پٹرول پمپ پر آپ کو کس طرح لوٹا جاتا ہے اور بچنے کیلئے کس طرح پٹرول ڈلوانا چاہیے؟ پاکستانی شہری نے ایسی بات بے نقاب کردی جو ہر شہری کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

پٹرول پمپ پر آپ کو کس طرح لوٹا جاتا ہے اور بچنے کیلئے کس طرح پٹرول ڈلوانا ...

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے کئی بار یہ بات سنی ہو گی کہ ”فلاں پٹرول پمپ والے چور ہیں، ان سے کبھی پٹرول نہ ڈلوائیں۔“ بدقسمتی سے یہ باتیں محض افواہیں نہیں ہوتیں بلکہ ان میں بڑی حد تک صداقت پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے کسی بھی شہر میں ایسے پٹرول پمپوں کی کمی نہیں جو شہریوں کو دھوکہ دے کر انہیں لوٹتے ہیں۔ ایک ایسے ہی چور پٹرول پمپ کا احوال انٹرنیٹ صارف مصعب رشاد علی نے ایک فیس بک پوسٹ کی صورت میں بیان کر کے صارفین کو خبردار کر دیا ہے۔

ویب سائٹ Parhloکی رپورٹ کے مطابق مصعب نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے ”میں اور میرا لڑکا نوید حسن  ٹیپو سلطان روڈ (ڈکن ڈونٹس\ایسپریسو کے نزدیک) پر پٹرول ڈلوانے کیلئے رکے۔ ہم نے انہیں 510 روپے کا پٹرول ڈالنے کو کہا۔۔۔ یہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ 500، 1000،1500جیسی رقم کیلئے ان لوگوں نے پہلے ہی میٹر میں ساز باز کررکھی ہوتی ہے، یعنی میٹر پر تو آپ کی بتائی گئی رقم ہی نظر آئے گی لیکن اصل میں پٹرول کم ڈالا جاتا ہے۔

دنیا کی واحد لائبریری جہاں آپ کتابوں کی بجائے انسان کرائے پر حاصل کرسکتے ہیں اور پھر۔۔۔

بہرحال، جب گاڑی میں پٹرول بھرا جارہا تھا تو ایک ملازم نے شیشہ کھٹکھٹایا اور کہنے لگا ’وی پاور ڈالوں یا سادہ والا‘ میں نے یہ بات سن کر فوری طور پر میٹر کی جانب دیکھا(کیونکہ پٹرول ڈلنا شرو ع ہوگیا تو پھر یہ سوال پوچھنے کا کیا مقصد)اور میں نے ایک دوسرے ملازم کو کوئی بٹن دباتے ہوئے دیکھا جس کی وجہ سے میٹر 300 سے سیدھا 500 پر چلا گیا۔ یہ دیکھ کر ہم دونوں گاڑی سے نکلے اور ان ملازمین کو ایسی زوردار ڈانٹ پلائی کہ انہوں نے فوری طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا۔

اتنی دیر میں وہاں کافی لوگ جمع ہوگئے اور کچھ اور لوگوں نے بھی بتایا کہ ان کے ساتھ اس پٹرول پمپ پر اسی طرح کا معاملہ پیش آچکا ہے۔ پٹرول پمپ والوں نے باقی رقم کا پٹرول بھی بھردیا اور ہمیں پورے 510 روپے واپس بھی کردئیے تاکہ ہم کسی سے اس معاملے کا ذکر نہ کریں، لیکن اس بات پر خاموش رہنا ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہوگا۔ سو، آپ سب لوگ ایسے چوروں سے ہوشیار رہیں اور خصوصاً  اس پمپ سے پٹرول بھروانے سے پرہیز کریں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -