کم سنی کی شادی: امریکہ سے مدد لیتے ہیں

کم سنی کی شادی: امریکہ سے مدد لیتے ہیں
کم سنی کی شادی: امریکہ سے مدد لیتے ہیں

  

آج کل وفاقی علاقے میں شادی کی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کے متعلق ایک بل قومی اسمبلی میں زیرِبحث ہے۔ یہ بل ایک غیرمسلم رکن اسمبلی نے پیش کیا ہے۔ بل کے پیش ہوتے ہی ارکان اسمبلی حسبِ معمول دو حصوں میں بٹ گئے۔ وہ ارکان جو اسلام کا نام سنتے ہی کچھ ”بائی ویلیاں“ مارنا شروع ہو جاتے ہیں، قطع نظر جماعتی وابستگی کے وہ ایک طرف ہو گئے۔(بائی ویلیاں، بہکی بہکی باتوں کے کچھ مترادف، پوٹھواری مولوی مدن کبیدہ توہوگا) ادھر اسلام کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں نے اس بل کو حسبِ معمول مغرب اور امریکہ کی ساز ش قرار دیا۔ علمیت، مطالعے اور تفکر سے خالی اس توتکار کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کر دیا۔

میں نے قومی اسمبلی میں بپا اس ہنگامے کی تفصیلات کو بغور پڑھا۔ مجال ہے، مجھے کسی حلقے کی طرف سے کوئی کام کی بات پڑھنے کو ملی ہو۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ بل ہندوکا پیش کردہ ہے یا مسیحی کا۔ کیا کسی کو علم ہے کہ جنرل ضیاالحق کے نافذ کردہ نظام زکوٰۃ کا ابتدائی خاکہ کرنل ایس کے ٹریسلر نامی ایک مسیحی صاحبِ بصیرت نے تیار کیا تھا۔ کسی اخبار میں مدتوں قبل یہ بات پڑھی تھی۔

اس کی صحت کی جانچ پرکھ کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں تھا۔ میرے تجسس کا حجم ملاحظہ ہو، فاطمہ جناح یونیورسٹی میں ایک تقریب کی صدارت کرتے کرتے مجھے کرنل صاحب سامعین میں بیٹھے نظر آئے۔ مجلسی ادب آداب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میں فوراً ان کے پاس جا بیٹھا۔

دل میں خدشہ تھا کہ آپ کہیں اٹھ نہ جائیں، ان سے استفسار کیا۔انہوں نے کمال شفقت سے انکسار بھرے جواب میں تائید نہیں کی تو ان کا جواب تردید سے بھی خالی تھا۔ خلاصہ یہی تھا کہ نظام زکوٰۃ کے اس قانون کی تیاری میں ان کا معتدبہ حصہ ہے۔

اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس داعیے کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے:”جو کچھ فطرت کے مطابق ہے، اس سب کے مجموعے کو اسلام کہنے میں کوئی حرج نہیں۔“ اس کا نتیجہ یوں نکالا جائے کہ ”قانونِ فطرت کو اگر کسی نے قانون کی شکل میں ڈھال لیا ہو تو اس حد تک اسے اسلام کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ قانون اسلامی ہے۔“ یا یوں کہیے کہ ”یہ قانون اگرچہ کسی غیرمسلم نے بنایا ہے لیکن ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق۔“ الگ بات ہے کہ مقنن (Legislature) کو ہم تبھی مسلم قرار دیں گے جب وہ دیگر مقتضیاتِ اسلام پوری کر لے۔

1919ء میں امریکہ میں شراب کی تیاری، فروخت، استعمال، لین دین ممنوع قرار پایاتو کسی نے امریکہ کو اسلامی ریاست قرار نہیں دیا۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ 1919ء تا 1933ء امریکہ میں شراب پر یہ آئینی پابندی بڑی حد تک اسلامی تقاضوں کی عکاس ہے۔

ہمارے ارکان اسمبلی کا مخمصہ یہ ہے کہ جسے اسلام سے لگاؤ ہے، اسے اسلامی قانون کی بس معمولی سی شُد بد توہے، عالمی رجحانات کا اسے علم ہی نہیں۔ اور جسے اسلام سے کد ہے، وہ قانونِ فطرت کے معاملے میں بھی ارتداد کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے، بھلے یہ قانونِ فطرت امریکہ سے درآمدی ہی کیوں نہ ہو۔

اس بابت مغربی فکر کے اس یکتا امام امریکہ سے یہ دونوں عناصر اگر یہ قانون لے لیں تو پاکستان کے عوام کی عاقبت بلاتخصیص مذہب سنور جائے گی۔ اسلام سے لگاؤ رکھنے والی دینی جماعتوں کے لوگ مغرب کو بس اپنی ہی عینک سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اسلام کا نام سن کر سمندِمفتون (سمندِمفتون ذرا دیر کے لیے الہڑ پچھیا سمجھ لیں، اگرچہ ترجمہ وہ نہیں جو ہونا چاہیے۔

سچ پوچھیں تو میری اس مفرس ومعر ب اصطلاح کا صحیح ترجمہ وہی پوٹھواری میں ہے: ”ہڑیات داند“ اور اس کا ترجمہ ممکن ہی نہیں) کی طرح بدک جانے والے لوگ مغربی فکر کا کیا مطالعہ کریں گے۔ ان بے چاروں کو اپنی فکر کھائے جاتی رہتی ہے۔ وہ تو اسمبلی میں آنے سے قبل معمولی سی تیاری بھی نہیں کرتے۔ اب جب ان دونوں نیم مشرقین اور نیم مغربین میں بُعد المشرقین ہو تو مکالمہ کیسے ہو:

ملاقاتوں کا کہتے ہو؟ ملاقاتیں کہاں ہوویں؟

نہ ہم جاویں ہیں مسجد میں، نہ آپ آویں ہیں میخانے

یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل پوری پاکستانی قوم کے ذمہ ہے۔ چنانچہ اگر میرے ذرا اسلامی قسم کے قارئین آپے سے باہر نہ ہوں، برافروختہ نہ ہوں، تو میں قانونِ فطرت کے مرتدین کے لیے تھوڑی سی بصیرت امریکہ سے لے آؤں۔

انشاء اللہ دونوں کو افاقہ ہو گا۔ سب کو علم ہے کہ آج کا امریکہ پچاس ریاستوں کی ایک یونین ہے۔ اس یونین کی ہر ریاست کو اپناعائلی قانون وضع کرنے کا اختیار ہے۔ ان ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر کیا ہے؟ حیرت انگیز طور پرتمام امریکی ریاستوں میں سے کسی ایک میں بھی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال توکیا،سولہ ریاستوں میں شادی کے لیے کم از کم کوئی عمرہے ہی نہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان امریکی ریاستوں کا عائلی قانون ایک دوسرے سے معمولی فرق کے ساتھ عین قانونِ فطرت ہے۔

چنانچہ اگر میں یہ کہہ گزروں کہ چونکہ ان ریاستوں کا قانون متعلق بہ صغرسنی کی شادی قانونِ فطرت کے مطابق ہے اور اسلام ہی دینِ فطرت ہے تو پھر وہ قانون اسلامی ہوا یا نہیں؟ لیکن فی الحال میں ایسا نہیں کہتا۔ پہلے آپ یہ تحریر مکمل پڑھ لیں پھر ممکن ہے ہم دونوں کومسجد و میخانے کی جداگانہ راہوں کا کوئی مقامِ اتصال مل ہی جائے۔

لیکن تحریر پوری اور بغور پڑھیں۔ میخانے والے جگر تھام کر پڑھیں اور مسجد والے اسے اللہ کا انعام سمجھیں کہ اس اسلامی جمہوریے کو صنم خانہ بنانے کا خواہشمندامریکی ذہن تائید ایز دی سے شاید اس کا پاسبان بن جائے۔

الاسکااور نارتھ کیرولینا نامی دو امریکی ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر 14 سال ہے۔ میری لینڈ، کنساس، انڈیانا اور بحرالکاہل میں واقع جزائر ہوائی نامی چار ریاستوں میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ انیس امریکی ریاستیں وہ ہیں جن میں شادی کی کم سے کم عمر سولہ سال ہے۔ وہ ریاستیں کنِکٹی کٹ، جارجیا، الباما، ایریزونا، الینو ئس، آئیوا، نارتھ ڈکوٹا، منی سوٹا، مِسوری، ہیمپشائر، ساؤتھ ڈکوٹا، ٹیکساس، اوٹاہ، ویرمونٹ، ورجینیا، وسکونسن، واشنگٹن ڈی سی، ساؤتھ کیرولینا اور مونٹینا ہیں۔ اسی طرح فلوریڈا، ارکنساس، نبراسکا، کنیٹکی، اوہائیو، نیویارک اور اوریگان نامی سات ریاستوں میں یہ عمر سترہ سال ہے۔ سولہ ریاستیں وہ ہیں جن میں شادی کے لیے کم از کم کوئی عمر نہیں ہے۔

ان کے نام یہ ہیں:وائیومنک، ویسٹ ورجینیا، واشنگٹن (ڈی سی نہیں) ساؤتھ کیرولینا (قانونی تضادات کے بعد ا سے سولہ سال والی عمر میں بھی شمار کیا جاتا ہے) پنسلوینیا، اوکلاہاما، نیو میکسیکو، مسی سپی، نیویڈا، مشی گن، میسا چوسٹس، مینی، لوزیانا، کولاریڈو، اِڈاہو اور کیلی فورنیا۔

قانونی عمر (اٹھارہ، انیس یا اکیس) سے کم عمر کی جو تفصیلات میں نے ابھی بیان کی ہیں، ان میں کم سنی کی یہ شادی چند شرائط سے منسلک ہے۔ ان درج ذیل شرائط میں سے بعض ریاستیں ایک شرط اور بعض زیادہ شرائط پوری ہونے پر قانونی عمر سے کم (اٹھارہ، انیس یا اکیس) کسی بھی عمر میں شادی کی اجازت دیتی ہیں: کم سن لڑکی نے بچے کو جنم دیا ہو، کم سن بالکل آزاد (Emancipated) ہو جیسے ماں باپ مرگئے ہوں یا معلوم نہ ہوں، لڑکی حاملہ ہو گئی ہو، والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت ہو، اور عدالتی اطمینان ہو کہ کم سن کی یہ شادی ممکن ہے۔

ان شرائط خمسہ میں سے بعض ریاستوں میں عدالتی اطمینان پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔اب آئیے اس امریکی قانون کی تفصیلات میں جاتے ہیں۔ اس قانون کے د و حصے ہیں۔ ابھی تک میں نے پہلا حصہ بیان کیا ہے۔ قانون کا دوسرا حصہ بلوغ کی قانونی عمر کی تکمیل پر حرکت میں آتا ہے۔ پورے امریکہ میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال ہے ماسوائے نبراسکا اور مسی سپی کے، جہاں ان ریاستوں میں قانونی عمر بالترتیب انیس اور اکیس سال ہے۔ اب صورت یہ بنی کہ قانونی عمر (اٹھارہ، انیس یا اکیس) کی تکمیل پر مردوزن علی الاطلاق خود مختار ہیں کہ اپنی پسند کی شادی اپنے سینگ سمانے کے مطابق کریں کوئی شرط نہیں ہے۔

کیا آپ نے غور کیا کہ ان تمام امریکی ریاستوں میں سے کسی ایک میں بھی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال نہیں ہے۔دو امریکی ریاستوں میں کم سے کم مقررہ عمر اگر 14 سال ہے تو سولہ ریاستوں میں شادی کی کم سے کم عمر سرے سے ہے ہی نہیں۔ قارئین کرام! (اسلامی اور غیراسلامی دونوں) یہ ہے وہ دینِ فطرت جس پر پورا امریکہ قائم ہے۔

ان حالات میں اگر کوئی ہم پر ”یہ“ امریکی فکر مسلط کرنا چاہے تو ہم بسر و چشم دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھیں گے کہ آؤ کر گزرو یہ امریکی قانون ہمارے یہاں بھی نافذ۔ مسٹر وملا اور راہروانِ مسجد و میخانہ دونوں کو شاید اس امریکی مثال سے ہدایت مل جائے۔

قارئین کرام! دنیا کا کوئی قانون دیکھ لیں،میری مراد ترقی یافتہ دنیا ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ اس میں بال کی کھال اتاری گئی ہوتی ہے۔ انسانی فہم میں آنے وا لا بعید ترین امکان بھی قانونی دائرے میں لانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شادی بھی انہی امور میں سے ایک ہے جس کے متعدد پہلو ہیں۔ ہر ایک پر بڑی سوچ بچار کے بعد اگر جامعیت سے بھرپور قانون بنایا جائے تو وہی قانون، قانونِ فطرت کہلاتا ہے۔ ادھر اپنے ملک میں کم سنی کی شادی کے لیے یہ زیرنظرقانون دو وجوہ سے مسلط کیا جا رہا ہے۔

ایک تو خواتین کے حقوق والیوں نے بغیر جانے اور پڑھے یہ فرض کر لیا ہے کہ چونکہ فلاں جگہ ایک اَسّی سالہ جاگیردار نے تیرہ سالہ لڑکی سے شادی کر لی ہے، لہٰذا غالباً سارے ملک میں ایسے ہی ہوتا ہو گا اور یہ کہ ہر کم سنی والی شادی بوڑھے کے ساتھ ہی ہوتی ہے، اس لیے فوراً اس پر نئے سرے سے قانون سازی کی جائے۔ حالانکہ یہ لوگ شہروں سے نکل کر جی ٹی روڈ، موٹروے سے چار چھ کلومیٹر دور کی دنیا دیکھیں، وہاں چند سال گز اریں تو انہیں اندازہ ہو کہ غیرملکی سرمایے کے کہے ہوئے موضوعات پر سیمیناروں کی کارروائی یہاں لمحے بھر میں نقش برآب ہو جاتی ہے۔

دوسری وجہ اس کی وہی ہے جس نے ایک ہندو رکن اسمبلی کویہ بل پیش کرنے کا تحرک دیا کہ کم سنی میں شادی کی اجازت دی جائے تو ہندو لڑکیاں آسودہ حال مسلمان لڑکوں سے شادی کر کے مذہب تبدیل کر لیں گی۔

اللہ نے موقع دیا تو اپنے ہندوبھائیوں کے اطمینان کے لیے آئندہ کبھی تحریر کروں گا کہ اسی دینِ فطرت، اسی اسلام اور اسی امریکی قانون کے اندرہندوبھائیوں کی ضرورت کا اسلامی یا غیراسلامی لیکن قانونِ فطرت پر مبنی قانون موجود ہے۔

دونوں طبقات کے افراد محض ایک دوسرے کے عناد پر مبنی بیان بازی کر کے نہ ملک کی کوئی خدمت کر رہے ہیں اور نہ معاشرے اور نہ اپنے اپنے مذہب کی:

ملاقاتوں کا کہتے ہو؟ ملاقاتیں کہاں ہوویں؟

نہ ہم جاویں ہیں مسجد میں، نہ آپ آویں ہیں میخانے

مزید :

رائے -کالم -