتی ہے اور ایک خاتون نمائندہ اسمبلی کو نکل جانے کے احکامات بھی صادر ہوتے ہیں- کہیں چیمبر میں آنے کی دعوت ملتی ہے تو ذومعنی فقروں سے ہوتی ہوئی تواضع محفل کو زعفران کر دیتی ہے- ذاتی دشمنی پہ ہمارے قومی لیڈر گھریلو خواتین کی چادر چار دیواری پہ ایسے حملہ آور ہوتے ہیں کہ جیسے ہر دشمنی کا انتقام عورت سے لینا ہی مردانگی ہے- آپ کہیں پہ کسی سے اس کے کیسے بھی تعلقات بنا دیں آپ کی پارٹی کی عورت آپ کے ساتھ کھڑی ہوکے اسے سچ ثابت کرنے پہ مردانہ وار تیار ہو جائے گی- آپ ہماری اسمبلیوں کے قابلِ احترام نمائندے ہیں اور دنیا کے سامنے ہمارے ملک کی تصویر لیکن آپ نے کبھی اس طبقہ کو فعال اور زیور تعلیم سے آراستہ ہی نہیں کیا – مردوں کے اس معاشرے میں یہ عورت اس لئے بھی تعلیم حاصل نہ کر سکی کہ کہیں اپنا حق مانگنے کے قابل ہی نہ ہو جائے –

عورت بھی ایک انسان اور خدا کی رحمتوں کا درجہ رکھتی ہے پھر ہماری نظر میں وہ تحقیر کیوں -میں بتا تاہوں کہ عورت کیا ہے – یہ حقیقت ہے کہ وجودِزن سے ہی تصویرِکائنات میں رنگ ہے- کائنات میں رشتے ، ناطے ،پیار ، محبت اسی کے دم سے ہے –ابھرتی دوستی ،بگڑتی دشمنی ،دلوں کے ملاپ اور قربتوں میں جدائی کی اکائی بھی بہت سے معاملات میں اسی صنف ِ نازک سے جڑی ہوئی ہے- محبتوں میں مٹھاس اور وصل کی آس بھی اسی کی پہچان ہے-مرد اور عورت میں محبت نعمت ِ یزداں ہے – رب ِ کائنات نے حوا کو مردکی پسلی سے پیدا فرمایا اورمرد کی پیدائش کو پھر اسی پسلی کے مرہون ِمنت کردیا-گویاایک دوسرے کولازم و ملزوم بنا کر محبت کی زنجیر اس طرح باندھی ہے کہ ان الفتوں میں پھر سکون بھی ہےاورقرار بھی - چناب کے تیرتے کچے گھڑے –صحراؤں کی ریت پہ عاشق پڑے صرف اس رشتے کی مالا ہی توجھپتے ہیں – تاریخ ِ انسانی میں صنف ِ نازک پہ لڑی جانے والی جنگیں کس سے پنہاں ہیں – حقوق و فرائض پہ روشنی ڈالتے لکھاری کبھی ان کو ایک گاڑی کے دو پہیوں سے تشبیہ دیتے ہیں تو کبھی جزولا ینفک قرار دیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں یہ حوا کی بیٹی کیسے پس رہی ہے اس کا ادراک شاید معاشرہ نہیں کر پا رہاہے- تعلیم سے محروم اس صنف میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے-جبر و استبداد اور پاؤں کا جوتا بنی یہ عورت کبھی اس معاشرے کو مرد کا معاشرہ قرار دے کر چپ چاپ غلامی کو اپنی قسمت مان لیتی ہے تو کبھی غیرت کے نام پہ کٹ جاتی ہے-اس معاشرے میں تعلیم کو ایک باغیانہ سوچ کا شاخسانہ سمجھ کر عورت کو علم سے محروم رکھا جاتا ہے – کئی پردوں میں لپٹی ہوئی یہ عورت مرد کا پلو پکڑ ے صرف گھر گرہستی ،بچہ جننے اور کھیتوں میں کام کرنے میں معاون ہے یا وہ جائیداد و ملکیت جسے تخت پہ بٹھا دو یا تختے پہ چڑھا دو بولنے کا حق کب ہے اس کواور پھر اسی روش پہ چلتے روزانہ کی اشیائے ضروریات کی خرید و فروخت سے لے کر نقل و حرکت کے لئےمرد پہ انحصار کرتے ہوئے معاشرہ کا یہ پچاس فیصد سے زیادہ حصہ بالکل ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے-

ہر مرد کو ہسپتال میں اپنے گھر کی خواتین کے لئے عورت کی شکل میں ڈاکٹر چاہیے -نگہداشت کے لئے ایک تعلیم یافتہ نرس چاہیے- اگر خرید و فروخت درکار ہے تو عورت ہی دکاندار اور عورت ہی ایک سلیقہ کار میزبان چاہیے جو ان سے منسلک خواتیں کے پردہ کی محافظ ہوں- اگر کبھی سرکاری دقت پیش آگئی تو عورت ہی کلرک ،فوٹو گرافر اور قلم کار چاہیے- غرض عورتوں کے معاملات کو انجام دیتی خواتین کی سرکار چاہئے- ہر کام کے لئے تعلیم سے آراستہ عورت کا تقاضا کرتے ہوئے ہم بیرونِ ملک میسر سہولیات کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے ہیں - معاشرے کی زبوں حالی پہ بات ہو تو ہمارے دلائل سننے لائق ہوتے ہیں مگر اس فقدان کے پیچھے افرادی قوت کا متلاشی پاکستان کسی کو دکھائی نہیں دیتا ہے-ان پڑھ بہن بیٹی کی مدد کو پڑھی لکھی اسی کلموہی خاتون کو ڈھونڈتے ہوئے ہم کبھی نہیں سوچتے کہ علم کی دولت سےمالامال یہ بیٹیاں ہمارے اپنے ملکی گھرانوں سے ہی ہیں کیوں عزت و حرمت ایک ناخواندہ بیٹی کا ہی زیورہے کیوں ہم ہر پڑھی لکھی بیٹی کو ہم وہ احترام نہیں دے سکتے جس کی وہ حق دارہے-دوسرے ممالک میں عورتیں مردوں کے سنگ سنگ کام کرتی معاشرے کی قدر و قیمت بڑھا تی ملکی ترقی میں ایک گراں قدر حصہ ڈال رہی ہیں- کسی گھر میں ماسی بننے کی بجائے معاشرے کا فعال رکن بن کے ایک شمع روشن کر رہی ہیں-بچے پڑھاتی ، جہاز اڑاتی ،مسیحائی کرتی اور دوسری عورتوں کے کام آتی یہ خواتین جہاں صنف ِ نازک کی عزت ِ نفس کی علامت ہیں وہاں اپنے خاندان کی کامیابی میں ایک برابر کی حصہ دار بھی ہیں- ناک اور کان چھدوا کر زیورپہنانے کے ساتھ ساتھ ضرورت ہےاس زیور کی جس کے حصول کے بعد آپ کی عورت زیادہ محفوظ اور مضبوط ہو گی- علم کا یہ زیور نا صرف اسے معاشرے میں ممتاز کرے گا بلکہ جہالت کے اندھیروں میں وہ روشنی بھر دے گا جہاں آپ اپنی خواتین کے شانہ بشانہ کام کرتیں دوسری خواتین کو بھی وہ عزت اور مقام دیں گے جو آپ اپنی خواتین کو دیتے ہیں – آپ کا دیا احترام انفرادی اور اجتماعی خوشحالی کی ضمانت بنےگااور پھر قدم سے قدم ملا کر چلتا یہ طبقہ ملکی فضاؤں میں دھنک رنگ بھر دے گا اوراس کی خوبصورتی میں اضافہ بھی کردے گا- بس اس طبقہ کی عزت کیجئے اور با وقار طریقے سے جینے کا حق دیجیے -

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -