تبدیلی کے خواب مہنگائی کے عذاب میں بدل گئے

تبدیلی کے خواب مہنگائی کے عذاب میں بدل گئے
تبدیلی کے خواب مہنگائی کے عذاب میں بدل گئے

  

سونے پہ سہاگہ والا محاورہ تو استعمال نہیں ہو سکتا،البتہ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات کی جا سکتی ہے،بلکہ یہ کہنا چاہئے ”یک نہ شد دو شد“ والا معاملہ ہے۔ایک ماہِ رمضان میں مہنگائی بڑھانے والے چھریاں تیز کر کے میدان میں آ گئے ہیں اور دوسری طرف حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔دو ماہ کے عرصے میں پٹرول کی قیمت تقریباً 15روپے لٹر بڑھائی گئی ہے، ہر طرف بڑھنے اور بڑھنے کی خبریں ہی آ رہی ہیں، ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں، گیس کی قیمت بڑھا دی گئی، بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کر دیا گیا اور اب پٹرول و ڈیزل بھی مہنگے ہو گئے۔

دوسری طرف کیا کسی کی آمدنی بڑھی،ملازمت پیشہ طبقے کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا، مزدور کی کم از کم اُجرت بڑھائی گئی؟ جواب ندارد۔ ایک آنا نہیں بڑھایا گیا، اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا حکومت کے معاشی منیجروں اور خود وزیراعظم عمران خان کو یہ خوش فہمی ہے کہ ابھی عوام میں بڑی سکت ہے،اُن کی آمدنی میں بڑی لچک ہے، اِس لئے وہ ایسی مزید کئی صعوبتیں برداشت کر لیں گے۔

اِن اضافوں سے اُن پر جو بوجھ پڑے گا، اُسے بآسانی اُٹھا لیں گے، مجھے تو خود مہنگائی سے خوف آنے لگا ہے، حالانکہ میری ماہانہ آمدنی کافی اچھی ہے،وہ لوگ جو مہینے میں 20 یا 30ہزار روپے کماتے ہیں، وہ کیسے گزارا کر رہے ہیں، یا اُن میں ایسی کون سی لچک ہے جو انہیں بچائے ہوئے ہے۔

معاشی منیجروں کو دو باتیں اپنے ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ پہلی یہ کہ سبسڈی کے بغیر یہاں کے لوگ زندہ نہیں رہ سکتے اور دوسری یہ مہنگائی کو براہِ راست ہر طبقے پر نہیں اتارا جا سکتا۔جب پٹرول، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتیں بیک جنبش ِ قلم بڑھائی جاتی ہیں تو وہ لوگ خواہ مخواہ پس جاتے ہیں، جو پہلے ہی روٹی دال مشکل سے پوری کر رہے ہوتے ہیں، اُن پر ایک عذاب حکومت نازل کرتی ہے تو دوسرا اس ملک کا سرمایہ دار مہنگائی مافیا اتارنا ہے۔

اب پٹرول کی قیمت بڑھی ہے تو نہ صرف غریب کو اپنی موٹر سائیکل چلانے کے لئے اضافی پیسے دینے پڑیں گے، بلکہ اس کی وجہ سے ذخیرہ اندوز،بڑے بڑے تاجر، سرمایہ دار جو قیمتیں بڑھائیں گے، ان کا بوجھ بھی عوام پر پڑے گا۔ شکر ہے ابھی حکومت میں کوئی ایسا وزیر نہیں،جو یہ کہے کہ پٹرویم کی مصنوعات مہنگی ہو گئی ہیں توکیا ہوا، لوگ بائیسکل پر یا پیدل آنے جانے کی عادت ڈالیں۔

چونکہ وزراء کو پٹرول اور گاڑی سرکار کی طرف سے مل جاتی ہے، اِس لئے انہیں ان چیزوں کی پروا ہی نہیں ہوتی۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی شاید اسی ترنگ میں یہ کہہ گئے کہ عوام کو 200 روپے لٹر پٹرول ملا تو وہ تب بھی ہنسی خوشی لیں گے، کیونکہ وہ صرف احتساب چاہتے ہیں تاکہ انہیں دِلی تسکین مل سکے۔ ایسی باتیں بھی شاید کوئی بھرے ہوئے پیٹ والا ہی کر سکتا ہے، وگرنہ جن کے پیٹ خالی ہوں تو اُنہیں پورے چاند میں بھی روٹی کا عکس نظر آتا ہے۔

ایسی آئیڈیل باتیں وزراء ایک ایسے ملک میں کرتے ہیں،جہاں مہنگائی باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت پیدا کی جاتی ہے اور لوٹ مار کے لئے سارا سال ماہِ رمضان کا انتظار کیا جاتا ہے۔وہ ماہِ مبارک جس کی حرمت پوری دُنیا کے تاجروں، صنعت کاروں اور عوام کو معلوم ہے، سوائے ہمارے تاجروں، سرمایہ داروں اور دیگر طبقوں کے افراد کو۔

