1971ءکی جنگ کے بعد 93 ہزار پاکستانی فوجیوں کے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی بات سراسر جھوٹ ہے کیونکہ اس وقت۔۔۔

1971ءکی جنگ کے بعد 93 ہزار پاکستانی فوجیوں کے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی بات ...
1971ءکی جنگ کے بعد 93 ہزار پاکستانی فوجیوں کے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی بات سراسر جھوٹ ہے کیونکہ اس وقت۔۔۔

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 16 دسمبر 1971ءوہ تاریک دن تھا جب بھارت کی مکروہ سازش کامیاب ہوئی اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ بھارت نے اس موقع پر ایک اور مکروہ وار کرتے ہوئے یہ پراپیگنڈہ پھیلادیا کہ پاکستان کے 93 ہزار فوجیوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا تھا۔ افسوس کہ اس بات پر بھارتی اور بنگلہ دیشی تو یقین رکھتے ہی ہیں لیکن پاکستان میں بھی تاریخ اور حقائق سے لاعلمی کے باعث بہت سے لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔

ویب سائٹ globalvillagespace کی ایک رپورٹ میں ڈاکٹر جنید احمد لکھتے ہیں کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ اس جھوٹ کو بڑے پیمانے پر سچ سمجھا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دسمبر 1971ءمیں مشرقی پاکستان کی سرزمین پر پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 45ہزار سے زائد نہیں ہوسکتی تھی، تو ایسی صورت میں 93ہزار جنگی قیدی کہاں سے آئے؟

1971ءمیں مشرقی پاکستان میں پاکستان کی صرف ایک کور تھی جو تین ڈویژن پر مشتمل تھی۔ جب 25مارچ 1971ءکو آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تو پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 27 ہزار تھی۔ نومبر کے آخر تک پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 45ہزار تھی، ان میں سے بھی صرف 34ہزار مسلح ڈیوٹی پر تھے، جبکہ باقی 11ہزار دیگر غیر عسکری ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔

ایک پاکستانی کور بھارتی فوج کی تین کورز سے مقابلہ کررہی تھی، جبکہ بھارتی فوج کی پانچ کورز اور ایک لاکھ 75ہزار بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے شرپسند اور عوامی لیگ کے ہزاروں شرپسند بھی ان کے خلاف لڑرہے تھے۔ جب مشرقی پاکستان کی سرزمین پر پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 34 ہزار سے 45ہزار کے درمیان تھی تو 93 ہزار جنگی قیدی کس طرح بنالئے گئے؟

متعدد عسکری و غیر عسکری ماہرین نے اس معاملے کی وضاحت کی ہے۔1971ءمیں مشرقی کمانڈ کے کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل نیازی نے لکھا کہ ان کے پاس موجود کل 45 ہزار کی طاقت میں سے 34ہزار آرمی سے تھے، جبکہ 11ہزار سی اے ایف اور مغربی پاکستان سویلین پولیس کے اہلکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایچ ایل، ایم ایل اے، ڈپو، تربیتی اداروں، ورکشاپ، فیکٹریوں، نرسوں، لیڈی ڈاکٹروں، حجاموں، باورچیوں، موچیوں اور خاکروبوں کو بھی جمع کرلیا جائے تو ان کے پاس کل تعداد 55ہزار سے زائد نہیں تھی۔

اسی طرح ائیرمارشل رحیم خان کے مطابق مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجیوں کی تعداد کبھی بھی 33ہزار سے لے کر 34 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ لکھتے کہ باقی سب باتیں بھارت اور عوامی لیگ کا پراپیگنڈہ ہیں۔

امریکہ کے سابق رکن کانگریس چارلس ولسن کے مطابق 1971ءمیں 35ہزار پاکستانی فوجی دو لاکھ بھارتی فوجیوں اور ایک لاکھ سے زائد بھارتی تربیت یافتہ بنگالی جنگجوﺅں کے خلاف لڑرہے تھے۔

اسی طرح ایک اور امریکی سابق رکن کانگریس سٹیفن سولارز نے 1971ءکی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے 1989ءمیں لکھا کہ ڈھاکہ میں 40ہزار پاکستانی فوجیوں کیلئے کئی گنا زیادہ بھارتی فوج اور بھارتی تربیت یافتہ بنگالی باہنی سے لڑنا ممکن نہیں تھا۔ سابق بھارتی وزیر دفاع کے سی پنت اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی مشہور بھارتی بنگالی مصنفہ شرمیلا بوس نے بھی 93ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کی بات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

کیا ان تاریخی شواہد کی موجودگی میں کسی کو بھی 93000 پاکسانی جنگی قیدیوں کی بات کرنا زیب دیتا ہے؟ یہ سوال غیروں کے علاوہ کچھ اپنوں کے سامنے بھی رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

قومی -