لاہور ہائی کورٹ بار کا وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے دستبردار ہونے سے انکار،20مئی کو وکلاءنمائندہ کنونشن طلب کرلیا

لاہور ہائی کورٹ بار کا وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے دستبردار ہونے سے ...
لاہور ہائی کورٹ بار کا وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے دستبردار ہونے سے انکار،20مئی کو وکلاءنمائندہ کنونشن طلب کرلیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کی طرف سے وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے دستبردار ہونے کے اعلامیہ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ۔

چمن میں افغان فورسز کی فائرنگ، شہریوں کا افغان کونسل خانے کے سامنے احتجاجی ریلی

اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری ذوالفقار علی ،سیکرٹری عامر سعید راں ،نائب صدرراشد جاوید لودھی اور سیکرٹری فنانس محمد ظہیر بٹ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس کیس کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ بار نے پاکستان میں سب سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جس پر ہم آج بھی قائم ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کے اسلام آبا دمیں ہونے والے اجلاس سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے سخت تحفظات ہیں ۔ اس اجلاس میں کسی طورپاکستان بھر کے وکلاءکی نمائندگی نہ تھی، بلوچستان اورکے پی کے سے کوئی نمائندہ اجلاس میں شریک نہیں ہوا، حتیٰ کہ 10ممبران پاکستان بار کونسل میں سے 8نے وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ،تقریبا 70%بارز نے بھی وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا مگر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بالکل جانبداری کرتے ہوئے حکومتی وکلاءکے ایماءپر نہ صرف پاکستان بار کونسل اپنے مطالبہ سے ہٹ گئی بلکہ وکلاءکاز کو برباد کرتے ہوئے حکومت کی حمایت کی ۔

ہم لاہور ہائیکورٹ باراپنے 20اپریل2017ءکے ہنگامی پریس کانفرنس کے اعلامیہ جس میں ہم نے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا کہا تھا اس پر آج بھی قائم ہیں اور ہم دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم ان حالات میں مستعفی ہوں ،انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آل پاکستان نمائندہ کنونشن 20مئی 2017ءکوہر صورت منعقد کریں گے جس میں پاکستان بھر کے وکلاءسپریم کورٹ بار، چاروں صوبوں کی بار ایسوسی ایشن پورے پاکستان کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، پورے پاکستان کی تحصیل و ضلعی بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان کو دعوت نامے بھجوا ئے جارہے ہیں اور قوم دیکھے گی کہ وکلاءحقیقی نمائندگی کا حق ہم ادا کریں گے اور حکومتی چیرہ دستیوں اور غیر اخلاقی جواز کے خلاف سینہ سپر ہوں گے اور ثابت کریں گے کہ وکلاءنہ تو بکاﺅ مال ہیں اور نہ ان کو کوئی لالچ یا طمع اپنے موقف سے ہٹا سکتا ہے .

ہم وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے جن لیڈروں نے استعفیٰ کا مطالبہ کر کے بعد میں حکومتی ایماءپر یو ٹرن لیا ہے ان کا فیصلہ ہم تاریخ پر چھوڑتے ہیں لیکن 20مئی کو وکلاءکے نمائندہ کنونشن میں پاکستان بھر کی وکلاءکی حقیقی نمائندگی کرتے ہوئے استعفیٰ کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔پاکستان ایک وکیل کا خواب تھا اور ایک وکیل نے ہی پاکستان بنایا تھا کل بھی ہم جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی بحالی کے لئے کھڑے تھے اور اب بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے اور پاکستان کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات کیلئے ہم وکلاءاپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کریں گے۔ 

مزید :

لاہور -