تعلیم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

تعلیم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
تعلیم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالب علموں کی اکثریت کا تعلق مڈل کلاس گھرانوں سے ہوتا ہے جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ مگر ان قسمت کے ماروں کو کیا خبرکہ سرکاری سکول کالجز میں مفت داخلہ تو مل جائے گا لیکن کلاس میں باعزت بیٹھنے کیلئے دولت کی ہوس میں اندھے ہوئے’’ اکیڈمی مافیا اساتذہ‘‘ کے ٹیوشن سینٹر میں جانا ضروری ہے۔ ماسٹر صاحب کی نجی اکیڈمی نہ جانے والے طلباء زیرِعتاب نظر آتے ہیں اوراس جرم کی پاداش میں انہیں مختلف بہانوں سے شدید ذہنی اذیت کا شکار کیا جاتا ہے۔کلاس میں جان بوجھ کے مشکل سوال پوچھے جاتے ہیں اور بورڈ یونیورسٹی کا داخلہ تک روکنے کی گھٹیا حرکات بھی کی جاتی ہیں۔ اکیڈمی نہ جانے کی سزا صرف کلاس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ سائنس مضامین کے پریکٹیکل امتحان میں اکیڈمی مافیا کے ’’پیٹی بھائی‘‘اکیڈمی نہ پڑھنے والے گستاخوں کوسبق سکھانے کیلئے جہاں سفارشیوں کوڈھیروں نمبر بانٹتے نظر آتے ہیں وہیں سفارش نہ ہونے والے طلباء کو سر عام’’ عملی امتحان‘‘ میں کم نمبر دینے کی بدیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

غریب آدمی کو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے اپنے پیٹ میں گرہ دینا پڑتی ہے۔ چپڑی روٹی کی جگہ سوکھی روٹی نگلنا پڑتی ہے۔ اپنی روزمرّہ کی ضروریات کو اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پر قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنی بیماری کا علاج کروانے کی بجائے اپنے بچوں کواکیڈمی بھیجنا پڑتا ہے۔

گورنمنٹ درسگاہوں(سکول ،کالجز اور یونیورسٹی)سے مسلسل غیر حاضر رہنے والے اور نسبتاً کم دکھائی دینے والے بھگوڑے اساتذہ جو اول تو وقت سے سکول کالج پہنچتے ہیں نہیں اگر چلے بھی جائیں تو بد دلی سے لیکچر دیتے ہیں۔جبکہ وہی اساتذہ اپنی قائم کردہ پرائیویٹ اور نجی اکیڈمیز میں ہمہ وقت موجود اور جانفشانی کے ساتھ تدریس کا فریضہ سرانجام دیتے نظر آتے ہیں اوراپنی نجی اکیڈمیز کیلئے اشتہارات کے ذریعے بچوں کو سبز باغ دکھا تے ہیں۔فیل ہونا بھول جائیں،پاس نہیں تو فیس واپس،صد فیصد کامیابی کی ضمانت وغیرہ وغیرہ۔

ان تعلیم فروش اساتذہ نے اپنی ٹھاٹھ باٹھ کو بڑھانے اور طلباء پر اپنی مزید دھاک بٹھانے کیلئے پرائمری،مڈل،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سے لیکر یونیورسٹی تک ہر امتحان میں اپنی ڈیوٹی بھی ضرور لگوانی ہوتی ہے۔ اپنے تعلقات کو استعمال میں لاتے ہوئے مارکنگ ڈیوٹی بھی لازم کرتے ہیں۔ڈیوٹیوں سے بھرپور مالی فائدہ تو ہوتاہی ہے ساتھ میں اپنی نجی اکیڈمیز کے باہر مشہور زمانہ ڈائیلگ’’پیپر سیٹنگ اور پیپر چیکنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے اساتذہ‘‘ لکھنے کاجواز بھی مل جاتا ہے۔

ان امتحانی ڈیوٹیوں کی وجہ سے اسکولوں اور کالجوں میں نصاب مکمل نہیں ہوپاتاجس کی وجہ سے یہ نفع خور اساتذہ بچوں کو پرانے نوٹس،گائیڈبک اورشارٹ کٹ گیس پیپرکی طرف متوجہ کرتے ہیں۔گورنمنٹ اساتذہ کوپیسہ کمانے کی ایسی لت لگی ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرلیتے ہیں۔ہر سال پرائیویٹ بی ایس سی کرنے والوں کوگورنمنٹ کالجز سے عملی امتحان کے ہزاروں تصدیقی سرٹیفیکٹ دیے جاتے ہیں۔جبکہ ان بچوں نے تو کبھی پریکٹیکل لیب تک نہیں دیکھی ہوتی مگر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے دوہزار سے لیکر پانچ ہزار فی سرٹیفیکیٹ کی لوٹ سیل لگائی ہوتی ہے۔پانچ ہزار دے دو اور تصدیقی مہر ثبت کروالو۔ایک طرف یہ عالم ہے کہ طلباء کو گورنمنٹ کالجز میں داخلہ نہیں مل رہا ہوتا تو دوسری طرف کالج پرنسپل کی دوسروں شہروں میں قائم اکیڈمیزمیں پڑھنے والے کالج دیکھے بن ہی ریگولر داخلہ کے اہل ہوجاتے ہیں۔

استاد تو روحانی باپ ہوا کرتا ہے ، اگر باپ ہی اپنی اولاد سے دغا کرنے لگے تو پھر خیر کی امید کیونکر رکھی جاسکتی ہے۔

اساتذہ جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ،ان کی غیر ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ وہ ان گھٹیا اور شرمناک افعال سے اپنے طلبہ پر انتہائی برے اثرات مرتب کر رہے ہیں ان کے زیرسایہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے دیانتداری ،فرض شناسی اور حب الوطنی کی امید کیونکر کی جاسکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے لاکھوں ذہین اور مستحق طلباء میں لیپ ٹاپ کی تقسیم سمیت فروغ تعلیم کیلئے کیے جانے والے اقدامات قابل تحسین اورمثبت پیش رفت ہے۔پاکستان بھر میں 145اضلاع میں تعلیمی نظام کو غیر جانبداری سے مانیٹرنگ کرنی والی معروف NGOالف اعلان نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ پنجاب شعبہ تعلیم میں سب سے نمایاں ہے اور نظام تعلیم کی بہتری کیلئے قابل تعریف اصلاحات کی ہیں۔بلیک بورڈ سے وائٹ بورڈ اور ڈیجیٹل بورڈ تک کا سفر واقعی بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔اساتذہ کی بائیومیٹرک حاضری سے بھی کافی بہتری ہوئی ہے مگر میں حکام بالا کی توجہ اصل مسئلہ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ جب تک سرکاری اساتذہ کی نجی تعلیمی ادروں میں تدریس پر عملی طور پر پابندی نہیں لگائی جاتی تب تک تعلیمی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔آئے دن افسران بالا کی طرف سے میڈیا میں پریس ریلیز جاری کر دی جاتی ہے کہ سرکاری اساتذہ کے نجی تعلیمی اداروں میں درس و تدریس پر پابندی عائد ہے خلاف ورزی کرنے والوں پر’’ پیڈاایکٹ ‘‘لگایا جائے گا۔محکمہ تعلیم پریس رلیز جاری کرکے خود کو بری الذمہ سمجھتا ہے جبکہ گلی گلی ،شہر شہر گورنمنٹ اساتذہ کی قائم کردہ نجی اکیڈمیز جہاں پر وہ پرنسپل۔مینجنگ ڈائریکٹر اور سرپرست بن کر تعلیم فروشی کا دھند ہ زوروں پر چلا رہے ہیں اور حکومتی دعووں کا منہ چرا رہے ہیں۔اگر کوئی درخواست دیکر انکوائری لگوا لے تو’’مجاں مجاں دیاں پیناں ہوندیاں نے‘‘کے مترداف محکمہ تعلیم سے ہی انکوائری آفیسر کلین چٹ جاری کر دیتا ہے۔ جناب سوال یہ ہے کہ باقی محکموں کی طرح’’ پیڈا ایکٹ ‘‘کی انکوائری جوڈیشری یا کسی دوسرے غیر جانبدار ادارے سے کیوں نہیں کروائی جاتی؟؟

یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔بعد ازاں پتہ چلتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے انکوائری آفیسر تو خود با مشکل اپنی نجی اکیڈمی سے وقت نکال کے انکوائری کیلئے آئے تھے۔ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ تعلیم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