نیب کا سورج پورے ملک میں چمک رہا ہے

نیب کا سورج پورے ملک میں چمک رہا ہے

  

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی اور پالیسی کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے 7ماہ کے اندرجو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی وجہ سے آج کا نیب ایک متحرک ادارہ بن چکا ہے اور پوری قوم کی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نظریں نیب پر ہیں۔ چیئرمین نیب نے سات ماہ کے اندر مختلف شکایات کا نہ صرف نوٹس لیا بلکہ انکوائری کا بھی حکم دیا جن میں ملتان میٹرو پراجیکٹ ،پنجاب میں پبلک لمیٹیڈ 56 کمپنیوں ،پانامہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں پاکستانیوں کی 435 آف شور کمپنیوں کچھی کینال کی تعمیر اور توسیع کے کام میں مبینہ بدعنوانی نجی پرائیویٹ ہاوسنگ سوساٹیوں کی طرف سے عوام کی لوٹی گئی جمع پونجی کی واپسی اشتہاری اور مفرور افراد کی گرفتاری جس کے بعد37مفرور اشتہاری ملزموں کی گرفتاری کے علاوہ سی ڈی اے آرڈی اے اور آئی سی ٹی کو کام کرنے والی غیر قانونی ہاوسنگ سوساٹیوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر لگانے اور اخبارات میں عوام کی آگاہی کے اشتہارات کی اشاعت کا عمل شامل ہے اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نیب کے دروازے عوام کیلئے کھولنے اور کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ عوام کی بدعنوانی سے متلعق شکایات خود سنیں اب تک نہ صرف 22ہزار کے قریب درخواستیں نیب کو مل چکی ہیں اور تقریبا 1500شکایت کنندگان کھلی کچہریوں میں چیئرمین نیب نہ صرف مل چکے ہیں بلکہ اب نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے ڈی جی بھی عوام کی شکایت ہر ماہ کی آخری جمعرات کو سنتے ہیں اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے ہیڈکوارٹرز میں 8ایگزیکٹو بورڈ میٹگ کا اجلاس بلایا جس میں بہت سی شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کے علاوہ ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔

وزیر اعلی پنجاب، وزیراعلی سندھ اور وزیراعلی کے پی کے کو مختلف مقدمات کی انکوائری کے سلسلہ میں نیب میں آئے بلکہ سابق رکن صوبائی اسمبلی پنجاب جواد کامران کھر کے خلاف شکایت کی جانچ ہڑتال رکن صوبائی صوبائی اسمبلی پنجاب سردار احمد علی دریشک کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ذمہ داران کے خلاف انکوائری بلوچستان کے وزیر محکمہ جنگلات عبیداللہ جان بابت کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال سندھ کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر افضل اللہ پیچوہو کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال بلوچستان کے سابق ایڈیشنل آئی جی اور موجودہ آئی جی ریلوے ڈاکٹر مجیب الرحمان کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیڈا کے خلاف انکوائری پاکستان اسٹیل مل کی بربادی اور قوم کے اربوں روپے کے ضیاع کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری قومی اسمبلی کے رکن کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال عاصمہ ارباب عالمگیر ،اربات عالمگیر اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے خلاف تحقیقات قانون کے مطابق مکمل کرنے کا حکم دیا۔نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں ‘ نیب نے بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور ان سے لوٹی گئی رقم بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا مالیاتی کمپنیوں میں دھوکہ دہی‘ ہاؤسنگ اور کوآپریٹو کمپنیوں ‘ بینک فراڈ بنک نادہندہ گان ‘ سرکاری ملازمتوں اور پرائیویٹ اشخاص کے سرکاری فنڈ میں خرد برد اور اختیارات سے تجاوز کے مقدمات کی تفتیش کرنا ہے ۔

نیب کو 2018ء میں اسی عرصے کے دوران 2017ء کے مقابلے میں دوگنا شکایات موصول ہوئیں ۔ نیب نے ادارہ جاتی احتساب کا نظام وضع کیا ہے‘ اب تک 85 افسران کو سزائیں دی گئی ہیں جن میں 23 افسران کو سخت سزائیں دی گئی اور انہیں ملازمت سے برخاست کردیاگیا ہے جبکہ 34 افسران کو نرم سزائیں دی گئی ہیں۔ نیب سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ‘ پاکستان سارک انٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے ‘ نیب نے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔اس کے علاوہ نیب نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کے سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 50 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی جاچکی ہیں۔ نیب نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کیلئے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کیلئے پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں‘ وفاقی سطح پر یہ پریوینشن کمیٹیاں سی ڈی اے ‘ وزارت مذہبی امور ‘ ایف بی آر ‘ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی ) جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ صحت ‘ تعلیم ‘ ریونیو ‘ ہاؤسنگ اور کوآپرٹیو میں قائم کی گئی ہیں جبکہ وزارت مذہبی امور میں نیب کی قائم کی گئی پریوینشن کمیٹی نے حج انتظامات کو بہتر بنانے اور حاجیوں کے مسائل کے حل کیلئے جو سفارشات تیارکیں ان پر وزارت مذہبی امور نے عملدرآمد کیا۔ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرخ 77 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے نیب نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے نیب کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ۔نیب کو اپنا کام قانون کے مطابق کرنا ہے اور یہ کام نیب کرتا رہے گا۔

انتخابات میں دھاندلی کے مبینہ بے بنیاد الزامات نیب کی ساکھ کو متا ثر کرنے کی مذموم کوشش ہے جو کہ نیب کے راستے میں کسی طرح بھی رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کے احکامات کی روشنی میں اب تک 226 افراد کو گرفتار ، 872 شکایات کی جانچ پڑتال، 403 انکوائریاں اور82 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 217 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ معزز احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ہیں جن میں سے39 افراد کو متعلقہ احتساب عدالت نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے گذشتہ دنوں ایک میڈیا رپورٹ جس میں نیب صر ف پنجاب میں چمک رہا ہے۔ نیب نے اس بات کو واضح کیا ہے کہاکہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے ۔ نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا۔

میڈیا میں نیب کے سندھ میں انکوائریاں بند کرنے کی خبر نہ صرف حقا ئق کے منافی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نیب کے موجودہ چئیر مین جسٹس جاوید اقبال کے دور میں نیب نے کسی سیاستدان کے خلاف انکوائری بند نہیں کی۔ چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کا عزم کیا تھا اس پر زیروٹالیرنس اور خود احتسابی کی پالیسی کے ذریعے نہ صرف سختی سے عمل کیاجارہا ہے بلکہ ان کے تمام اقدامات نہ صرف بروقت اور کسی دباؤ اور سفارش کے بلاتفریق اور قانون کے مطابق ہیں چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے قوم سے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کاوشیں کرنے اور زیروٹالیرنس کی پالیسی اپنائی ہے اس پر نہ صرف چیئرمین نیب خود عمل کررہے ہیں بلکہ نیب کے تمام افسران بھی اس پر عمل کررہے ہیں۔جو پاکستان کے بہتر مستقبل اور ملک کو کرپشن فری ملک بنانے کی جانب صیح اور بروقت قدم ہے چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جو کہا تھا اس پر 7ماہ کے مختصر وقت میں سختی سے عمل کرکے ایک عظیم مثال قائم کی ہے جس کی جنتنی بھی تعریف کی جائے

وہ کم ہے اور چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی شاندار کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

مزید :

رائے -کالم -