ہنگری مسترد شدہ مہاجرین کو پانچ دن بھوکارکھتا ہے،اقوام متحدہ کا انکشاف

ہنگری مسترد شدہ مہاجرین کو پانچ دن بھوکارکھتا ہے،اقوام متحدہ کا انکشاف

  

نیویارک (آئی این پی)  اقوام متحدہ نے پناہ کی درخواست مسترد ہونے والے مہاجرین  سے  متعلق انکشاف کیا ہے کہ ہنگری درخواست مسترد ہونے والے مہاجرین کو کئی کئی روز بھوکا رکھتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بہتر زندگی کے حصول کی خاطر یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یورپی ممالک جانے کیلیے غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں جو جان و مال دونوں کیلیے خطرناک ہے اور اگر پناہ کی درخواست مسترد ہوجائے تو دیار غیر میں کس قدر مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یورپی ملک ہنگری میں ان مہاجرین کو پانچ دن تک بھوکا رکھا جاتا ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ میں ادارہ برائے انسانی حقوق کی ایک ترجمان راوینا شمداسنی نے کہا کہ ہنگری کی حکومت دانستہ طور پر ان پناہ گزینوں کو خوراک فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ہنگری حکام کی جانب سے اگست 2018 کے بعد سے ایسے اکیس مہاجرین کو خوراک فراہم کرنے سے انکار کیا گیا، جو ملک سے بے دخلی کا انتظار کر رہے تھے۔اقوام کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے ایک عارضی فیصلے کے بعد ہنگری حکام نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس پریکٹس کو ختم کر دیں گے۔راوینا شمداسنی نے کہا کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لیگل فریم فرک میں کوئی واضح تبدیلی نہیں لائی گئی۔رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ مشق ابھی تک جاری ہے۔

مزید :

عالمی منظر -