بیلٹ اینڈ روڈنے پانچ سال میں ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کئے

بیلٹ اینڈ روڈنے پانچ سال میں ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کئے

  

بیجنگ(آئی این پی/شِنہوا)بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے نے پانچ سال کے دوران تعمیر و ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اور یہ ایک ایسے منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے جسے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ 2013 میں پیش کیا جسے اب5سال ہو چکے ہیں۔چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک اہم حصہ ہیں جس کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کے منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں جس سے پاکستان کے عوام کے طرز زندگی میں نمایاں تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔عالمی مبصرینکے خیال میں دی بیلٹ اینڈ روڈ ایسا منصوبہ ہے جس سے لوگوں کو یہ یقین ہو سکتا ہے کہ اقتصادی ترقی کے عمل میں کسی ایک شخص کو بھی پیچھے نہیں چھوڑا جا ئے گا۔ چین اور دنیا کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مستقبل مزید روشن ہو جائے گا جو عالمی امن و ترقی کے لیے مزید کردار ادا کر سکے گا۔عالمی مبصرین کے مطابق 5برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کو اہم پذیرائی ملی ہے۔5 برسوں میں ایک سو سے زیادہ ممالک یا عالمی تنظیموں نے بیلٹ اینڈ روڈ کی حمایت کا اظہار کیا اوران میں 80سے زیادہ نے چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔پانچ برسوں میں اس منصوبے کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔مبصرین کے خیال میں اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے نے ترقی کے لیے دنیا کی خواہش پر توجہ دی ہے۔

تاحال چین نے بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کے ساتھ80 سے زیادہ آزاد تجارتی زونز قائم کیے ہیں اور ان ممالک کے لیے روزگار کے لاکھوں مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -