جدید مغرب، قدیم چین میں ڈھلنے والا ہے!

جدید مغرب، قدیم چین میں ڈھلنے والا ہے!
جدید مغرب، قدیم چین میں ڈھلنے والا ہے!

  

از روئے پاکستانی ضابطہ ء کالم نگاری راقم السطور کو جن موضوعات پر آج لکھنا چاہیے تھا ان میں سے ایک یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کی درخواست برائے تسلسلِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔ ان کو اب کل جیل جانا پڑے گا۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم کے لئے اور تو سب کچھ ہو گا کہ یہاں سے جاتی عمرہ بھی نزدیک ہے، ان کے عزیز و اقارب جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی لاہور میں ہیں جو ان کو روزمرہ کی ان بنیادی ضرورتوں کا محتاج نہیں ہونے دیں گے جو قیدیوں کی اکثریت کے نصیب میں نہیں، ان کی سیاسی اساس بھی یہیں لاہور میں ہے اور ان پر صدقے واری جانے والے میڈیا کا ایک گرانقدر گروہ بھی اسی داتا کی نگری میں بستا ہے۔

لیکن یہ سہولیات (اگر ان کو سہولیات کا نام دیا جا سکے) تین بار کے سابق وزیراعظم کے لئے کچھ معنی نہیں رکھتیں۔ پسِ دیوارِ زنداں ان کو جو محرومیاں ستائیں گی ان میں اقتدار سے محرومی تو ہو گی ہی لیکن سب سے بڑی اور کربناک محرومی ’قیدِ تنہائی‘ ہو گی جو ہفتہ میں 6دن ان کو لاحق رہے گی۔ ساتویں دن رونق میلہ ضرور لگے گا لیکن وہ 6دنوں کی خلوت گزینی کا علاج تو نہیں کر سکے گا۔ اس لئے وہ اس صورتِ حال سے باہر نکلنے کی جستجو ضرور کریں گے۔

اس قید و بند میں ایک اور دریچہ جو اب کھلا دکھائی دے رہا ہے وہ ہائی کورٹ میں ضمانت پر رہائی کی درخواست ہو گی۔ لیکن سپریم کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جو ریمارکس دیئے ہیں کہ انہوں نے ضمانت پر رہائی کے 6ہفتے علاج کی بجائے بیماری کے ٹیسٹوں میں ضائع کر دیئے اور علاج کا کوئی ڈول نہ ڈالا تو یہ استدلال ہائی کورٹ کے کسی بھی ایسے بنچ کا سدراہ بن سکتا ہے جو کسی فیاض طبعی کا مظاہرہ کرنے کا سوچے گا۔

سابق وزیراعظم کے لئے دوسرا دریچہ جو ہم سب کو کھلا نظر آ رہا ہے نیب کے ساتھ پلی بارگین ہے۔ اس کی طرف عمران خان نے ایک سے زیادہ بار اشارہ کیا ہے کہ پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کریں اور باہر چلے جائیں۔

لیکن اس آپشن میں تین پرابلم ہوں گی…… پہلی سب سے بڑی پرابلم Face Savingکی ہو گی۔ اگر وہ نیب کے ساتھ کوئی پلی بار گین کرتے ہیں تو گویا یہ تسلیم کر لیں گے کہ انہوں نے واقعی منی لانڈرنگ کی تھی، واقعی کرپشن کا ارتکاب کیا تھا اور واقعی پاکستانیوں کی دولت باہر بھیج کر پاکستانی عوام کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔ یہ تینوں باتیں انتہائی سخت ہوں گی اور ان کو پھلانگ کر پلی بارگین کے میدان میں جست لگانا نوازشریف صاحب کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہو گا۔

دوسرے،موجودہ حکومت یہ شرط بھی رکھ سکتی ہے کہ وہ باقاعدہ میڈیا پر آئیں اور پلی بار گین کا اعلان کریں۔ لیکن سابق وزیراعظم کی افتادِ طبع ایسی نہیں کہ وہ اس رسوا کن معاہدے (Plea Bargain) یا کسی حکومتی شرط کو تسلیم کر لیں گے۔

بالفرض محال وہ اگر ایسا کرتے بھی تو نون لیگ بطور ایک سیاسی پارٹی ختم ہو جائے گی۔ اس میں شامل کئی نامور شخصیتیں ایسی ہیں کہ وہ پلی بار گین کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے دیں گی۔

ایسے میں نون لیگ کی ان باقیات کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا اس کے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔لیکن تاریخِ عالم میں بہت سی ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں کوئی سیاسی پارٹی یا سیاسی خانوادہ تقریباً مٹتا ہوا معلوم ہوتا تھا لیکن بعد میں یہ ہوا کہ وہ اپنی سابقہ آب و تاب سے زیادہ روشن ہو کر چمکا۔

تیسرے بڑے لوگوں کی انائیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی قید و بند کے ایام میں اور پھر تختہ ء دار کی طرف سدھارتے ہوئے جس استقامت کا مظاہرہ کیا، اس کو ان کی آل اولاد نے خوب خوب کیش کیا اور آج تک کر رہی ہے۔ نوازشریف صاحب بھی ایک بڑی شخصیت ہیں اور اس حوالے سے ایک بڑی اَنا کے حامل ہیں اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نیب/ حکومت کی کوئی ایسی شرائط تسلیم کر لیں گے جو سطور بالا میں بیان کی گئی ہیں۔ ہاں ایک بڑی وجہ جو ان کی استقامت میں دراڑ ڈال سکتی ہے وہ ان کی گرتی ہوئی (اور مسلسل گرتی ہوئی) صحت ہے۔

موت کا تو خیر ایک دن معین ہے لیکن بیماری کا دن (یا عرصہ) تو معین نہیں، یہ تو انسان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان کی بیماری ان کی قیدِ تنہائی کے کرب میں اتنا زیادہ اضافہ کر دے کہ وہ نیب کی پلی بارگین کی سوچ کی طرف جا نکلیں۔

از روئے پاکستانی ضابطہ ء کالم نگاری دوسرا موضوع بھی نہایت اہم ہے۔ یعنی دو روز پہلے حکومت نے گورنر سٹیٹ بینک اور ایف بی آر چیف کو فارغ کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گورنر طارق باجوہ نے تو فضا میں پھیلی بارود کی بو سونگھ کر خود ہی کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایف بی آر کے چیف جہاں زیب خان کو حکومت نے تبدیل کر دیا۔ جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو ان دونوں مناصب پر نئی تعیناتیاں ہو چکی ہوں گی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئے وزیرخزانہ نے اپنی نئی ٹیم لانے پر اصرار کیا تھا۔ شنید ہے کہ کچھ ان کی خواہش کے مطابق اور کچھ آئی ایم ایف (IMF) کی ہدائت پر یہ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔

از روئے پاکستانی ضابطہ ء کالم نگاری ایک تیسرا موضوع بھی اگرچہ عوامی ہے لیکن وہ ہماری از بس توجہ کا طالب ہے۔ یہ تیسرا موضوع ایک دلدوز خبر ہے جو سرگودھا سے آئی ہے کہ وہاں ایک ماں نے اپنی تین کمسن بیٹیوں کو قتل کر کے خود بھی خود کشی کی کوشش کی اور اس کی حالت تاحال تشویشناک ہے۔

قاتلہ کا نام صباحت بی بی ہے، سرگودھا کے مضافات میں رہتی تھی، عمر50سال ہے، خاوند کا نام ناصر مسیح ہے جو اپنی بیوی پر طعنہ زنی کرتا رہتا تھا کہ وہ بار بار لڑکیوں کو کیوں پیدا کر رہی ہے اور کوئی لڑکا اب تک کیوں پیدا نہیں کر سکی۔اس جرم کے طعنے سنتے سنتے آخر دو روز قبل صباحت نے اپنی تین بچیوں (5 سالہ مقدس، 3سالہ مسکان اور9ماہ کی ننھی) کے گلے پر چھری پھیر کر ان کو قتل کر دیا…… یہ قتل کا کوئی ایسا انہونا کیس نہیں۔ برصغیر کے معاشروں میں ایسے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ میڈیا کو اس گھناؤنے تصور کو ادھیڑنے کا بیڑا اٹھانا چاہئے جو اس21ویں صدی میں بھی اس تا ریک اور بے رحم ماضی کو فراموش نہیں کر سکا!

قارئین کرام! اوپر کی سطور میں جو کچھ لکھا وہ ایسے موضوعات ہیں جن پر ہمارا بیشتر پرنٹ میڈیا کالم نگاری کا عادی ہے۔ مجھے ان موضوعات کی اہمیت سے انکار نہیں،لیکن ان تینوں موضوعات کو خبروں کے روپ میں اتنی کوریج دے دی گئی ہے کہ اس کے بعد ان پر کالم لکھنے کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ہاں البتہ وہ خبریں جو دور رس نتائج کی پیام بَر اور سٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ان سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے اور ہم کالم نگاروں کو ان کی طرف بھی دستِ توجہ دراز کرنا چاہیے۔

میرے نزدیک آج کی یہ خبر بہت اہم ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے ایک بار پھر اس الزام کو دہرایا ہے کہ چین، پاکستانی سرزمین پر اپنے فوجی اڈے (Bases) قائم کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں بیجنگ میں جو تین روزہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس ہوئی تھی(25 تا27اپریل 2017ء) اس کے اثرات کو کاؤنٹر کرنے کے لئے واشنگٹن آئندہ بھی اس قسم کے شوشے چھوڑتا رہے گا۔ جو لوگ پاک چین دوستی کی دوامی پختہ کاری کے در پے رہتے ہیں ان کے لئے امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے اس طرح کی خبروں کی تشہیر و اشاعت اگرچہ کوئی نئی بات نہیں،لیکن بعض پاکستانیوں کے اذہان ایسی خبروں سے مغلوب ہو سکتے ہیں، اور اسی لئے ان کی بیخ کنی ضروری ہے…… امریکی محکمہ ئ دفاع کا کہنا ہے کہ چونکہ چین اب ایک عالمی اقتصادی قوت بن چکا ہے اور بعض امیر اور مالی اعتبار سے مستحکم ممالک کے علی الرغم اس اقتصادی خوشحالی کو دفاعی خود کفالت کی طرف لے کے جا رہا ہے اس لئے دُنیا بھر کے ”امن“ کو اس سے خطرہ ہے۔

CIA کی ایک رپورٹ کے مطابق چین اب دُنیا کے مختلف براعظموں کو نہ صرف بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے ایک لڑی میں پرو رہا ہے، بلکہ ان خطوں میں اپنے عسکری مستقر بھی تعمیر کر رہا ہے۔

اس نے ایک ایسا ہی مستقر صومالیہ کے ہمسائے میں جی بوٹی(Djibuti) میں قائم کیا ہے اور اب وہ پاکستان، افغانستان، تاجکستان، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں بھی ایسے ہی اڈے قائم کر رہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین ان ممالک میں اپنی بری، بحری اور فضائی قوت کو تقویت دینے اور اسے پھیلانے کی غرض سے ان دفاعی اڈوں کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کر رہا ہے جو چین کے استعماری عزائم کا سراغ دے رہا ہے۔

یہ خبر پڑھ کر مجھے اہل مغرب کی صد ہا برسوں پر پھیلی وہ استعماریت یاد آ گئی جو انہوں نے دُنیا کے پانچوں براعظموں میں قائم کی تھی۔ ذرا تاریخ اُٹھا کر دیکھیں، امریکی وزارتِ دفاع آج ان ایام کو یاد کر رہی ہے اور کانپ رہی ہے کہ اگر چین نے بھی وہی طریقے اختیار کئے جو ان لوگوں نے کئے تھے تو آنے والا دور چین کا ہو گا اور یہ مغربی ممالک شائد چین کا ماضی بن جائیں گے۔

4]مئی بوقت12بجے دوپہر[

مزید :

رائے -کالم -