ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال، بازار میں ادویات مہنگی

ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال، بازار میں ادویات مہنگی

  

پنجاب میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ کے خلاف ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے، پورے صوبے کے ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس سٹاف نے کام بند رکھا اور شعبہ بیرونی مریضاں میں بھی کسی مریض کو نہیں دیکھا گیا، ڈاکٹروں نے اعلان کیا ہے کہ بل واپس لینے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ سینئر ڈاکٹر بھی اُن کے موقف کے حامی ہیں تاہم وہ ہڑتال میں شامل نہیں،ہڑتال کی وجہ سے مریضوں اور اُن کے لواحقین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور بہت سے مریضوں کو ہسپتال آ کر واپس جانا پڑتا ہے۔ البتہ جو مریض مہنگے پرائیویٹ ہسپتالوں کا علاج افورڈ کر سکتے ہیں انہوں نے اِن پرائیویٹ ہسپتالوں سے رجوع کر لیا ہے۔ پنجاب حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی تصفیہ کرنا چاہتی ہے یا نہیں،اِس سلسلے میں چونکہ حکومت کی جانب سے معلومات دستیاب نہیں،اِس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈاکٹروں کو ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے بھی کوئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں یا نہیں،لیکن ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کی خجل خواری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے مریضوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نہ صرف خود ڈاکٹر ہیں،بلکہ طویل عرصے تک ڈاکٹروں کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں، وہ ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے کی عہدیدار بھی رہ چکی ہیں، وہ ڈاکٹروں کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور اس کے حل کے لئے کوشاں بھی رہی ہیں۔ اِس لئے اُنہیں ینگ ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر کے مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ یہ تو خیر ڈاکٹروں کے کیرئر کا مسئلہ ہے لیکن اس سے پہلے بھی ینگ ڈاکٹرز ہڑتالوں کے معاملے میں زیادہ ہی فراخ دِل ثابت ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی مسئلے پر ہر دوسرے چوتھے مہینے ہڑتال پر اُتر آتے ہیں اور جو عملہ اُن کا ساتھ نہیں دیتا اس کے ساتھ تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے۔اب پیرا میڈیکس بھی اُن کا ساتھ دے رہے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بھی اس نئے ایکٹ سے متاثر ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے خیبرپختونخوا میں بھی ہڑتال کر رکھی ہے،جہاں پانچ سال تک تحریک انصاف کی حکومت رہی اور یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں انتظام بہت بہتر کر دیا گیا ہے،لیکن اس ہڑتال سے ثابت ہو گیا کہ خیبرپختونخوا میں بھی معاملات کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے۔ بس زبانی جمع خرچ تھا جس کا بھانڈہ ہڑتال نے پھوڑ دیا۔ نوجوان ڈاکٹر نئے صحت بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ہسپتال نجی ملکیت میں نہ دیئے جائیں،ان کا سروس سٹرکچر بنا کر تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، سینئر ڈاکٹروں نے ان مطالبات کی تو حمایت کی تاہم ہڑتال کے فیصلے سے اختلاف کیا کہ مریض علاج سے محروم رہیں گے،حالانکہ میڈیکل پروفیشن میں ڈاکٹر حضرات کا حلف ہے کہ ضرورت مند کو طبی امداد سے انکار نہیں کیا جائے گا۔دوسری طرف حکومت کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ مسودہ قانون کے مطابق ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جا رہی،بلکہ ان کو خود مختار بنانے کی تجویز ہے،جس کے مطابق انتظام ہر ہسپتال کے لئے بنایا جانے والا بورڈ آف ڈائریکٹرز نبھائے گا۔

نوجوان ڈاکٹروں کے مطالبات ان کی اہلیت کے مطابق روزگار کے حوالے سے ہیں اور ان کی تائید کی جائے گی کہ سروس سٹرکچر موجود نہ ہونا غیر مناسب ہے اور تنخواہوں کے حوالے سے بھی غور کرنا چاہئے اور یہی بات پی ایم اے کی طرف سے کہی گئی،جہاں تک نوجوان ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال کا تعلق ہے تو ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا،ان ڈاکٹروں نے ہمیشہ اپنے مطالبات کے لئے یہی حربہ اختیار کیا اور کئی کئی روز تک آؤٹ ڈور بند رکھے،حتیٰ کہ کئی بار آپریشن تھیڑوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور آپریشن ملتوی کرائے جو مریضوں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

ان نوجوان ڈاکٹروں کو اپنے مطالبات کے لئے عوامی رائے ہموار کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ یہ مریضوں کو پریشان کر کے عوامی ہمدردیوں سے محروم ہوں اب ایسا ہی ہے،اِس لئے بہتر طریقہ اپنے بڑوں کی بات ماننے کا ہے جو پیشہ طب کا تقاضہ بھی ہے۔ متعلقہ حکومت یا صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد مذاکرات شروع کرنے اور مطالبات منظور کرنے کی بجائے،ابتدا ہی میں مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کیا جائے اور جائز مطالبات تسلیم کر لئے جائیں تاکہ عوام پریشانی سے بچ سکیں۔

ایک طرف دو صوبوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹروں نے ہڑتال کر رکھی ہے تو دوسری جانب ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، حکومت نے قیمتیں کم کرنے کا بار بار اعلان کیا،لیکن جو قیمتیں بڑھ چکی ہیں ادویات ابھی تک اسی قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔ دوا ساز اداروں نے یکایک بے تحاشہ قیمتیں بڑھا کر لوگوں پر بوجھ میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا تھا،اس پر بہت احتجاج ہوا اور وزیراعظم کو نوٹس لینا پڑا۔ سر سری تحقیق ہی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ قیمتیں بلا جواز بڑھا دی گئی ہیں، ادھر دوا ساز کمپنیوں نے اصرار کیا کہ یہ اضافہ کئی سال کے بعد کیا گیا کہ لاگت بہت بڑھ گئی، جو خام مال کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ بجلی، گیس کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے بھی بڑھی۔ مارکیٹ میں بحران پیدا ہوا اور مریضوں کے احتجاج کے بعد تسلیاں دی گئیں تاہم تاحال کسی بھی دوا کا اضافہ واپس نہیں لیا گیا اور عوام زیادہ قیمتوں پر ہی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں، وزیراعظم نے اپنے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کو یہ ذمہ داری سونپی،انہوں نے یہ اضافہ تسلیم کر کے واپس لانے کا اعلان کیا ہے،تاہم اب تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اشیاء(خواہ کسی قسم کی ہوں) کی قیمتیں بڑھ جائیں تو واپس نہیں ہوتیں یہاں تو889 ادویات کا سوال ہے ان میں جان بچانے والی اور بلڈ پریشر، شوگر جیسے اہم امراض کی ادویات بھی شامل ہیں۔ عوام کو اعلان نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ اگر معاون خصوصی یہ جان گئے ہیں کہ اضافہ غلط ہوا تو ان کو حکومت سے سخت کارروائی کی سفارش بھی کرنا چاہئے، عوام منتظر ہیں کہ کب ادویات سستی ہوں گی۔ مریض دوہرے عذاب میں ہیں ایک طرف ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں،دوسری طرف دوائیں مہنگی، جائیں تو جائیں کہاں؟

مزید :

رائے -اداریہ -