خیبرپختونخوا اسمبلی، وزیر کیخلاف قراردادکی اجازت نہ ملنے پر خواتین ارکان کا احتجاج

خیبرپختونخوا اسمبلی، وزیر کیخلاف قراردادکی اجازت نہ ملنے پر خواتین ارکان کا ...
خیبرپختونخوا اسمبلی، وزیر کیخلاف قراردادکی اجازت نہ ملنے پر خواتین ارکان کا احتجاج

  

پشاور(ویب ڈیسک)خیبر پختونخوااسمبلی میں صوبائی وزیر شاہ فرمان کیخلاف قرارداد کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن خواتین ارکان نے بھرپور احتجاج کیا ہے۔ اپوزیشن خواتین ارکان نے قراردادکی کاپیاں پھاڑکر واک آﺅٹ کیا،وزراءکی اجلاس سے غیرحاضری پربھی اسمبلی میں ہنگامہ ہوا،ایوان میں رو عمران روکے نعرے لگائے گئے،خواتین اراکین اسمبلی نے احتجاجاً قراردادکی کاپیاں پھاڑ دیں اور اجلاس سے واک آﺅٹ بھی کیا۔

ڈپٹی سپیکرڈاکٹر مہرتاج روغانی کی زیر صدارت اسمبلی کااجلاس شروع ہواتو خواتین اراکین گزشتہ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر شاہ فرمان کے نازیباالفاظ کیخلاف ایوان میں قرار داد لاناچاہتی تھی جس کی اجازت نہ ملنے پرخواتین اراکین نے احتجاج کیا۔مسلم لیگ ن کی رکن ثوبیہ خان سپیکرکے ڈائس کے سامنے پہنچ گئیں جبکہ دیگرخواتین اراکین نے قرار داد کی کاپیاں پھاڑ دیں،ایوان میں اراکین نے نعرے بازی بھی کی اور واک آﺅٹ کر دیا۔دوسری طرف مانکی شریف نوشہرہ میں تحریک انصاف کے جلسہ کے باعث صوبائی وزراء،مشیر،معاونین اور پارلیمانی سیکرٹریوں سمیت بیشترارکان اسمبلی اجلاس سے غائب رہے جس کیخلاف اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ کھڑا کرکے موقف اپنایا کہ صوبائی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پرغریب صوبہ کے عوام کا لاکھوں روپے خرچ ہوتا ہے تاہم تحریک انصاف کے وزیروں کی عدم دلچسپی نے اسمبلی کوبے توقیر کرکے رکھ دیاہے،مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سردار اورنگزیب نلوٹھا نے کہاجس دن تحریک انصاف کاجلسہ ہوتا ہے سپیکراسمبلی کااجلاس نہ بلایا کریں کیونکہ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجودارکان کے سوالات کے جواب دینے کیلئے صوبائی وزرا موجودنہیں ہوتے،صوبائی وزرا کواپنے محکموں کے سوالوں کے جواب نہیں آتے اسلئے غائب ہوجاتے ہیں،اگر صوبائی وزراایوان میں جواب نہیں دے سکتے توتحریک انصاف کے دوسرے ارکان کو وزیربنایاجائے جس پراتحادی جماعت کی خاتون وزیر انیسہ زیب طاہر خیلی نے کہا” بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“جب وزیر ایوان میں موجود نہیں ہوتے اورسوال کا محرک جواب سے مطمئن نہیں ہوتا سوال کو موخر کرنا چاہیے،سردار نلوٹھا نے انیسہ زیب سے استفسار کیاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کاوزیر کون ہے جس پر انہوں نے جواب دیاکہ سینئر وزیر شہرام ترکئی ،اگر سردار نلوٹھا نے انہیں نہیں دیکھا تو وہ انکی تصویردکھا دیں گی، جسپر ڈپٹی سپیکر مہرتاج نے کہاان سے رابطہ کرکے بتایاہے وہ اسمبلی آ رہے ہیں جس پرجے یوآئی کے مفتی سید جنان نے کہاکہ اب اسمبلی کی کارروائی روک کر پورا ایوان ایک وزیر کا انتظار کرے گا؟تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی بے توقیر ی ہورہی ہے اس کیخلاف احتجاجاً واک آوٹ کرتے ہیں،حکومت کی جانب سے انہیں مناکر واپس لایا گیا۔

میرا بیان تھا دو ججز نے نواز شریف کو جھوٹا کہا پانچوں نے قطری خط تسلیم نہیں کیا: عمران خان

مزید :

پشاور -