ہماری گورننس نجانے کس چڑیا کا نام ہے اور کہاں سے آئی ہے۔اُسے ایسی باتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں،جو براہِ راست عوام پر اثر انداز ہوتی ہوں۔پورے مہنگائی مافیا کو بے لگام چھوڑ کر حکومت نے بڑے شہروں میں چند رمضان بازار لگا دیئے ہیں تاکہ کچھ اشک شوئی کا سامان ہو جائے۔

اس بار تو شرائط بھی لاگو کر دی گئی ہیں۔مثلاً لاہور میں جو رمضان بازار لگائے گئے ہیں،اُن میں یہ شرط رکھ دی گئی ہے کہ کوئی سبزی یا فروٹ یا دال چاول، نیز گوشت دو کلو سے زیادہ نہیں خریدے جا سکتے۔ ویسے تو یہ اچھی بات نظر آتی ہے،مگر قیمتوں کا جو فرق رکھا گیا ہے،وہ اتنا معمولی ہے کہ اگر کوئی روزانہ گھر سے خریداری کے لئے آتا ہے تو اُس کے کرائے یا پٹرول کی مد میں جتنے اخراجات ہوں گے، وہ اُس رعایت پر بھاری ثابت ہوں گے،دو کلو وزن میں کیا چڑھتا ہے۔ ایک یا دو دن بعد پھر روزے کی حالت میں چکر لگانا پڑا تو ایسے رمضان بازار زحمت بن جاتے ہیں،مگر اصل ایشو یہ نہیں، سوال تو یہ ہے کہ اگر رمضان بازاروں میں چیزیں سستی بیچنے کے باوجود منافع کمایا جا سکتا ہے تو عام مارکیٹ کو لوٹ مار کے لئے کھلا کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟وہاں قیمتوں کا تعین کر کے اُن کی نگرانی کیوں نہیں کی جاتی؟قیمتیں بڑھانے میں متحرک حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے متحرک کیوں نہیں ہوتی؟ملک بھر کی منڈیوں کی نگرانی کرنا کیا مشکل کام ہے، وہاں جو کچھ ہو رہا ہے۔وہ سب کے علم میں ہے۔

ہر منڈی میں آڑھتیوں کا ایک مافیا ہے، جو دستیاب ذخیرے پر بھی مصنوعی مہنگائی کا آسیب طاری کر دیتا ہے۔ آخر یہ مافیا حکومت کے قابو میں کیوں نہیں آتا؟یہ کون سے مسلمان ہیں اور کیا اسلام ہے کہ جب پوری دُنیا میں بڑے بڑے سپر سٹور ماہِ رمضان کی سستی سیل لگا دیتے ہیں، یہاں چھری چاقو تیز کر لئے جاتے ہیں۔حکومت کو معلوم بھی ہے کہ اِس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے،مگر اس کے باوجود مصنوعی گرانی پیدا کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن پلان تیار نہیں کیا جاتا۔ عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

حکومت کے علم میں یہ بات رہنی چاہئے کہ عوام کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اب اُن میں مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں،اوپر سے گرمی کا موسم ہے،جب پنکھوں کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ غریب کا صرف پنکھا بھی چلے گا تو بڑھی ہوئی قیمت کے ساتھ موصول ہونے والا بل اُس کے سارے کس بل نکال دے گا۔

روزہ داروں کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں گدھوں کی طرح نوچنے کا مزاج رکھنے والے مہنگائی مافیا کے ہوتے ہوئے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ کوئی رعایت کرے گا۔جہاں حکومت کا خوف بھی نہ ہو اور خوفِ خدا بھی نہ رہے تو وہی لوٹ مار مچتی ہے جو آج مچی ہوئی ہے۔

حکومت خود اپنے اقدامات سے اس طبقے کو جواز فراہم کرتی ہے۔عین ماہِ رمضان کے آغاز پر پٹرول کی قیمت بڑھا کر اُس کاروباری طبقے کو گویا ہلا شیری دے دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے پورے رمضان میں عوام کو نوچے،اُن کی کھال تک اُتار لے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں لگتا ہے، اس معاملے پر لسی پی کر سوئی ہوئی ہیں۔البتہ دو روز پہلے خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا، جس میں وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ، مختلف محکموں کے وزراء و سیکرٹریز شریک ہوئے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ماہِ رمضان میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے ذخیرہ اندوزں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ چلیں نام کی حد تک کسی نے کہا تو کہ مصنوعی مہنگائی پھیلائی جا رہی ہے۔ یہاں پنجاب میں تو سب سوئے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موضوع پر نہ تو کوئی اجلاس بلایا ہے اور نہ ضلعی افسروں کو کوئی ٹاسک دیا ہے کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں، پنجاب حالانکہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ستر فیصد آبادی کو اگر اچھی حکمرانی سے کوئی ریلیف مل سکتا ہے تو یہ حکومت کی بڑی کامیابی ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ایک ایسی اپوزیشن ملی ہے، جو فی الوقت اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہے، جو عوام کی نظر میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور عوام اُس کے لئے سڑکوں پر آنے کو بھی تیار نہیں،حالانکہ اپوزیشن اگر پُراعتماد ہوتی تو صرف مہنگائی کے ایشو پر ہی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان اس معاملے کو بھول جائیں اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کی کوئی تدبیر بھی نہ کریں۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مایوسی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو شدید ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -