گندھا راہند کو بورڈ پشاور اور انجمن ترقی کھو ار پشاور کے باہمی اشتراک سے خصوصی تقریب 

گندھا راہند کو بورڈ پشاور اور انجمن ترقی کھو ار پشاور کے باہمی اشتراک سے ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)گندھاراہندکو بورڈ پشاور اور انجمن ترقی کھوارپشاور کے باہمی اشتراک سے چترال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب اور محقق شہزادہ تنویر الملک کی کتاب ”فنونِ لطیفہ اور چترال“ کی تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب گزشتہ روز گندھارا ہندکو اکیڈمی کے احمد علی سائیں آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس کی صدارت سابق چیئرمین شعبۂ جغرافیہ پشاور یونیورسٹی پروفیسر اسرار الدین نے کی جبکہ مہمان خصوصی گندھارا ہندکو بورڈکے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین تھے۔تقریب میں گندھارا ہندکو بورڈ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین، انجمن ترقی کھوار کے سرپرست اعلیٰ قاضی عنایت جلیل، انجمن ترقی کھوار کے صدر مہربان الٰہی حنفی سمیت چترال کی ادبی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجمن ترقی کھوارپشاور کے صدر مہربان الٰہی حنفی نے کہا کہ انجمن ترقی کھوار اپنے اسلاف کی خدمات کو ہر موقع پر یاد کرتا ہے۔ چترال کی وادیاں حسن و جمال رکھتی ہیں اورشہزادہ تنویرالملک تنویر نے مذکورہ کتاب میں چترال کے حسن کوخوبصورتی سے کتابی شکل میں ڈھالا ہے۔کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی چترال کی مٹی میں رچی بسی ہوئی ہے۔گندھارا ہندکو بورڈ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین نے کہا کہ ”فنونِ لطیفہ اور چترال“ کی کتاب آئندہ آنیوالی نسلوں کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے کہا کہ مذکورہ کتاب میں مصنف نے تحقیق کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں۔ ”فنون لطیفہ“ ایک وسیع موضوع ہے جس میں دریا کو کوزے میں بند کیاگیا ہے،کتاب پر مزید کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انجمن ترقی کھوار کے زیر اہتمام چترال میں کانفرنس کرائی جائے اس کانفرنس میں گندھارا ہندکو بورڈ بھی آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریگا۔ کتاب کے مصنف شہزادہ تنویر الملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں گندھارا ہندکو بورڈ اور اکیڈمی کا انتہائی ممنون ہوں کہ اُنہوں نے مجھے عزت بخشی۔ زبانوں کی خدمت کے حوالے سے گندھارا ہندکو بورڈ اور اکیڈمی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اُمید ہے آئندہ بھی اس قسم کے پروگرام منعقد ہوتے رہیں گے۔سابق چیئرمین شعبۂ جغرافیہ پشاور یونیورسٹی پروفیسر اسرار الدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ گندھارا ہندکو بورڈ پاکستان کی تمام زبانوں کی ترویج و ترقی کیلئے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔”کھوار نامہ“رسالہ بھی گندھارا ہندکو بورڈ کے تحت شائع ہو رہا ہے جو کہ ایک بہترین کاوش ہے۔  اُنہوں نے مذکورہ کتاب کے حوالے سے کہا کہ کتاب 248 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ہر موضوع، اس کی تاریخ اور پس منظر کوانتہائی خوبصورتی سے بیان کیاگیا ہے اور موسیقی سے متعلق اہم شخصیات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔کتاب میں مصنف نے 250 فنکاروں کا تعارف کر کے اُنہیں زندہ و جاوید کر دیا ہے۔ فن کے حوالے سے دیگر شعبوں پر بھی کام کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں چترال کے طلباء ریسرچ کر سکتے ہیں۔قاضی عنایت جلیل نے کہا کہ کتاب میں مختلف پہلوؤں کو کمال فن سے سمویہ گیا ہے۔دیگرشرکاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گندھارا ہندکو اکیڈمی واحد اکیڈمی ہے جہاں نہ صرف ہندکو بلکہ پاکستان کی تمام زبانوں کے لئے بھی کام ہو رہا ہے۔انہوں نے گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین کی کاوشوں کو سراہا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -